بی جے پی لیڈر اور مشہور ٹک ٹاکر 42 سالہ سونالی پھوگاٹ کا انتقال، سازش کا اندیشہ

1,253

بی جے پی لیڈر اور مشہور ٹک ٹاکر سونالی پھوگاٹ کا انتقال ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ گوا میں تھیں جب انھیں دل کا دورہ پڑا اور پھر اس دنیا کو الوداع کہہ گئیں۔ وہ 42 سال کی تھیں اور 2019 میں ہریانہ انتخاب میں بی جے پی کی ٹکٹ پر آدم پور سے کھڑی ہوئی تھیں، حالانکہ انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے کچھ ملازمین کے ساتھ گوا گئی تھیں۔

سونالی اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے کافی مشہور تھیں اور لوگ ان کی ویڈیوز کو خوب پسند کرتے تھے۔ ان کی ویڈیوز کے ویوز لاکھوں میں ہوتے تھے۔ ان کی شہرت کو دیکھتے ہوئے انھیں بِگ باس 14 میں موقع بھی ملا تھا۔ سونالی اپنے ڈانس ویڈیو کے لیے بھی پسند کی جاتی تھیں۔ انتقال سے پہلے سونالی پھوگاٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو پوسٹ کیا تھا اور ان کی اس آخری ویڈیو کو لوگ غمزدہ ہو کر دیکھ رہے ہیں۔

اس درمیان سونالی پھوگاٹ کے کچھ قریبی لوگوں اور رشتہ داروں نے اس اچانک انتقال کو سازش کا حصہ قرار دیا ہے۔ سونالی کی بڑی بہن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’سونالی نے ماں سے فون پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ مجھے میرے کھانے میں گڑبڑ لگ رہی ہے، میرے جسم میں گڑبڑ ہو رہی ہے، جیسے کسی نے میرے اوپر کچھ کیا ہو۔‘‘ عآپ لیڈر نوین جئے ہند نے بھی پھوگاٹ کی موت پر سوال کھڑے کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’سونالی پھوگاٹ کی موت مشتبہ ہے۔ ہائی کورٹ کے سیٹنگ جج سے حکومت اس کی جانچ کروائے۔‘‘

بہرحال، ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے سونالی کے انتقال پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے ٹوئٹ کر کہا کہ بی جے پی لیڈر سونالی پھوگاٹ جی کے اچانک انتقال کی بے حد بری خبر ملی۔ ایشور ان کی روح کو اپنے قدموں میں جگہ دے اور غمزدہ کنبہ کو تکلیف برداشت کرنے کی صلاحیت دے۔

وہ بی جے پی لیڈر بھی تھیں۔ انہوں نے 2019 کے ہریانہ انتخابات میں بی جے پی کے ٹکٹ پر آدم پور سے اسمبلی الیکشن لڑا تھا۔انہوں نے کلدیپ بشنوئی کے خلاف انتخاب میں حصہ لیا تھا، جنہوں نے حال ہی میں کانگریس پارٹی سے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔سونالی بھی ٹک ٹاک پر کافی مقبول تھیں۔