دویہ آریا اور ونیت کھرے نمائندہ بی بی سی
گذشتہ سال 13 مئی کو کچھ ٹوئٹر اکاؤنٹس کی توجہ یوٹیوب چینل ‘لبرل ڈوجے’ کے لائیو سٹریم کی طرف مبذول ہوئی جہاں عید منانے والی پاکستانی لڑکیوں کی تصاویر اور ویڈیوز پر نازیبا تبصرے کیے جا رہے تھے۔اس لائیو سٹریم کا عنوان تھا: ‘پاکستانی گرلز ریویو: آج اپنی ٹھرک بھری آنکھوں سے لڑکیان تاڑینں گے’ یعنی شہوت بھری نظروں سے لڑکیوں کو گھوریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس چینل کی ویڈیوز مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد سے بھری ہوئی تھیں۔ اب اس چینل کو یوٹیوب سے ہٹا دیا گیا ہے۔13 مئی 2021 کے اس لائیو سٹریم میں ان لڑکیوں کے بارے میں فحش اور نازیبا باتیں کہی گئیں، انھیں گالیاں دی گئیں۔خود کو عنبرین بتانے والی ایک پاکستانی خاتون نے لائیو سٹریم پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ‘انڈین سنگھیوں کی وجہ سے ہر پاکستانی لڑکی اپنی تصاویر ڈیلیٹ کر رہی ہے کیونکہ انھوں نے ان کے دن کو خراب کر دیا ہے۔ لڑکیاں غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، وہ خوفزدہ ہیں۔

اس لائیو سٹریم میں تقریباً 40 پاکستانی لڑکیوں کی تصاویر ان کی اجازت کے بغیر پوسٹ کی گئیں اور اس میں 500 سے زائد افراد شامل تھے جو لڑکیوں کو ایک سے 10 تک میں درجہ بندی کر رہے تھے۔اس سب کے پیچھے انڈین دارالحکومت دہلی کے قریب رہنے والا 23 سالہ نوجوان رتیش جھا اور ایک دوسرا شخص تھا جو خود کو کیشو کہتا ہے۔اس واقعے کے آٹھ ماہ بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رتیش جھا کہتے ہیں: ‘مجھ میں نفرت بھر گئی تھی۔ میں نے سوشل میڈیا پر، انسٹاگرام، ریڈٹ، ٹیلی گرام کے مسلم ہینڈلز پر ایسی گندی پوسٹیں دیکھی تھیں جن میں ہندو لڑکیوں کی مسخ شدہ تصاویر تھیں۔ مجھے لگا کہ مجھے انتقام لینا چاہیے۔ لیکن میں غلط تھا اور میں نے بعد میں معافی کی ویڈیو پوسٹ کی تھی۔‘

رتیش جھا اور ‘سلی ڈیلز’ یا ‘بلی بائی’ ایپس بنانے والے بھلے ہی کبھی ایک دوسرے سے آمنے سامنے نہ ملے ہوں، لیکن ایک خاص نظریے سے متاثر ہو کر یہ نوجوان انٹرنیٹ کی ایک بالکل مختلف تصویر سامنے لا رہے ہیں۔اس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی کئی جہتیں موجود ہیں۔ اس میں مسلم خواتین کی تصاویر کو آن لائن نیلام کرنے کے لیے بنائی گئی ‘سلی ڈیلز’ اور ‘بلی بائی’ ایپس سے لے کر یوٹیوب پر پاکستانی لڑکیوں کی تصویروں کی لائیو سٹریمنگ اور کلب ہاؤس ایپ پر مسلم لڑکیوں کے جسم پر نازیبا ریمارکس وغیرہ شامل ہیں۔ہم نے پایا کہ صرف مسلم خواتین ہی اس نفرت کا شکار نہیں ہیں۔ ہندو خواتین کے چہروں کی تصاویر کو ننگے جسموں پر چسپاں کرکے انھیں ہراس کیا جاتا ہے، عصمت دری کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، دلت یعنی پسماندہ طبقے کو ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اور ان کے خلاف اچھوت کے رویے کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔سخت گیر دائيں بازو کے نظریات کی حامل آن لائن دنیا کی تحقیقات میں بی بی سی نے ان لوگوں سے بات کی جو اس دنیا کا حصہ ہیں، جہاں سے یہ دنیا پروان چڑھی۔
