حیدرآباد۔ نامپلی میٹرو پولیٹن کورٹ کے اسپیشل سیشن جج نے گوشہ محل کے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو پولیس پر حملہ کیس میں ایک سال کی سزا اور 5 ہزار جرمانہ عائد کیا۔ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کے خلاف مقدمات کیلئے قائم خصوصی کورٹ کے جج سی ایچ وی آر آر ورا پرساد نے اپنے فیصلہ میں راجہ سنگھ کو ایک سال کی سزا قید بامشقت اور 5 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا۔

12 ڈسمبر 2015 کو عثمانیہ یونیورسٹی جے اے سی نے بیف فیسٹول کااعلان کیا تھا جس کے خلاف راجہ سنگھ نے احتجاج کا منصوبہ بنایا تھا ۔انہیں منگل ہاٹ پولیس نے حراست میں لے کر بلارم منتقل کیا تھا۔ راجہ سنگھ کی گرفتاری پر بی جے پی کارکن بلارم پولیس اسٹیشن پہنچ گئے تھے اور ان سے ملاقات کی کوشش کی۔ سب انسپکٹر ملیش نے راجہ سنگھ کو بی جے پی کارکنوں سے احاطہ پولیس اسٹیشن میں ملاقات سے روک دیا جس کے نتیجہ میں رکن اسمبلی نے مبینہ طور پر پولیس سب انسپکٹر پر حملہ کیا اور دھمکایا۔

اس سلسلہ میں پولیس بلارم نے راجہ سنگھ کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 353 ( سرکاری ملازم پر حملہ کرنا ) اور 506 (دھمکانا ) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور سال 2019 میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔ کیس کی سماعت اسپیشل سیشن جج کے اجلاس پر ہوئی اور استغاثہ کی جانب سے بی جے پی رکن اسمبلی کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے پر جج نے انہیں قصوروار قرار دیا اور ایک سال کی سزا قید بامشقت اور 5 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا۔ فیصلہ کے بعد راجہ سنگھ کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور انہیں عدالت میں روکے رکھا۔ جس کے بعد بی جے پی رکن اسمبلی نے سزا کو معطل کرنے درخواست داخل کرکے عدالت میں 10 ہزار روپئے جرمانہ ادا کیا اور ضمانت حاصل کی۔ اسپیشل جج نے راجہ سنگھ کو اندرون مارچ اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی مہلت دی ہے۔