از: جرنلسٹ قاری ضیاءالرحمن فاروقی (ڈائریکٹر تحفظ دین میڈیا)

اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائشی حالات آئے ہوئے ہیں، بلکہ حالات تو بہت پہلے سے مختلف شکلوں میں آ ہی رہے ہیں، لیکن ان دنوں خصوصاً این آر سی اور کرونالاک ڈائون کے عرصہ میں جو حالات آئے وہ شاید پہلے کبھی اتنے سخت حالات ہونگےاس صدی کے اعتبار سے۔
ان حالات کے جتنے ذمہ دار فرقہ پرست لوگ ہیں اتنے ہی ہمارے اپنے لوگ بھی ہیں، ان میں ہرطبقہ کا فرد شامل ہے، اور اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں، اور اگر یہی حال رہا تو ہم کبھی متحد نہیں ہوسکینگے، اور پھر ہماری داستان بھی نہیں ہوگی داستانوں میں۔

یہ وقت ہے آپس میں اتحاد کا، پیار محبت بانٹنے کا، ایکدوسرے کو برداشت کرنے کا،ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنے کا، ایک دوسرے کو نبھانے کا، پھر چاہے وہ رشتہ دار ہو،دوست ہویا اپنا ایمان والا بھائی ہوبلکہ اس عمل کا مظاہرہ اپنے برادان وطن کے ساتھ بھی ہونا چاہئے،یہی وقت کا تقاضہ ہے،ایک جُٹ ہوکر آپس میں متحد ہوکر فرقہ پرستوں کو جواب دینے کا اور ظالموں سے مقابلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔

قارئینِ ہم نے بہت اختلافات کرلیئے ، بلکہ میں یہ کہونگا کہ نام اختلاف کا دیئے لیکن حقیقت میں اختلاف کے نام پر مخالفت کی، اور اس میں اتنے الجھ گئے کہ ہماری شان و شوکت اورشبیہ سب کو متاثر کردیا۔کبھی ہم نے تبلیغی جماعت کے نام پر اختلاف کیا، کبھی کسی مسلک کے نام پر اختلاف کیا، کبھی کسی تنظیم ، جماعت یا ادارہ کے نام پر اختلاف کیا،غرض یہ کہ جتنے بھی میدان تھے ہر میدان میں ہر کام کے نام پر ہم نے اختلاف کیا، اور کیا نتیجہ نکلا کہ ہم آپس میں ہی تکڑوں میں بنٹ گئے، اور جس قوم کو متحد ہونا تھا اپنے آپ کو اتنا ذلیل،رُسوا اور نقصان پہنچایا ہے کہ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہوگا۔ کئی زمانے گزرگئے ،لیکن آپسی اختلافات واقعی اختلافات تھے، علمی تھے، نظریاتی تھے، لیکن جب آپس میں لوگ ملتے تھے تو دل صاف ہوتے تھے، اختلاف کو اختلاف کے درجہ میں ہی رکھا جاتاتھا، لیکن آج اختلاف کے نام آپس میں مخالفتیں، دُشمنیاں اور نہ جانے کیا کیا سازشیں ہورہی ہے کہ بس اللہ ہی رحم کرے۔