ابتدائی اثرات:سنہ 2013-14 میں نریندر مودی کی قیادت میں پہلی بار انڈیا میں دائیں بازو کی مضبوط لہر آئی۔ رتیش کے مطابق اس دوران پہلی بار موبائل فون ان کے ہاتھ میں آیا۔ اس وقت وہ نویں جماعت میں تھے۔انھیں پڑھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ رتیش یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘سوشل میڈیا پر میمز آتے تھے، سیاست دانوں کی تقریریں سنتے تھے، ‘ہندو خطرے میں ہے’، ‘وہ ایک مارے، تم دس مارنا’ جیسے نعرے سنتے تھے، رات دن ہندو مسلم تنازع میں مشغول رہتے تھے۔ اور انٹرنیٹ پر پاکستانیوں سے جھگڑنے لگے تھے۔‘’آپ کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کب بنیاد پرست ہو گئے ہیں، آپ کو غصہ آتا ہے، آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو آپ کے مذہب کی وجہ سے کم دیا گیا ہے، آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ آپ آن لائن-آف لائن تشدد کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔رتیش نے ٹریننگ لی اور یوٹیوب پر 15-20 چینل بنائے۔ کچھ ہی عرصے میں ان کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی اور رتیش نے کمانا شروع کر دیا۔

ابتدائی اثرات:سنہ 2013-14 میں نریندر مودی کی قیادت میں پہلی بار انڈیا میں دائیں بازو کی مضبوط لہر آئی۔ رتیش کے مطابق اس دوران پہلی بار موبائل فون ان کے ہاتھ میں آیا۔ اس وقت وہ نویں جماعت میں تھے۔انھیں پڑھنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ رتیش یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: ‘سوشل میڈیا پر میمز آتے تھے، سیاست دانوں کی تقریریں سنتے تھے، ‘ہندو خطرے میں ہے’، ‘وہ ایک مارے، تم دس مارنا’ جیسے نعرے سنتے تھے، رات دن ہندو مسلم تنازع میں مشغول رہتے تھے۔ اور انٹرنیٹ پر پاکستانیوں سے جھگڑنے لگے تھے۔‘’آپ کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کب بنیاد پرست ہو گئے ہیں، آپ کو غصہ آتا ہے، آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو آپ کے مذہب کی وجہ سے کم دیا گیا ہے، آپ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ آپ آن لائن-آف لائن تشدد کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔رتیش نے ٹریننگ لی اور یوٹیوب پر 15-20 چینل بنائے۔ کچھ ہی عرصے میں ان کے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی اور رتیش نے کمانا شروع کر دیا۔
یہ نوجوان کون ہیں جو ایسی ویڈیوز بنا رہے ہیں؟
شویتا سنگھ کی عمر 18 سال ہے جبکہ وشال جھا، میانک راوت، نیرج بشنوئی 21 سال کے ہیں۔ اومکاریشور ٹھاکر 26 سال کے ہیں جبکہ نیرج سنگھ کی عمر 28 سال ہے۔ ان لوگوں کو پولیس نے ‘سلی ڈیلز’ اور ‘بلی بائی’ ایپ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔کلب ہاؤس معاملے میں گرفتار کیے گئے یش پراشر کی عمر 22 سال ہے اور جیشنو ککڑ کی عمر 21 جبکہ آکاش کی عمر صرف 19 سال ہے۔ممبئی پولیس میں پہلا سائبر سیل شروع کرنے والے سپیشل آئی جی برجیش سنگھ کے مطابق انٹرنیٹ کی گمنامی یہ احساس دلاتی ہے کہ آپ پکڑے نہیں جائیں گے، جس کی وجہ سے آپ کی انسانیت کم ہوتی جاتی ہے اور تشدد مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے۔