لکھنؤ: اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے موہن لال گنج سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کے خانگی مناقشے کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور اب ان کی بہو انکیتا نے اپنے ہاتھ کی نس کاٹ کر خود کشی کی کوشش کی ہے۔ پولیس ذرائع نے آج یہاں یہ اطلاع دی کہ انکیتا نے گزشتہ شب اپنے ہاتھ کی نسیں کاٹنے سے قبل ایک ویڈیو جاری کیا تھا، جس میں اس نے اپنے شوہر آیوش کشور اور اس کے والدین پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

پولیس نے بتایا کہ انکیتا اسکوٹی سے دوبگا میں واقع کوشل کشور کے گھر پہنچی اور ہاتھ کی نسیں کاٹ لیں۔ رگ کٹنے سے پہلے وائرل ویڈیو کے بعد کاکوری پولیس انکیتا کی تلاش کر رہی تھی۔ ہاتھ کی نسیں کاٹنے کے بعد پولیس نے انکیتا کو سول اسپتال میں داخل کرایا۔ اسپتال میں انکیتا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت ٹھیک ہے۔ اسپتال میں انکیتا نے اپنے شوہر آیوش اور اس کے والدین پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انکیتا نے کہا کہ انہیں پولیس انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے۔ اس معاملے میں اس کی سنوائی نہیں ہو رہی ہے، اسی لئے اس نے یہ قدم اٹھایا۔ قابل غور ہے کہ رگ کاٹنے سے چند گھنٹے قبل انکیتا کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی جس میں اس نے روتے ہوئے آیوش کشور اوراس کے اہل خانہ پر یہ کہتے ہوئے سنگین الزام لگایا اور اپنی جان دینے کی بات کر رہی تھی۔

انکیتا نے یہ بھی کہا کہ آیوش نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اس سے قبل آیوش کشور نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا اور اپنی اہلیہ پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اس نے ویڈیو میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ انکیتا سنگھ نے ان کو پھنسایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سرینڈر کردے گا۔ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ اس نے خود پر گولی نہیں چلوائی۔ اگر وہ اس دن گھر میں ہوتا تو اسے قتل کر دیا جاتا۔ آیوش کشور اتوار کے روز خود مڈیاواں پولیس اسٹیشن پہنچا اور بیان ریکارڈ کرایا۔ آیوش نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلحہ ان کے دوست چندن گپتا نے انہیں دیا تھا۔ آیوش نے آدرش اور اس کی بہن پر بھی سازش رچنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ بے قصور ہیں۔