تبلیغی جماعت سے وابستہ12 انڈونیشیائی اراکین کی ضمانت منظور

download (1)جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیری کے نتیجہ میں ممبئی خصوصی عدالت کا اہم فیصلہ
ممبئی۔8 /مئی۔ (پریس ریلیز) انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت سے وابستہ  12  احباب جن پر پاسپورٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرکے غیر قانونی طریقہ سے انڈیا میں داخل ہونے،کرونا وائرس پھیلانے، اقدام قتل دفعہ 307   اور دفعہ 304 انڈین پینل کورٹ  دفعہ 14 اور سیکشن کوڈ 19  سینٹرل ایکٹ کے الزام میں گذشتہ پندرہ دنوں سے قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے جماعت کے ساتھیوں کی آج یہاں جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے لیگل ٹیم کی کامیاب پیروی کے نتیجہ میں ممبئی کی خصوصی عدالت سے پولیس کی جا نب سے ابھی تک ان کے خلاف عدالت میں کوئی ثبوت فراہم نہ کئے جانے کی بنیاد پر ضمانت کی منظوری عمل میں آئی ہے،جس سے جماعت سے وابستہ انڈونیشائی اراکین اور ممبئی جماعت کے ذمہ داروں کو کافی راحت حاصل ہوئی ہے۔ اس بات کی اطلاع آج یہاں اس مقدمہ کو مفت قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی نے دی ہے۔

واضح رہے کہ 29 فروری 2020  کو تبلیغی جماعت کے طریقہ کار کو دیکھنے کے لئے انڈونیشا کا ایک وفد انڈیا کے مرکز نظام الدین دہلی آیاچند دن قیام کے بعد ۶/مارچ کو انڈو نیشا کا وہ وفد بذریعہ ٹرین ممبئی پہونچا اور نوی ممبئی کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہا،ملک میں اچانک لاک ڈاؤن کے اعلان اور پھر مرکز کا معاملہ سامنے آنے کے بعد انہیں حراست میں لے کرکے باندرہ میں کورنٹائن کر دیا گیاتھا،ا ن کا ٹسٹ کرایا گیا جن میں سے10 لوگوں کی رپورٹ نگیٹیو آئی،کورنٹائن کی مدت مکمل ہوتے ہی پولیں نے انہیں گرفتار کرکے ان پر مختلف الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔  ان کی ضمانت کے لئے جمعیۃ لیگل سیل نے پہلے باندرہ میٹرو پولٹین مجسٹریٹ کورٹ میں درخواست ضمانت داخل کی، وہاں سے مسترد ہونے کے بعد ضمانت عرضداشت ممبئی سیشن کورٹ میں داخل کی گئی لیکن گرفتاری سے لے کر پولیس ان کے خلاف عدالت میں آج تک اپنے دعوی کے مطابق کوئی خاطر خواہ ثبوت پیش نہیں کر سکی ہے جس کی بنیاد پر ممبئی سیشن کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کردی ہے۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ ندیم صدیقی نے انڈونیشاء سے تعلق رکھنے والے جماعت کے ساتھیوں کی ضمانت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ مقدمہ ہمارے پاس پیروی کے لئے آیا تھا تو ہم نے اپنے ذرائع سے ان بارے میں مکمل معلومات حاصل کی، جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ یہ لوگ بے قصور ہیں اور پولیس نے ان پر زیادتی کرتے ہوئے بیجا گرفتار کیا ہے۔ ہم نے اپنے وکلاء سے صلاح ومشورہ کے بعد اس مقدمے کی پیروی کا فیصلہ کیا۔الحمدا للہ ہمارے وکلاء نے انتہائی محنت اور ایمانداری سے اس کی پیروی کی جس کے نتیجے میں عدالت نے ان کی ضمانت کو منظور کر لیا ہے۔اور دیگر دو انڈونیشائی جماعت کے ساتھیوں گرفتاری سے قبل ہی ضمانت منظور کی جاچکی ہے جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی جا نب سے اس مقدمہ کی پیروی  جمعیۃ لیگل کے سکریٹری ایڈوکیٹ پٹھان تہور خان کی نگرانی میں ایڈوکیٹ عشرت علی خان اور ایڈوکیٹ طارق سید  کررہے تھے۔