کلکتہ 10جون (یواین آئی) اب جب کہ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس کی حکومت قائم ہوچکی ہےتو مسلم تنظیموں اور لیڈروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوی کی تعلیمی ،معاشی پسماندگی کے خاتمے کےلئے حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے اور حکومت پر صحیح سمت میں اقدامات کرنے کےلئے لیڈر شپ کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔اگر مسلم مسائل سے چشم پوشی کی گئی تو یہ مسلمانوں کےلئے خودکشی ثابت ہوگا۔


’’وزارت اعلیٰ کے عہدے پرممتا بنرجی کی تیسری مدت اورمغربی بنگال کے مسلمان‘‘کے عنوان سے منعقد ’’خصوصی ٹاک شو‘‘ میںحصہ لیتے ہوئے جادو پوریونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر عبد المتین نے کہا کہ 2006میں سچر کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بنگال میں مسلمانوں کی تعلیمی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کے خاتمے کےلئے حکومت پر دبائو قائم ہوا تھا۔اس کے نتیجے میں بائیں محاذ حکومت کو اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کےلئے عالیہ یونیورسٹی قائم کرنا پڑا۔اس کے علاوہ اوبی سی کوٹے کے تحت ریزرویشن دینا پڑا ۔مگر 2016 کے بعد مسلمانوں کی سیکورٹی کا ایشو حاوی ہوگیا اور برابری اور یکساں مواقع کی فراہمی کا ایشو پس پردہ چلا گیا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج اسی سیکورٹی ایشو کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی اور اس کے عروج کے خوف سے مسلمانوں کو اپنے بنیادی مسائل سے چشم پوشی خودکشی کے مترادف ہوگا۔


عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد ریاض نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ممتا بنرجی کے پہلے دور اقتدار میں اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کی طرف توجہ دی گئی اور بہت سارے اقدامات کئے گئے مگر وقت گزرنے کے ساتھ بالخصوص 2014میں مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ہی مسلمانوں کی ترقی کا ایشو غائب ہوگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس کےلئے حکومت سے کہیں زیادہ مسلم تنظیمیں اور ادارے ذمہ دار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ انتخابات میں ترنمول کانگریس کے انتخابی منشور سے مسلم ایشو غائب تھا مگر سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات سے قبل مسلم تنظیموں اور اداروں کی جانب سے چارڈر آف ڈیمانٹ پیش کیا گیا۔انہوں نے مسلم لیڈر کی کوالیٹی کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں ممتا بنرجی نے مختلف مذاہب کے نمائندوں سے ملاقات کی اس میں مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے جو مطالبات پیش کئے ہیں اس سے مسلم لیڈر شپ کا فقدان ظاہر ہوتاہے۔


اس سوال پر کہ اگر مسلمانوں کے دبائو میں بائیں محاذ حکومت عالیہ یونیورسٹی اور اوبی سی ریزرویشن حکومت دے سکتی ہے تو پھر یہ مسلم لیڈرشپ کہاں غائب ہوگئی۔عبد المتین کہتے ہیں کہ جمعیۃ علماہند اور جماعت اسلامی کا دائرہ مسلمانوں میں محدود ہے۔وہ خاص طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں ۔فرفرہ شریف کا تعلق عام مسلمانوں سے ہی۔دیہی علاقوں میں فرفرہ شریف کی مضبوط پکڑ ہے تاہم فرفرہ شریف بھی حکومت پر دبائو بنانے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فرفرہ شریف کے پیر زادہ عباس صدیقی کی قیادت میں ایک سیاسی جماعت کا وجود اور مسلم ایشوز کو انہوں نے جس طریقے سے اٹھایا گرچہ اس کا اثر اس وقت نہیں ہوا مگر یہ مسلمانوں کےلئے سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے اگر یہ جماعت حکمت عملی سے کام کرے گی۔


خصوصی بات چیت میں شریک حسین رضوی کہتے ہیں کہ جس طریقے مسلمانوں نے بی جے پی کو روکنے کےلئے متحد ہوکر ترنمول کانگریس کو ووٹ دیا ہے اب ممتابنرجی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے مسائل پر توجہ دیں۔مگر وہ کہتے ہیں حقوق اسی وقت ملتے ہیں جب لیڈر شپ بیدا ر ہوا مگر مسلمانوں کا اس معاملے میں بدنصیبی ہے کہ اس کے پاس ایسی کوئی بھی لیڈر شپ نہیں ہے جو مسلمانوں کے ایشو ز کو اٹھاسکے۔سب سے کے سب اپنے مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیڈر شپ کو کلکتہ تک محدود کردیا گیا ہے اور یہ لیڈر شپ دیہی علاقے کے مسائل سے نابلد ہیں ۔پروفیسر محمد ریاض کہتے ہیں حکمراں جماعت ترنمول کانگریس میں مسلم لیڈر شپ کا فقدان رہا ہے۔بالخصوص سلطان احمد کی موت کے بعد تو خلا زیادہ بڑا ہوگیا ہے۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی ترنمول کانگریس کے نو منتخب جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پارٹی کے سینئر لیڈروں سے ملاقات کی اور ان سے آشیرواد لے کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ پارٹی کے سینئر لیڈروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔مگر ان میں سے ایک بھی مسلم لیڈر نہیں تھا۔ایسا اس لئے ہے کہ ترنمول کانگریس میں اس سطح کا کوئی لیڈر ہے نہیں جو ابھیشیک بنرجی کو مشورہ دے سکے۔


انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کے معاشی مسائل کو حل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں تعلیم کا شعور پیدا ہوا ہے اور بہت سے ادارے تعلیمی شعبے میں کام کررہے ہیں اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں ۔مگر مسلمانوں کو اوبی سی کوٹے سے جو ریزرویشن حاصل ہے اس کا فائدہ نہیں پہنچ پارہا ہے۔اس کےلئے ضرورت اس بات کی ہے مسلم دانشوروں اور جماعتوں کا ایک ایسا گروپ تیار کیا جائے جو حکومت پر دبائو بناسکے ۔


پروفیسر عبدالمتین کہتے ہیں اس کےلئے صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پسماندہ طبقات، دلت اورشیڈول ٹرائب کے سنجیدہ طبقات کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کے حصول کی جدو جہد کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ مالد ہ اور مرشدآباد جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں بھی آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کی نمائندگی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ صرف نعروں سے کام نہیں چلتے ہیں بلکہ اقدامات کرنے ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملی الامین کالج حکومت شاہی کی لاپرواہی کی وجہ سے اب بھی صحیح سے نہیں چل رہاہے ۔یہی صورت حال مرشدآباد یونیورسٹی کا ہے ۔حکومت نے ایک کالج کو ہی یونیورسٹی کا درجہ دیدیا ہے۔جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مرشدآباد یونیورسٹی کےلئے علاحدہ کیمپس کے قیام کی ضرورت تھی ۔