وہ کہتے ہیں: ‘بہت سی اینٹی فارنزک تکنیکیں ہیں جو ان لوگوں کو پکڑ سکتی ہیں، لیکن انھیں پہلے سے ہی ان کے توڑ معلوم ہیں تو یہ وی پی این، ٹور (براؤزر)، ورچوئل مشین اور انکرپشن کا استعمال کرتے ہیں۔اومکاریشور ٹھاکر کی گرفتاری کے وقت دہلی پولیس کے ڈی سی پی کے پی ایس ملہوترا نے بتایا کہ وہ ٹوئٹر پر مسلم خواتین کو ٹرول کرنے والے ایک ‘ٹریڈ گروپ کے بھی رکن تھے۔
بنیاد پرست دائیں بازو کے انڈین حاملین: ‘ٹریڈس:انڈیا میں یہ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دائیں بازو کے نظریے کے پرچار میں اضافہ ہوا ہے۔عام لوگوں کو کچھ دن پہلے ہی پتا چلا کہ دائیں بازو کی سوچ سے جڑے دو بڑے گروہ ایک ‘ٹریڈ’ اور دوسرا ‘رائتہ’ ہیں۔ٹریڈ گروپ ‘ٹریڈیشنلسٹ’ (روایات پر یقین کرنے والے) کی چھوٹی اور مختصر شکل ہے۔ مختصرا کہیں تو یہ لوگ پرانی روایات کے مطابق زندگی گزارنے میں یقین رکھتے ہیں اور اسے تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔ یہ ستی (شوہر کے ساتھ زندہ بیوی کے جلنے) کی رسم، بچپن کی شادی اور پردے کو درست سمجھتے ہیں اور ذات پات کے نظام میں برہمنوں کو مقدم رکھتے ہیں۔ضروری نہیں کہ وہ نریندر مودی کے حامی ہی ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کو گھر میں رہنا چاہیے کام نہیں کرنا چاہیے۔

‘بلی بائی’ اور ‘سلی ڈیلز’ کی شکار ثانیہ سید اس ‘ٹریڈس’ کے بارے میں کہتی ہیں: ‘یہ ایک یا دو لوگ نہیں ہیں۔ یہ بہت سارے لوگ ہیں جن کی عمریں 20-23 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے خیال سے (مرکز میں) ایک بے رحم رہنما ہونا چاہیے۔ وہ لنچنگ کی ثنا خوانی کرتے ہیں، ذات پات کے نظام میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نہ تو مسلمان ہونا چاہیے اور نہ ہی مسیحی۔’وئٹر پر ایچ آر کے نام کا ہینڈل استعمال کرنے والے شخص کا کہنا ہے کہ وہ بھی ایک ‘ٹریڈ’ تھے۔ یہ بھی اس وقت جب کہ وہ بذات خود دلت یعنی پسماندہ ذات سے آتے ہیں۔انھوں نے اپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی ہے۔ نام سامنے آنے پر انھیں ‘ڈاکسنگ’ یعنی ان کی ذاتی معلومات کو عام کر دیے جانے کا خدشہ ہے۔سنہ 2020 کے آغاز میں انھیں انسٹاگرام کے ایک ‘ٹریڈ’ گروپ میں شامل کیا گیا تھا۔ انھیں بتایا گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے ساتھ اچھی طرح بحث کرنے کے قابل تھے۔ انھیں بتایا گیا کہ اس گروپ کا مقصد ہندو مذہب کے بارے میں درست معلومات پھیلانا ہے۔ایچ آر اس گروپ میں شامل ہو گئے۔ ان دنوں کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ‘میں ہندو مذہب کی پرانی روایات، جیسے ستی، بچپن کی شادی، چھوا چھوت پر یقین رکھتا تھا، مجھے اپنی تاریخ پر فخر تھا، اس لیے میں اس گروپ میں شامل ہو گیا۔’ایچ آر سے کہا گیا کہ وہ 14-15 سال کی عمر کے ہندو نوجوانوں کو اس سے وابستہ کریں۔