اور معزز قارئین حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اسکا ذرہ برابر بھی احساس نہیں ہے، اور ہم اپنی اسی روش پر آج بھی چل رہے ہیں، ایسے سخت حالات کہ ہم نے خود دیکھا کہ ہماری مسجدوں کو تالے لگادیئے گئے، ہمیں تراویح اور دیگر عبادات سے محروم رکھا گیا،یہاں تک کہ ہمارے لیئے حرمین شریفین یعنی مکہ مدینہ تک کےدروازے بند کردیئے گئے، اور ہم پر اسکا ذرہ بھی احساس نہیں ہوا کہ اللہ ہم سب سے بہت ناراض ہیں،اور کونسی دلیل چاہئے ہمیں ، کیا ہم اب بھی نہیں سمجھتے کہ یہ سب ہمارے گناہوں اور اعمال کی وجہ سے ہوا ، وقتی طور پر سبھی لوگ مصنوعی احساس کا اظہار کرتے رہے، لیکن جو ں جوں حالات قابو میں آنے لگے پھر مسجدیں ویران ہونے لگ گئی، پھر آپسی مسائل شروع ہوگئے ،پھر وہی گناہوں بھری زندگی کے دلدل میں پھنسنے لگ گئے، آخر اس قوم کو کیا ہوگیا ہے، کیا کررہی ہے،کہاں جارہی ہے۔ بس اللہ ہی جانتا ہے۔ اور اگر اب بھی اتنے سخت حالات کے باوجود ہم آپس میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ہمیں فرقہ پرستوں اور دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں ،ہم خود ایک دوسرے کو ختم کرنے اور نقصان پہنچانے کیلئے کافی ہے۔

قارئین میں نے گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت امارت شوریٰ سے متعلق پرائم ٹائم کیا تھا، میرا مقصد یہ ہے کہ اب ان آپسی اختلافات کو چھوڑ کر متحد ہوجائیں، ان اختلافات سے بہت نقصان ہواہے اور ہورہاہے، دُنیا بھر میں مسلمانوں کی شبیہہ اس سے خراب کی جاچکی ہے۔ اور ہم ابھی بھی اسی میں لگے ہوئے ہیں، اور ایک حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ چند شدت پسند، شرپسند فتین کی وجہ سے پوری قوم کو اسکا خمیازہ بھگتنا پڑرہاہے، اور یہ شدت پسند مٹھی بھر ہے، ان لوگوں کا بس کا م ہی یہی ہے کہ آپس میں لڑائو،جھگڑے فساد کی شکلیں بنائو، اور توڑ نے کا کام کرو، بس یہی ان لوگوں کا مقصد ہے،ان میں سے کچھ لوگوں نے مجھے کال کی، بنا اجازت کال ریکارڈنگ کی اور غلط عنوان کے ساتھ اسکو بنااجازت سوشل میڈیا پر نشر بھی کیا، اور وہ خود اپنی اس حرکت سے ذلیل اور رُسوا بھی ہوئے، لیکن ان کی حس مرچکی ہے، ان جیسےلوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،ایسے لوگ بس ایسی حرکتوں کی تلاش میں رہتے ہیں، ایسے لوگ جس جماعت یا گروہ کا نام لے کر بھی بات کرتے ہیں وہ خود اس جماعت یا گروہ کے بڑوں کی نہیں مانتے، نہ علماء کی نہ خواص کی، اور عام آدمی کی بات ماننا تو دور کی ہی بات ہے۔

