بی جے پی اقتدار میں’مسلم نوجوان کے ایک ہاتھ میں قرآن دوسرے میں لیپ ٹاپ‘:محسن رضا

0 2

لکھنؤ، 12 جنوری (یو این آئی) اتر پردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں واحد مسلم وزیر محسن رضا نے ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس پر خوف اور نفرت کی سیاست کے ذریعے مسلمانوں کو اپنا ’’سیاسی غلام‘‘ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ آج بی جے پی اقتدار میں مدارس میں پڑھنے والے طلباء کے ایک ہاتھ میں قرآن ہے اور دوسرے ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا خوا ب شرمندہ تعبیر ہورہا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی نے ہی مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانے کی بامعنی کوششیں کی ہیں۔

ریاست کے اقلیتی بہبود اور حج کے وزیر مملکت محسن رضا نے مسلم سماج کو غور وفکر کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ایمانداری کے ساتھ اپنے آپ سے سوال کریں کہ سیاست کو اپنی’بپوتی‘سمجھنے والی ایس پی نے انہیں کیا دیا۔اب وقت ہے کہ مسلمان جذبات میں ووٹ کرنے کے بجائے غورو فکر کریں۔کہ آج ہمارے ساتھ کون کھڑا ہے۔ہم نے سب کوو وٹ دے کر دیکھ لیا۔رضا نے ‘یو این آئی’ سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی پر اکثر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ مسلم کی مخالف ہے اور نفرت کی سیاست کرتی ہے، لیکن نفرت کی سیاست ایس پی، کانگریس سمیت ان جماعتوں نے شروع کی اور آگے بڑھایا۔ 1947 سے آج تک مسلمانوں کو صرف ‘ووٹ بینک’ کے طور پر رکھا گیا ہے۔ انہیں کبھی قومی دھارے میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے لیے ان کی تعلیم، روزگار حتیٰ کہ ان کی سوچ بھی ایک دائرے میں باندھ دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ان پارٹیوں نے ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو ان کے آئیدیل کے طور پر مجرمانہ شبیہ رکھنے والے افراد کو پیش کیا لیکن بی جے پی نے مسلمانوں کے سامنے ڈاکٹر اے پی جی عبدالکلام کے آئیڈیل کی حیثیت سے پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس نے نمود و نمائش کی خاطر خوشامد کی سیاست کرکے مسلم قوم کو بہت نقصان پہنچایا اور اسے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف کھڑا کردیا۔ اس سے دوسرے طبقات میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہوئی اور نام نہاد مسلم نواز سیاسی قوتوں نے اپنے مفاد کے لیے اس آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ اس طرح مسلمان قومی دھارے سے کٹ کر متعصبانہ رویہ میں پھنس گئے۔ریاست کی بی جے پی حکومت کے واحد مسلم وزیر نے کہا کہ یہ سارا کام ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے کی تعلیم کو بعض نام نہاد مذہبی پیشواؤں کا استعمال کرکے مدارس اور دینی تعلیم تک محدود کر دیا گیا اور ان کے لیے اعلیٰ تعلیم اور انتظامی امتحانات میں کامیابی کا راستہ بند کر دیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانے کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے خواب کو تعبیر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ واجپائی نے مدارس میں پڑھنے والے طلباء کے لیے ‘ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں کمپیوٹر’ کا تصور کیا تھا۔ اس کو نافذ کرنے کے لیے ریاستی حکومت نے مدرسہ کی تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں، تاکہ مسلم سماج کے بچے بھی آئی اے ایس اور آئی پی ایس سمیت مختلف انتظامی خدمات میں ترقی کر سکیں اور مسلم سماج کو بااختیار بنایا جا سکے۔رضا نے کہا کہ بھدوہی کے قالین ہوں یا بنارس کی ساڑیاں، مراد آباد کی پیتل کے برتن ہوں یا فیروز آباد کی چوڑیوں کی صنعت، اتر پردیش کے روایتی فنون مسلم سماج کو زیادہ سے زیادہ روزگار فراہم کرتے ہیں، اس لیے ریاست کی بی جے پی حکومت نے سب سے زیادہ فائدہ مسلمانوں کو پہنچایا ہے۔ ‘ڈسٹرکٹ ون پروڈکٹ اسکیم’ سے۔

اقلیتی بہبود کے وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ اتر پردیش میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت بنائے گئے 44 لاکھ مکانات میں سے تقریباً 12 لاکھ مکانات مسلم کمیونٹی کو الاٹ کیے گئے ہیں۔ مفت راشن اسکیم کے تحت مسلمانوں کو اناج بھی بلا تفریق دیا جا رہا ہے۔ تمام سرکاری اسکیموں کا جتنا فائدہ ہندوؤں کو مل رہا ہے اتنا ہی مسلمانوں کو بھی مل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس پی نے مظفر نگر فسادات کی صورت میں مسلمانوں کو بہت بڑا زخم پہنچایا۔ اس کے علاوہ کانگریس کے دور حکومت میں سینکڑوں فسادات ہوئے جن میں سب سے زیادہ نقصان مسلم کمیونٹی کو ہوا تھا۔ بی جے پی کے پانچ سالہ دور حکومت میں ایک بھی فساد نہیں ہوا۔ بی جے پی نے مسلمانوں کے تعلیمی نظام کو بہتر کیا۔ انہیں بغیر کسی تفریق کے حکومت کی ہر اسکیم کا فائدہ پہنچایا اور انہیں روزگار دلانے کے لئے مدرا اسکیم سے جوڑ کر قومی دھارے میں لانے کی سنجیدہ کوشش کی۔رضا نے کہا کہ مسلمانوں کو اس سے اندازہ لگانا چاہیے کہ کون سی جماعت ان کی حقیقی خیر خواہ ہے۔ اتر پردیش کے آنے والے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو اپنی سیاسی غلامی چھوڑ کر کھلے ذہن کے ساتھ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ یہ الیکشن ان کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