بی جے پی کو کشمیر میں مسلمان لیڈر کی ضرورت کیوں ہے؟

ریاض مسرور بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر

349

انڈین نیشنل کانگریس کے قدآور رہنما غلام نبی آزاد نے پارٹی چھوڑ کر جموں کشمیر کی سیاست میں واپسی کا اعلان کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ’کشمیر ایجنڈا‘ میں ترمیم کی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ قربت اور کشمیر سے متعلق غیر مبہم اور قوم پرست خیالات رکھنے والے آزاد نے اگر نیا سیاسی محاذ بنایا اور بی جے پی کے ساتھ کوئی خفیہ یا اعلانیہ سمجھوتہ کیا تو بی جے پی جموں کشمیر میں ہندو چیف منسٹر بنانے کے اپنے دیرینہ مطالبے کو ترک بھی کرسکتی ہے۔انڈیا کے پانچ وزرائے اعظم کی کابینہ میں گذشتہ پچاس سال کے دوران اہم وزارتوں پر فائز رہنے والے غلام نبی آزاد نے سونیا گاندھی اور راہُل گاندھی کی کانگریس پارٹی کو چھوڑ کر جموں کشمیر کی سیاست میں کلیدی کردار نبھانے کا اعلان گذشتہ ہفتے کیا۔

اس اعلان کی دیر تھی کہ جموں کشمیر میں 100 سے زیادہ کانگریس رہنماؤں اور درجنوں چھوٹے بڑے کارکنوں نے اُن کی حمایت میں پارٹی چھوڑ دی۔کانگریس کے لیے آزاد کا یہ اعلان نہ صرف کشمیر بلکہ قومی سطح پر سیاسی زلزلہ تھا۔ کیونکہ وہ کانگریس کی فیصلہ ساز ورکنگ کمیٹی کے دیرینہ رکن ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے ’ٹاپ ٹین‘ رہنماؤں میں شامل تھے۔کانگریس نے اپنے ردعمل میں آزاد کو ’بی جے پی کا ایجنٹ‘ قرار دیا ہے اور اکثر سیاسی حلقے انھیں کشمیر میں نریندر مودی کی ’پراکسی‘ قرار دے رہے ہیں۔صحافی اور تجزیہ نگار احمد علی فیاض نے ٹویٹ میں کہا: ’آزاد کے حریفوں کے لیے انھیں بی جے پی کا ایجنٹ کہنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دونوں نے باری باری بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں شراکت داری کی ہے۔‘
کشمیر میں پراکسی پالیٹکس کے 75 سال:اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ سیاسی گروپوں یا رہنماؤں کو نئی دلی کا ایجنٹ کہنے کی روایت شیخ محمد عبداللہ نے 1947 میں قائم کی تھی جب وہ اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف مزاحمت ترک کر کے اُن ہی کی ماتحتی میں کشمیر کے ایمرجنسی ایڈمنسٹریڑ بن گئے۔ بعد میں اُن کو بھی اِندرا گاندھی کی پراکسی کے طور کشمیر میں سیاست کرنا پڑی تھی۔جموں سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور معروف تجزیہ نگار ظفر چودھری کہتے ہیں کہ: ’جموں کشمیر میں سبھی سیاسی جماعتیں نئی دلی کی پراکسی ہی تو رہی ہیں۔‘’فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے وہ کشمیر میں کانگریس کے ایجنڈے کی آبیاری کرتے تھے اور اب وہ بی جے پی کے عزائم کو پورا کر رہے ہیں۔‘ظفر کہتے ہیں کہ آزاد کا پس پردہ ایجنڈا جو بھی ہو، لیکن اُن کی جموں کشمیر کے سیاسی منظرنامے پر دھماکہ خیز واپسی سے بی جے پی کو نہیں بلکہ علاقائی پارٹیوں کو زیادہ نقصان ہوگا۔ظفر چودھری اور بعض دیگر مبصرین کے مطابق ’آزاد کو دفعہ 370 ہٹنے سے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ اس پر مطمئن ہیں، لہذا اگر انھیں جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں سیاسی قوت حاصل بھی ہوتی ہے تو بی جے پی اُن کے ساتھ کوئی نہ کوئی سیاسی سمجھوتہ کر سکتی ہے۔‘’ظاہر ہے آزاد اس نئے سیاسی اتحاد کا چہرہ ہوں گے اس لیے ہندو وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ جموں کا رہنے والا مسلمان ہی وزیر اعلیٰ ہوسکتا ہے۔‘