کوئی تبلیغی جماعت امارت کا نام لے کر انتشار پھیلانے کا کام کریگا، کوئی شوریٰ کا نام پر،کوئی کسی جماعت کے نام پر،کوئی اہل حدیث کے نام پر،کوئی بریلوی کے نام پر،کوئی کسی ادارہ یا کسی گروہ کے نام پر،یا کوئی کسی شخص کے نام پر،بس امت میں اور خاص طور سے قوم میں توڑ پیدا کرنے کا کام کریگا، ایسے لوگوں کو تو بس توبہ کرنا چاہئے، اور نہیں کرینگے تو اللہ کی پکڑ کا انتظار کرنا چاہئے، پھر عبرت کا نشان بنیگے دُنیا میں آخرت میں رُسوائی ملیگی تو پھر ہوش ٹھکانے آجائینگے، اور اس وقت افسوس اور پچھتاواکرکے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ابھی حال میں پٹنہ بہار امارت شرعیہ کا مسئلہ زوروں پر رہا، گزشتہ کئی دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کام چلتا رہا، بالاخر امیر شریعت منتخب ہوگئے، اب پھر سے سوشل میڈیا پر امیر شریعت کے خلاف تحریریں چلنا شروع ہوگئی ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ عالم ہی نہیں ہے، کوئی کہہ رہاہے کہ وہ ایسے ہیں، وہ ویسے ہیں، ارے میرے عزیزوں اگر ایسا ہے تو تُمیں خوش ہونا چاہئے کہ کوئی تو ہے اس میدان میں، اور اللہ پاک نے توخود فرمایا نا کہ اگر تُم اپنی ذمہ داریوں سے بھاگوگے تو پھر اللہ پاک ایسے لوگوں کو کھڑا کرینگے جو تم جیسے نہیں ہونگے لیکن تم سے بہتر کام کرینگے، بس سوچ کا فرق ہے، ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم خود میدان میں نہیں آتے، اور جو میدان میں ہیں انھیں کام بھی نہیں کرنے دیتے نہ انھیں قبول کرتے۔ جب ہمیں قوم وملت کا اتنا درد ہے،اتنی فکر ہے تو پھر میدان میں کیوں نہیں آتے، سوشل میڈیا پر اپنے گھر میں دبک کر بیٹھ کر ایک دوسرے کے مخالفت میں تحریریں لکھنا اور لوگوں کو فون کال کرکے پریشان کرنا ،بس ہمیں یہی آتا ہے، عملی طور پر ہم جو کرسکتے ہیں وہ بس یہی ایک کام ہے نہ خود کچھ کرو نہ دوسروں کو کرنے دو۔

مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں ،سوشل میڈیا پر ہر بات پر،ہر شخص پر،ہر جماعت پر تنقیدی انداز میں اشکالات اور اعتراضات کرتے ہیں انکی خود انکے گھر میں کوئی نہیں سنتا، اور اس کی وجہ بھی ہے کہ گھروالوں کو پتہ ہوتاہے کہ یہ بندہ خود کتنے پانی میں ہے،اور گھر والے بھی مجبوری میں ایسے لوگوں کو برداشت کررہے ہوتے ہیں،جب اپنے گھر میں اپنی بات کوئی نہیں سنتا تو قوم کیسے سنیگی، قوم کیسے مانے گی، اگر واقعی اخلاص اور لللہ یت سے کام کرتے تو یقیناً قوم سُنتی بھی اور مانتی بھی۔ لیکن بس ہمارا مسئلہ تعصب، انا اور ضدکا ہے، ہم کسی کو قبول کرنا ہی نہیں چاہتے، نہ ہم کسی کو بڑا ماننا چاہتے ہیں، نہ کسی کو قائد ماننا چاہتے ہیں، جو کا م علماء کا ہے علماء کوکرنے دیں، جو کام جس شعبہ کا ہے اس کو وہ کام کرنے دیں، اب ہورایہ کہ کوئی ڈاکٹر،انجینئر، حکیم ،پروفیسر کسی گروہ کا یاجماعت کا نام لے کر بڑے بڑے علماء اور اکابرین سے اختلافی مسائل میں بحث کررہاہے، اور انکو باتوں میں الجھا کر،ان پر طرح طرح کی منفی باتیں کس کر انکی کال ریکارڈنگ کو سوشل میڈیا پر غلط عنوان سے ڈال رہاہے، اس سے سب سے پہلے تو خود اسکی ذات کا نقصان ہورہاہے، قوم کا جو ہوگا وہ تو الگ ہے، ان جیسے لوگوں کی کوئی حیثیت،کوئی اوقات نہیں،نہ علم ہے ان کے پاس نہ عمل ، اور یہ حکیم بن کر،ڈاکٹربن کر،انجینئر بن کر مفتیان کرام اور علماء کرام کے سامنے آکر خود کو علامہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، اور منہ کی کھاتے ہیں۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم حق بات بھی وہی سُننا چاہتے جو ہمارے حق میں ہو، ہم ہمارے مزاج کی بات سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں۔

