تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کامعاملہ: 27/ جولائی کو سپریم کورٹ جمعیۃ علما ہند کی پٹیشن پر سماعت کریگی

148

 نئی دہلی 20/ جولائی ۔ کروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پر آج سماعت عمل میں آئی لیکن وقت کی تنگی کی وجہ سے عدالت سماعت نہ کرسکی، عدالت نے اس معاملے کی سماعت 27/ جولائی کو کیئے جانے کا حکم جاری کیا۔

تین رکنی بینچ کے جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ابھئے اوکا اور جسٹس جے بی پاردی والاکو جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے بتایا کہ کو کیبل ٹیلی ویژن نیٹورک اور آئی ٹی قوانین فیک نیوز (جعلی خبریں) اور نفرت آمیز خبروں پر روک لگانے میں غیر موثر ثابت ہوئے ہیں لہذا ان قوانین پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے اور کس طرح سے جعلی اور نفرت آمیز خبروں پر روک لگائی جائے اور خبرین نشر کرنے والوں اداروں پر کیسے اور کیا کارروائی کی جائے اس پر میکانزم مرتب کرنیکی ضرورت ہے۔ عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے اور سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا کو کہا کہ وہ اس معاملے کی سماعت 27/ جولائی کو کریں گے۔

دوران سماعت عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، سیف ضیاء و دیگر موجود تھے۔
واضح رہے کہ مرکز نظام الدین کو بدنام کرنے والے نیوز چینلوں اور اخبارات پر کارروائی کرنے کے لیئے جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کی ہے جس میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی مدعی بنے ہیں۔
منافرت پر مبنی رپورٹنگ کرنے والے دیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی ہے سپریم کورٹ کی توجہ دلائی گئی ہے جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش رچی تھی۔