کیا آزاد کے لیے وزیر اعلی بننا آسان ہے؟:معروف تجزیہ نگار تَرُون اُپادھیائے کہتے ہیں کہ دھماکے دار اعلان کر کے میڈیا ہائپ پیدا کرنا ایک الگ بات ہے۔ ’مسئلہ الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کا ہے۔ جس کانگریس کو آزاد نے چھوڑا ہے وہ جموں میں ہندوؤں کو رِجھانے کے لیے سافٹ ہندوتوا کا کارڈ ماضی میں کھیل چکی ہے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’1983 میں کانگریس کی جیت ہندو کارڈ کے ذریعے ہی ہوئی تھی۔ اب جبکہ آزاد مدمقابل ہوں گے تو کانگریس ایسا پھر سے کرسکتی ہے۔ اور آزاد حالیہ پارلیمانی انتخابات جموں سے ہی ہار چکے ہیں‘تَرُون کہتے ہیں کہ محض آزاد کی شبیہ پر الیکشن نہیں جیتا جاسکتا۔اس خیال سے ظفر چودھری بھی متفق نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’آزاد کی پورے جموں کشمیر میں ایک سیاسی پہچان ہے۔ لیکن اگر انتخابات اس سال نہیں ہوئے تو اُن کے حمایتیوں میں جو جوش اس وقت ہے وہ ٹھنڈا پڑ سکتا ہے۔‘تاہم بعض مبصرین کہتے ہیں کہ آزاد دراصل بی جے پی کی کشمیر پالیسی کا ایک تازہ مہرہ ہیں۔نئی دلّی میں مقیم معروف تجزیہ نگار بھارت بھُوشن کہتے ہیں: ’بی جے پی آزاد کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے ہندو وزیر اعلیٰ کا مطالبہ ترک کرسکتی ہے۔ آزاد کشمیری نہیں بلکہ جموں کے رہنے والے ہیں اور باقاعدہ مسلمان ہیں۔’اگر وہ کشمیر کے وزیراعلیٰ ہوتے ہیں تو مودی حکومت مغربی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرسکتی ہے کیونکہ خلیجی ممالک کے ساتھ انڈیا کے داخلی اور عالمی سطح کے مفادات وابستہ ہیں۔‘

کیا آزاد کی نظر دلی کے تخت پر ہے؟:آزاد بے شک ایک کشمیری سیاست دان ہیں، لیکن وہ نصف صدی سے انڈیا کی قومی سیاست کے نمایاں رہنما رہے ہیں۔کانگریس پارٹی میں چند برسوں سے چل رہی اتھل پتھل کے بیچ جب کئی کانگریسی رہنماؤں نے پارٹی کو گاندھی خاندان سے الگ کر کے جمہوری طور پر نیا صدر منتخب کرنے کی پہل کی تھی تو آزاد اس میں شامل تھے۔کُل ملا کر یہ 23 رہنما تھے اور اسے کانگریس کے اندر ناراض رہنماؤں کا گروپ یا جی 23 کہا گیا۔ آزاد نے کانگریس سے علیحدگی کا اعلان کیا تو جی 23 کے کئی رہنماؤں نے دلی میں اُن کے ساتھ ملاقات کی۔بعض حلقے تو کہتے ہیں کہ آزاد کی حالت پنچاب کے کیپٹین امریندر سنگھ جیسی ہوگی، یعنی نہ قومی سیاست میں حصہ ملا نہ پنجاب میں کوئی کردار۔بھارت بھوشن بھی مانتے ہیں کہ آزاد کی نظر دلی کے ہی تخت پر ہوگی اور وہ بالآخر قومی سیاست میں بڑا کردار ادا کرنا چاہیں گے۔ لیکن اس کے لیے آزاد کو دلی میں بیٹھے بڑے کانگریس رہنماؤں کی ضرورت ہوگی۔بھارت بھوشن کے مطابق ’ایسے وقت میں جب راہُل گاندھی نے ’بھارت جوڑو‘ مہم چھیڑ رکھی ہے، آزاد نے راہُل کے خلاف پروپیگنڈا مہم چھیڑ دی ہے جس سے بی جے پی کا کام آسان ہوگیا ہے۔’تاہم اگر راہل کی یہ مہم کامیاب ہوئی اور اس سال کے آخر میں ہماچل پردیش کے انتخابات میں کانگریس کو جیت ہوئی تو کوئی بڑا لیڈر آزاد کو جوائن نہیں کرے گا۔‘
کیا یہ کشمیر میں سیاست کی بحالی ہے؟:یہاں کے سیاسی و سماجی حلقے آزاد کی کشمیر کی سیاست میں واپسی کو ایک مثبت تبدیلی‘ سمجھتے ہیں۔ایک سیاسی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کی سیاست پر جیسے کسی نے پاز بٹن دبایا تھا۔ سیاست دان یا تو نظربند رہے یا مختلف مقدموں میں سماعتوں کے ساتھ مصروف رہے۔‘’آزاد کی واپسی ایک بڑا واقعہ ہے، لگتا ہے اب سیاسی سرگرمیاں ہوں گی۔‘ایسے کئی دیگر سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ’ایک غیر منتخب گورنر انتظامیہ چلا رہا ہے اور تقریروں میں سیاست دانوں کی کردار کُشی کرتا ہے۔ آزاد کی واپسی سے کم از کم مین سٹریم سیاست بحال ہوجائے گی۔‘تاہم کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ کشمیر کی سیاست کو دلی مخالف نظریات سے پاک کرنے کا عمل کئی سال سے جاری ہے۔معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہارون ریشی کہتے ہیں: ’یہاں کی سیاست دلی کے خلاف نعرے بازی اور بیان بازی پر مبنی تھی۔ مودی حکومت نے اُس ٹرینڈ کو ختم کرنے کا اعلان بہت پہلے کیا تھا۔ آزاد بظاہر تو سیکولر لیڈر ہیں لیکن کشمیر پر مودی حکومت کی پالیسی کے ساتھ انھوں نے ابھی تک کوئی اختلاف نہیں کیا۔’ایسے میں بی جے پی کو اُن کے ساتھ کوئی مفاہمت کرنے میں حرج نہیں ہوگا۔ سیاست ضرور بحال ہوگی لیکن اب یہ سیاست تعمیر و ترقی اور انتظامی اصلاحات پر مبنی ہوگی۔‘ان کا خیال ہے کہ ’ہند پاک دوستی اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ ڈائیلاگ بی جے پی کی نئی پلے بُک میں نہیں ہیں۔‘