تبدیلی مذہب کے بعد ذات سے تعلق برقرار نہیں رہ سکتا: مدراس ہائی کورٹ

294

چینائی: مدراس ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ایک شخص جس نے دوسرا مذہب قبول کیا ہے وہ اُس وقت تک تبدیلی مذہب سے پہلے کے کمیونٹی فوائد کا دعویٰ نہیں کرسکتا جب تک کہ ریاست کی طرف سے واضح طور پر اجازت نہ دی جائے۔

مدورائی بنچ کے جسٹس جی آر سوامی ناتھن ایک امیدوار کی درخواست کی سماعت کررہے تھے جس کے ذریعہ ٹاملناڈو پبلک سرویس کمیشن کی کارروائی کو چالینج کیا گیا تھا کہ اس کے ساتھ ”پسماندہ طبقہ (مسلم)“ کے طور پر برتاؤ نہیں کیا گیا اور مشترکہ سیول سرویس امتحانII (گروپIIسرویسس) میں ”جنرل زمرہ“ میں تصور کیا گیا۔

ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ آیا کسی ایسے شخص کو کمیونٹی ریزرویشن کا فائدہ دیا جاسکتا ہے جبکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ زیر سماعت ہے۔ لہٰذا ہائی کورٹ کو اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جیسا کہ ایس یاسمین کیس میں مشاہدہ کیا گیا ہے‘ کوئی شخص تبدیلی مذہب کے بعد اپنی برادری سے وابستہ رہنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔

آیا تبدیلی مذہب کے بعد بھی ایسے شخص کو تحفظات کا فائدہ دیا جانا چاہئے یا نہیں‘ یہ ایک سوال ہے جو سپریم کورٹ کے سامنے زیر التواء ہے۔ جب معزز سپریم کورٹ کو اس معاملہ سے واقف کرادیا گیا ہے تو اب یہ عدالت درخواست گزار کے دعویٰ کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