لکھنؤ:12جنوری(یواین آئی) یوپی کابینہ سے استعفی دینے کے ایک دن بعد سابق وزیر لیبر سوامی پرساد موریہ کے خلاف یوپی کی ایم پی۔ ایم ایل اے عدالت نے بدھ کو ان کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔جونپور کی ایم پی۔ ایم ایل اے کورٹ کے مجسٹریٹ یوگیش یادو نے سابق وزیر کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے کہا غیر ضمانتی وارنٹ کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں 24جنوری کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

قابل ذکر ہے کہ وکیل انل کمار تیواری نے میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سال 2014 میں ایک شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت کے مطابق اس وقت کے بی ایس پی لیڈر سوامی پرساد موریہ نے کہا تھا کہ’شادی کی تقریبات میں دیوی دیوتاؤں کی پوجا نہ کی جائے جس سے ہندو مذہبی طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے‘۔

سال 2014 کے 22نومبر کو مجسٹریٹ نے موریہ کو تعزیرات ہند کی دفعہ 295اے کے تحت مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کا سمن بھیجتے ہوئے ٹرائل کا حکم دیا تھا۔موریہ نے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف سیشن کورٹ میں عرضی داخل کی تھی جسے 09نومبر سال 2015 کو سیشن کورٹ نے خارج کردیا تھا۔جب مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تو موریہ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا جہاں 12جنوری 2016 کو ہائی کورٹ نے اس پر اسٹے لگا دیا تھا۔حال ہی میں سپریم کورٹ نے ایم پی ۔ایم ایل اے کورٹ میں چھ مہینے سے زیادہ مدت سے زیر التواکیسز پر لگے اسٹے کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔ساتھ ہی عدالت عظمی نے یہ بھی کہا تھا کہ مجسٹریٹ کورٹ میں چلنے والا ٹرائل اب لور کورٹ میں چلے گا۔

سوامی پرساد موریہ کے خلاف 12جنوری کوغیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔جب سوامی پرساد موریہ مذکورو بالا تاریخ پر عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔کابینہ سے استعفی دینے والے سوامی پرساد موریہ کے بارے میں قومی امکانات ہیں کہ وہ جمعہ کو سماج وادی پارٹی کی رکنیت اختیار کرسکتے ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں