بی جے پی کی سیاسی فائدے کیلئے فلم “رضا کار” سے پرامن ماحول کو مکدر کرنے کی سازش

حیدرآباد: کارگزار صدر بی آر ایس و ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راماراؤ نے کہاکہ تلنگانہ میں پرامن فرقہ وارانہ صورتحال کو بگاڑنے اور سیاسی پروپگینڈہ کو فروغ دینے کے لیے چند ذہنی طور پر دیوالیہ بی جے پی کے جوکروں کی جانب سے مسلسل کوشش جاری ہے۔

واضح رہے کہ بی جے پی جس نے مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے وقت کشمیر فائلس‘کرناٹک اسمبلی انتخابات سے قبل دی کیرالا اسٹوری‘فلم ریلیز کرواکر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی اب تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کے تناظر میں رضاکار فلم بنائی گئی ہے۔

اس فلم کو جی نارائن ریڈی نے پروڈیوس کیاہے جبکہ وائی ستیہ نارائنا نے ہدایت دی ہے۔ حالیہ عرصہ میں اس فلم کا ٹریلر جاری کیاگیا جس سے تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ اس فلم کا پس منظر1948 کے حالات ہیں۔

1948 میں حکومت نظام کے خاتمہ کے بعد پولیس ایکشن کے ذریعہ حیدرآباد کو ہندوستان میں ضم کیاگیاتھا۔ فلم میں مسلمانوں کو مجرموں کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی۔فلم کا ٹریلر دیکھنے کے بعد سماجی پلاٹ فارمس پر دانشور طبقہ‘مذہبی قائدین اور سیاسی قائدین کی جانب سے فلم پر شدید اعتراضات کئے جارہے ہیں۔
تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے فلم بنانے اور سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے جھوٹی فلم بناکر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

اس تناظر میں ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے سماجی پلاٹ فارم ایکس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ چند ذہنی طور پر دیوالیہ کے حامل خود ساختہ بی جے پی کے دانشوروں کی جانب سے شخصی مفادات کی تکمیل کے لیے تلنگانہ کے پر امن ماحول کو بگاڑنے کوشاں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ رضا کار فلم کے معاملہ کو سنسر بورڈ سے رجوع کریں گے۔ تلنگانہ پولیس بھی امن و امان کی برقراری میں نقص پیدا ہونے نہیں دینگی۔