بی بی کا مقرہ ”تاجِ دکن“ تعصب پسندی کاشکار‘انتظامیہ کی لاپرواہی سے تاج کی چمک پھیکی پڑنے لگی

(خصوصی رپورٹ:سید فاروق احمد)
اورنگ آباد:موجودہ دور حکومت کی پالیسیاں پچھلے پانچ سالوں سے ہمیشہ مسلم مخالف رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ ان سے دور رہا ہے۔ بی جے پی نے اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ مسلم مخالف کام کئے ہیں خواہ وہ مرکز میں ہو یا ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں برسر اقتدار ہوں۔یوگی وزیراعلیٰ بننے سے پہلے بھی اور بننے کے بعد بھی تاج محل ان کی نظر میں کھٹکتا رہا ہے۔اور وہ اپنی ذہنی غلاظت ہر بار اپنی گندگی زبان سے ادا کرچکے ہیں کہ تاج محل صرف ایک عمارت ہے۔ اسے مسمار کردیناچاہئے یا وہ پہلے شیو مند رتھاوغیرہ وغیرہ۔۔۔بہر کیف جب سے زعفرانی ذہنیت اس ملک پر برسراقتدار ہوئی ہے تب سے مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری ثابت کرنے اور انہیں کسی نہ کسی طریقے سے ہراساں کرنے اور غدار وطن ثابت کرنے پر تلی ہے۔سنگھی حکومت کو یہ خیال رہے کہ یہ ملک جتنا آپ کا ہے اس سے کہیں زیادہ یہ ملک ہمارا تھا ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گااوراگرآپ ہمیں خواب میں بھی اس ملک سے کدھیڑ کر باہرنکالنے کا سوچ رہے ہوں تو پھر ہمیں لال قلعہ، تاج محل، قطب مینار فتح پور سیکری،جامع مسجد، ہمایوں کا مقبرہ گول گنبد، اور بہت ساری حسین وجمیل عمارتیں جو اس ملک کی خوبصورتی میں چار چاند لگاتی ہیںوہ بھی ہمیں یہاں سے لیتے جانا پڑے گا اورپھر تہذیب وتمدن اور ثقافت کی بات تو الگ ہی ہے اورپھر تمہارے پاس صرف رہ جائے گا اجنتا وایلورہ کی تصاویر اورننگا پن۔

بہر کیف مسلم حکمرانوں کے بنائے سینکڑوں سال پرانی تاریخی عمارتو ں کو زعفرانی حکومت دو طریقوں سے ختم کررہی ہیں ایک توطاقت کے بل بوتے پر اسے مسمار کرنے یا زمین دوز کرنے کی بات کرتی ہے یا پھر ان تاریخی عمارتوں کو اتنا زیادہ نظر انداز کررہی ہے کہ نہ ان کی دیکھ بھال ‘مرمت اور‘درستگی کی جارہی ہے نہ ہی رنگ وروغن اور صاف صفائی کی طرف دھیان دیا جارہا ہے۔بالکل اسی طرح تاج دکن کہلائے جانے والے اورنگ زیبؒ نے اپنی اہلیہ کی یاد میں تعمیر کئے بی بی کے مقبرہ کا ہورہا ہے۔جو تاج محل کا Replicaمعلوم ہوتا ہے۔ تاج دکن کی حالت ان دنوں کافی خستہ ہوچکی ہے جگہ جگہ سے پلاسٹر اکھڑ چکا ہے۔فرش کے لئے لگائی اینٹیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہے۔ مسجد کے چاروں کونوں پر چھوٹے چھوٹے مینار بھی کئی جگہ سے خراب ہوچکے ہیں۔یاد رہے کہ بی بی کے مقبرہ میں دو مساجد ہیں جوفی الحال غیر آباد ہیں جن میں۵۶۹۱ تک باضابطہ پنچ وقتہ نماز ادا کی جاتی تھی۔ لیکن بی بی کا مقبرہ محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں جانے کے بعد ان مساجد میں نماز کی ادائیگی پر روک لگادی گئی۔مسجد کی چھت نہایت حسین اور رنگین ہوا کرتی تھی جس میں مختلف ہندسی اشکال اور گلبوٹے استرکاری میں بنائے گئے تھے اسی طرح جہاں ستونوں کے کونوں پر اسمائے باری تعالی بڑی نفیس خطاطی میں لکھے ہوئے ہیں ایسی نفیس خطاطی صرف تاج محل میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے جو اب ہلکے ہلکے دیکھ بھال نہ ہونے کی صورت میں مندمل ہوتی جارہی ہے۔مسجد کے بالمقابل مشرقی دیوار کے ساتھ بارہ دری ہے جس میں کبھی دفاتر ہوا کرتے تھے جو اب بند ہیں

