چرو:راجستھان میں ایک شرمناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک ٹیچر نے معمولی سی بات پر طالب علم کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ معاملہ ریاست کے چرو ضلع واقع سالاسر کے گاؤں کولاسر کا ہے۔ یہاں ایک پرائیویٹ اسکول میں ساتویں درجہ کے طالب علم کو ٹیچر نے بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر مار دیا۔ 13 سالہ اس بچے کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، جس سے مبینہ طور پر ناراض ٹیچر نے اس کی جان لے لی۔

اس واقعہ کے تعلق سے سالاسر پولیس کے ایس ایچ او سندیپ بشنوئی کا کہنا ہے کہ کولاسر باشندہ اوم پرکاش نے ایک شکایت درج کرائی ہے۔ اوم پرکاش کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا گنیش کولاسر کے پرائیویٹ اسکول ماڈرن پبلک اسکول میں ساتویں درجہ کا طالب علم تھا اور دو تین ماہ سے اسکول جا رہا تھا۔ گنیش نے اپنے والد کو گزشتہ 15 دنوں میں تین سے چار بار شکایت کی تھی کہ اس کا ٹیچر منوج بے وجہ اسے مارتا ہے۔

شکایت کے مطابق بدھ کے روز گنیش اسکول گیا تھا اور پھر صبح تقریباً 9.15 بجے گنیش کے والد اوم پرکاش کو اسکول کے ملزم ٹیچر منوج کا فون آیا کہ گنیش ہوم ورک کر کے نہیں لایا ہے، اس لیے اس کی پٹائی کی گئی ہے اور وہ بیہوش ہو گیا ہے۔ کھیت میں کام کر رہے اوم پرکاش نے ملزم ٹیچر سے پوچھا کہ وہ بیہوش ہوا ہے یا مر گیا ہے؟ اس پر ملزم ٹیچر نے کہا کہ وہ مرنے کا ڈرامہ کر رہا ہے۔ کچھ وقت بعد اوم پرکاش اسکول پہنچا جہاں اس کی بیوی پہلے سے ہی موجود تھی۔ اسکول کے باقی بچے گھبرائے ہوئے تھے۔

خبروں کے مطابق بچوں کا کہنا ہے کہ ملزم منوج نے گنیش کو بے رحمی کے ساتھ لات گھونسوں سے پیٹا اور زمین پر پٹخ پٹخ کر پٹائی کی۔ اس بے رحمانہ پٹائی سے گنیش لہو لہان ہو گیا۔ گھر والوں کے پہنچنے کے بعد زخمی بچے کو سالاسار کے پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے گنیش کو مردہ قرار دے دیا۔

ایس ایچ او سندیپ بشنوئی کا کہنا ہے کہ مہلوک گنیش کے والد اوم پرکاش نے ٹیچر منوج کمار کے خلاف دفعہ 302 میں معاملہ درج کروایا ہے۔ پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے ملزم ٹیچر کو گرفتار کر لیا ہے۔ سالاسر پولیس نے بچے کی لاش کا سرکاری اسپتال کی مورچری میں رکھوا دی۔ یہاں تین ڈاکٹروں کے میڈیکل بورڈ سے مہلوک طالب علم کا پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