اور ایسے لوگ ہرطبقہ میں،ہرجماعت میں ،ہر تنظیم اور ہر ادارہ میں موجود ہیں، ان میں عوام بھی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ اس میں اہل علم حضرات یعنی کچھ علماء بھی ہیں۔

ہم صرف بڑا بننا پسند کرتے ہیں، کسی کو بڑابنانا یا اسکو بڑاماننا پسند نہیں کرتے، عملی طور پر ہم خود کچھ کرنے سے رہے، بس ہم ایک دوسرے میں کیڑے نکالنا جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔

ابھی حال میں حضرت مولانا کلیم صدیقی دامت برکاتہم کی گرفتاری ہوئی اور حضرت والا ابھی تک جیل میں ہے، اور وقت طور پر کچھ لوگوں نے آواز اٹھائی اور اب ہرجگہ پھر سے سنـناٹا چھایا ہوا ہے، نہ کوئی بڑے کچھ بولنے تیار ہے نہ کوئی چھوٹے، اور عام لوگوں کا تو بس پوچھو ہی مت۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم ایسا احتجاج کرتے کہ ساری دُنیا دیکھتی رہ جاتی، کہ ایک عالم کے اُوپر ہاٹھ ڈالاگیا،ایسے چوٹی کے عالم جس کا فیض دُنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہم ایسے عالم کے تعلق سے بھی مصنوعی احتجاج کرکے سیاست کرکے بیٹھ گئے، اور ایسا ہی رہا تو دوسرے بڑے علماء جو آج بھی قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں جیسے انھیں بھُلادیا گیا انھیں بھی بھلادیا جائیگا۔ لیکن انشاء اللہ اب ایسا نہیں ہوگا۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں، اپنے حقوق کی حقیقی لڑائی لڑنے کیلئے عملی طور پر میدان میں آجائیں، تب ہی یہ ممکن ہوگا۔

اسلئے میری آپ تمام سے اور خصوصاً ایسے لوگوں سے جو ان سب غیر ضروری اختلافی یا مخالفت والے کاموں میں خود کی صلاحیتوں کو ضائع کررہے ہیں ،حقیقی معنوں میں اپنی صلاحیتوں کو صحیح کاموں میں استعمال کریں، اللہ کیلئے باز آجائیں، اب بھی وقت ہے ، اب بھی وقت ہے، ہمیں ہر جگہ دھدکارا جارہاہے، ٹھکرایا جارہاہے، مررہے ہیں،مارا جارہاہے، کٹ رہے ہیں کاٹا جارہاہے، اگر اب بھی ہم ہوش میں نہیں آئے، اگر ہم ابھی متحد نہیں ہوئے تو پھر ہمیں کوئی نہیں بچا سکتا۔ خداکیلئے آپسی مسائل کو اور اختلافات کو ختم کریں، آپ جس مکتب فکر بھی ہو،جس مسلک کے بھی ہو،جس جماعت کے بھی ہو،جس تنظیم ،ادارہ کے بھی ہو،آپ شوق سے اپنے کام کریں ، لیکن خدا کیلئے ہم بحیثیت مسلمان جب وقت آیا تو سب ایک جگہ سارے اختلافات کے باوجود ایمان والے رشتہ کیلئے جمع ہوجائیں، اور ایک ہوکر فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب دیں، جب ہم ایسا کرینگے تو انشاء اللہ اللہ پاک ہماری شبیہہ جو خراب ہوئی اسے واپس بحال کردینگے۔ اور اللہ پاک جتنے راستے بند ہوئے ہیں سارے کھو ل دینگے۔اللہ پاک سے دعاء ہے کہ اللہ پاک اس قوم کے حالات کو بدل دے، اور عافیت کے ساتھ ایک دوسرے کو متحد ہونے کی توفیق عطا ء فرمائیں، آمین یارب العالمین

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