اس میں کسی زمانے میں رابعہ دورانی یا دلر س بانو کا جہیز رکھا ہواتھاجو ان کے والد شاہ نواز خان نے دیاتھا جس میں بڑی بڑی دیگیں،چمچے،پلیٹیں وغیرہ موجود تھی وہ بھی اب دھیرے دھیرے ختم ہوتی جارہی ہیں ان بارہ دری کی چھت پر نفیس پھولوں پھلوں اور پرندوں کی تماثیل بڑی خوبصورتی کے ساتھ بنائی گئی تھی جو اپنے آپ میں ایک مثال ہے وہ بھی اب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب ختم ہوتی جارہی ہے۔ اسی طرح مقبرے کے حسین او رکشادہ محرابوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور جگہ جگہ پلاسٹر اکھڑ چکا ہے۔مقبرے کی حفاظتی دیوار پر اور مختلف جگہوں پر پودے اگ آئے ہیں جن پر انتظامیہ کی کوئی نظر نہیں ہے۔مقبرے میں داخل ہوتے ہی کبھی یہاں سرو کے جھاڑ ایک قطار میں لگے ہوتے تھے لیکن اب وہ درخت بھی ختم ہوگئے ہیںمقبرے کے اوپری حصوں اور کیاریوں سے پانی بہہ کر حوض میں آتا ہے جس میں کنول کے پھول ہوا کرتے تھے اب انتظامیہ کی لاپرواہی اور تعصب پسندی سے ان حوض اور کیاریوں میں گدلا پانی اور کنجال جمع ہوا ہے۔ مقبرے کے احاطے میں موجود لمبے لمبے چبوتروں کے پتھر کہیں کہیں جگہ سے اکھڑ چکے ہیں اور وہاں پر پودے اب جھاڑ کی شکل اختیار کررہے ہیں۔مقبرے میں جہاں جہاں لکڑی کے دروازے موجود ہیں وہ اب ٹوٹنے کی حالت میں پہنچ گئے ہیں اگر ان کو دوبارہ پالش نہیں کیاگیا تو عین ممکن کہ وہ کبھی بھی سڑاور گل کر ٹوٹ جائیںگے۔مقبرہ کے چبوترے پر پتھر کی تراشی ہوئی حفاظتی دیوار گرگئی تھی جسے وہاں کے دیکھ ریکھ کرنے والے ملازم نے لوہے کے تار سے باندھ دی ہے جواب کسی بھی وقت ٹوٹ کرکسی کی جان لے سکتی ہے۔مقبرہ کے حسن میں اضافہ کرنے والے مینار کسی زمانہ میں عوام النا س کے لئے ہمیشہ کھلے رہا کرتے تھے جس میں سے ایک مینار ۰۷ یا ۰۸ سال قبل بجلی کی زد میں آگیا تھا جس کو مزید نقصان سے بچانے کے لئے محکمہ آثار قدیمہ نے اس میناربند کردیا اور اس کے پہلے ان میناروں سے خودکشی اور قتل کے واقعات کے بعد قطب مینار کی طرح ان چاروں مینار وں کو بھی بند کردیا گیالیکن محکمہ آثار قدیمہ یا انتظامیہ پچھلے کئی سالوں سے مرمت کے نام پر اس مینار کا ہمیشہ ہی کام کرتا رہتا ہے اور جب بھی دیکھو اس میں کوئی بہتری نظر ہی نہیں آتی آیا کام ہوتا بھی ہے یا نہیں۔بہر کیف اسی طرح تاریخی شہر اورنگ آباد اور بھی بہت ساری تاریخی عمارتیں موجود ہیں جو اب رفتہ رفتہ محکمہ آثار قدیمہ کی نظر سے دور ہوتی جارہی ہیں اور کسی دن ہم سب کی نظر سے بھی دور ہوجائے گی۔اس کی دیکھ بھال کرنا جتنا محکمہ آثار قدیمہ کا حق بنتا ہے اتنا ہی ہم شہریان اورنگ آباد کا بھی۔ہم محکمہ آثار قدیمہ اور حکومت وقت سے گذارش کرتے ہیں کہ ان تاریخی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور ان کی دیکھ بھال مرمت اور درستگی میں کوئی کثر نہ چھوڑی جائے اسی طرح مقبرہ میں موجود دونوں مساجد کو دوبارہ آباد کیا جائے۔

Coming Soon
Who Will Win Bhokar Assembly Constituency?
Indian National Congress
BJP
Coming Soon
Who Will Win Nanded North MLA Seat
D.P Sawant Congress
Feroz Lala AIMIM
VBA
Shiv Sena
Coming Soon
Who will Win Nanded South MLA Seat
Indian National Congress
ShiveSena
AIMIM
Vanchit Bahujan Aghadi
Dilip Kundkurte Independent

chrome_5UcEeDOjV2
مہاراشٹر اسمبلی انتحابات:ایم آ ئی ایم امیدوار وں کی دوسری فہرست جاری
مجلس اتحاد المسلمین اور ونچت بہوجن اگھاڑی میں دوبارہ اتحاد کے امکانات

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me