غازی آباد:اتر پردیش کے ضلع غازی آباد واقع بی جے پی دفتر میں ریاستی ایگزیکٹیو کی میٹنگ چل رہی تھی جب دو لیڈران آپس میں کسی بات کو لے کر دست و گریباں ہو گئے اور انھوں نے ایک دوسرے پر لات-گھونسے تک چلا دیے۔ اس واقعہ میں بی جے پی لیڈر پون گویل زخمی ہو گئے جنھیں فوری طور پر علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ بی جے پی لیڈروں کی آپسی لڑائی کے بعد جہاں ایک طرف پارٹی کی بدنامی ہو رہی ہے، وہیں آپسی انتشار کا اندیشہ بھی کافی بڑھ گیا ہے۔

دراصل غازی آباد بی جے پی دفتر میں ریاستی ایگزیکٹیو کی میٹنگ ورچوئل انداز میں چل رہی تھی۔ اس میٹنگ میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈّا کے علاوہ کئی دیگر بڑے لیڈران بھی شریک تھے۔ اسی دوران سابق رکن اسمبلی پرشانت چودھری اور پون گویل کے درمیان کسی بات کو لے کر تنازعہ شروع ہو گیا۔ دونوں کےد رمیان جب مار پیٹ شروع ہوئی تو نڈّا اور دیگر لیڈران بھی حیران رہ گئے۔ اس مار پیٹ میں بری طرح زخمی پون گویل کو بی جے پی دفتر میں موجود دیگر لیڈران و کارکنان نے اسپتال میں داخل کرایا۔ یہاں قابل غور ہے کہ پون گویل اور پرشانت چودھری دونوں ہی ریاستی ایگزیکٹیو کے رکن ہیں۔

اس واقعہ کے تعلق سے بی جے پی کونسلر منوج گویل نے بتایا کہ میٹنگ میں پرشانت چودھری نے پون گویل اور ویشیہ سماج کے لوگوں کے تعلق سے کچھ نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا جس کی مخالفت پون گویل نے کی۔ اس مخالفت سے ناراض پرشانت چودھری نے مار پیٹ شروع کر دی۔ منوج گویل نے مزید بتایا کہ پرشانت چودھری بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں اور اگر اس طرح دوسری پارٹی کے لیڈران بی جے پی میں شامل ہو کر مار پیٹ اور غنڈہ گردی کریں گے تو بی جے پی کی شبیہ بگڑ جائے گی۔

بہر حال، اس پورے واقعہ کے بعد ویشیہ سماج کے لوگ پرشانت چودھری سے کافی ناراض ہیں۔ ویشیہ سماج سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ اس اسپتال کے احاطہ میں دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں جہاں پون گویل زیر علاج ہیں۔ دھرنے پر بیٹھے لوگ بی جے پی سے پرشانت چودھری پر کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ویشیہ سماج کے لوگوں نے پولیس میں تحریری شکایت بھی دے دی ہے اور گزارش کی ہے کہ جلد از جلد پرشانت چودھری کو گرفتار کیا جائے۔