بی جے پی نے مہاراشٹر میں حکومت تو بنا لی، لیکن اپنا گھر کیسے سنبھالے گی!

27

ممبئی:(ایجنسیز)مہاراشٹر میں شیوسینا کے باغی اراکین اسمبلی کی مدد سے بی جے پی نے اقتدار بھلے ہی حاصل کر لی، لیکن ان مددگار اراکین اسمبلی کو لے کر بی جے پی کے اندر ہی کھلبلی ہے۔ بی جے پی سے الگ ہو کر شیوسینا نے جب کانگریس اور این سی پی کے ساتھ حکومت بنائی تھی تو کئی بی جے پی لیڈروں نے سہولت والی سیٹ کے خیال سے انتخابی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ اب انھیں بریک لگانا پڑ رہا ہے کیونکہ سب سے بڑا سوال تو یہی ہے کہ شیوسینا کے باغی اراکین اسمبلی کو ٹکٹ تقسیم کے وقت بی جے پی کتنی توجہ دے گی۔بی جے پی اور شیوسینا نے 2014 انتخاب میں الگ الگ کھڑی ہوئی تھی۔ بی جے پی نے 260 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے اور 122 سیٹیں جیتی تھیں۔ شیوسینا نے 282 سیٹوں پر امیدوار کھڑے کیے تھے اور 63 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

2019 میں بی جے پی اور شیوسینا نے ساتھ مل کر انتخاب لڑا تھا اور اس وقت بی جے پی 106 اور شیوسینا 56 سیٹیں ھاصل کر پائی تھی۔ 2014 کے مقابلے میں بی جے پی کو 2019 میں باغیوں نے خاصہ نقصان پہنچایا تھا۔ 2024 انتخاب میں یہ حالات زیادہ سنگین ہوں گے کیونکہ اس بار باغیوں کی تعداد زیادہ ہی ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی امکان بھی زیادہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے ساتھ تال میل بنا کر الیکشن لڑے۔ ایسی حالت میں بی جے پی چاروں طرف سے پھنس سکتی ہے۔دراصل 2019 میں بھی دوسری پارٹی سے آنے والے لیڈروں کو بی جے پی نے ٹکٹ دیا تھا۔ اس سے ناراض ہو کر بی جے پی کے کچھ باغی امیدوار میدان میں تھے۔ ان پر بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس کی دھمکی کا اثر نہیں ہوا تھا اور ان لوگوں نے امیدواری واپس نہیں لی تھی جس سے آخر کار پارٹی کو ہی نقصان ہوا تھا۔

یہ بھی دھیان رکھنے کی بات ہے کہ 2014 انتخاب میں جہاں چھوٹی پارٹیوں اور امیدواروں نے 14 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے وہیں 2019 میں یہ نمبر 23 فیصد پر پہنچ گیا تھا۔ انھیں ملے ووٹ بی جے پی سے کچھ ہی کم رہ گئے تھے۔ بی جے پی کو 25.7 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس بار چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کے ساتھ ساتھ تین بڑی پارٹیوں کا ممکنہ اتحاد بی جے پی کو انتخابی میدان میں زیادہ پریشان کر سکتا ہے۔ویسے سیاسی تجزیہ کار ابھے دیشپانڈے کہتے ہیں کہ بی جے پی کا سیاسی ایکویشن الگ ہے۔ پارٹی میں ایسے لیڈر بہت ہی کم ہیں جو قدآور ہوں لیکن وہ 2019 میں انتخاب ہار گئے ہوں۔ اس لیے آئندہ انتخاب میں اس قسم کے نقصان کی پارٹی قیادت کو کم اندیشہ ہے۔ ویسے بھی ریاست میں حکومت بننے کے بعد بی جے پی کے پاس ناراض لیڈروں کو خوش کرنے کے بہت سارے راستے ہیں۔ کچھ قدآور لیڈروں کو گورنر کوٹے سے قانون ساز کونسل کی رکنیت دلانے کی کوشش ہوگی اور کچھ کو دوسرے مقامات پر فِٹ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بی جے پی کو ایک سینئر لیڈر نے نام نہیں شائع کرنے کی شرط پر کہا کہ فڑنویس جس طرح دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو پارٹی میں لا رہے ہیں، ان کی حمایت حاصل کر رہے ہیں،

اس سے ابھی سے ہی باہریوں کی ایک بڑی فوج تیار ہو گئی ہے۔2019 اسمبلی انتخاب میں بی جے پی نے 105 سیٹیں جیتی تھیں اور اب جو حالات بن رہے ہیں اس میں 2024 میں 100 سے زیادہ باہریوں کو ٹکٹ دینا پڑ سکتا ہے۔ ان باہریوں میں مراٹھا زیادہ ہیں اور ان کو ناخوش کرنا پارٹی کے لیے بھاری پڑے گا لیکن پارٹی کے اندر ناراضگی فطری طور پر بڑھے گی۔ کانگریس کے سابق قانون ساز کونسل رکن اننت گاڈگل بھی مانتے ہیں کہ شیوسینا کے باغیوں سے پہلے بھی دوسری پارٹیوں کے لیڈروں کو بی جے پی نے اپنے گھر میں جگہ دی ہے جس سے بی جے پی میں پہلے سے ہی ناراضگی ہے۔ پارٹی کے پرعزم کارکنان اور انتخاب ہارنے والے امیدواروں کی امید پر جب پانی پھرے گا تب اس کا نقصان 2024 انتخاب میں بی جے پی کو اٹھانا پڑے گا۔شیوسینا کے ایک رکن اسمبلی نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر کہا کہ اس بار ہماری پارٹی زیادہ مینڈیٹ کے ساتھ میدان میں جائے گی

کیونکہ ہم نے حکومت چلاتے ہوئے یہ دکھا دیا کہ ہمارا ہندوتوا مسلم مخالف نہیں ہے اور ہم سب کا ہر طرح سے خیال رکھ سکتے ہیں جب کہ بی جے پی ملک بھر میں یک فریقی طریقے سے کام کر رہی ہے۔ اچھی بھلی چلتی حکومت گرانے کے لیے جس طرح کی سازش تیار کی گئی، وہ بھی سب کو دیکھنا ہوگا۔ اسی لیے لوگ بی جے پی کے ساتھ ساتھ شیوسینا کو دھوکہ دینے والے لیڈروں کو بھی انتخابات میں مزہ چکھائیں گے۔