وقت گزرنے کے ساتھ انھوں نے محسوس کیا کہ جہاں گروپ میں ظاہری طور پر مذہبی کتابوں اور صحیفوں کے بارے میں بات کی جاتی ہے وہیں اس کے اراکین اندر سے نفرت اور پرتشدد رویے کو فروغ دیتے ہیں، جیسے کہ دلتوں کو ہندو نہ سمجھنا، ہندو راشٹر بنانے کے لیے مسلم خواتین کی عصمت دری کی بات کرنا، بچوں کے قتل اور ذات کی بنیاد پر ‘غیرت کے نام پر قتل’ کو جائز قرار دینا اور بین ذاتی شادی کرنے والوں کے خلاف دھمکیاں دینا۔ایچ آر کے مطابق ہراساں کرنے کی سطح ایسی تھی کہ کچھ لڑکیوں نے اپنی جان لینے کی کوشش بھی کی۔لیکن ‘ٹریڈ’ کے نظریے پر یقین رکھنے والوں میں صرف لڑکے ہی نہیں، لڑکیاں بھی شامل ہیں جو خود پردے کے نظام کی حمایت کرتی ہیں اور ان مردوں کو ٹرول کرتی ہیں جو کروا چوتھ مناتے ہیں یعنی بیوی کی لمبی عمر کے لیے دن بھر بھوکے رہتے ہیں اور انھیں ‘نامرد’ کے طور پر بیان کرتی ہیں۔گروپ میں رہتے ہوئے ایچ آر نے کبھی اپنی ذات کو ظاہر نہیں کیا، لیکن یہ ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہو گیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ ‘میں ان کو سمجھاتا تھا لیکن وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا تھا کہ ان کے پاس دل ہی نہیں ہے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ایسے مرد بنو جسے کسی کی باتوں کی پرواہ نہ ہو۔ اپنی بات کو تسلیم کرانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکے، لیکن میں کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا تھا۔ایچ آر کے مطابق، وہ لنچنگ کی تصویریں شیئر کرتے تھے اور شیخی مارتے تھے کہ کس طرح انھوں نے اپنے علاقے میں ایک مسلمان لڑکے کو مارا پیٹا۔آخر کار ايچ آر نے اس گروپ اور ‘ٹریڈ’ برادری کو چھوڑ دیا اور اب اپنے جیسے دوسروں کے ساتھ مل کر ٹریڈ کو روکنے کا کام کر رہے ہیں۔ٹریڈس ان دائیں بازو کے لوگوں کو جو ان کے نقطہ نظر سے متفق نہیں تھے ‘رائتہ’ کہنے لگے، یعنی وہ لوگ جو ‘رائتہ پھیلاتے رہتے ہیں’ یا عام زبان میں کہیں تو بات کو بڑھاتے رہتے ہیں۔مونا شرما ہندو ہیں اور دائیں بازو کے نظریات کی حامل ہیں۔ وہ رائتہ کی تعریف کے ضمن میں آتی ہیں لیکن انھیں یہ اصطلاح توہین آمیز لگتی ہے۔

ٹریڈ اور رائتہ کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے مونا کہتی ہیں: ‘رائتہ والے سنگھی ہوتے ہیں اور وہ بی جے پی، دائیاں بازو، ہندوتوا کے حامی ہیں جو یوگی، مودی جیسے لیڈروں کو پسند کرتے ہیں، لیکن ٹریڈ کے خلاف، ‘رائتہ’ والے اپنے نظریات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پیش کرتے ہیں۔مونا شرما کے مطابق ان کے ‘ترقی پسند’ نظریات کی وجہ سے انھیں ٹریڈ کی جانب سے نشانہ بنایا گیا، انھیں ‘رنڈی’ جیسے نازیبا الفاظ کہے گئے، اور ان کے شوہر کی ذاتی معلومات کو عام کیا گیا۔مونا کا کہنا ہے کہ وہ خود لبرل اور بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ لوگوں کو ٹرول کرتی ہیں اور ان سے مباحثہ کرتی ہیں لیکن ٹریڈ برادری کو زیادہ خطرناک قرار دیتی ہیں۔بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ‘ان کے خیالات وہی ہیں جو طالبان کے ہیں کہ خواتین گھر میں رہیں، بچے پیدا کریں، نقاب پہنیں، زیادہ نہ پڑھیں، محبت کی شادیاں نہ کریں۔ وہ مضبوط ہوں گی تو امن و امان ختم ہو جائے گا، خواتین کی زندگی 16ویں صدی میں واپس چلی جائے گی۔مونا کے مطابق سنہ 2020 میں جب کووڈ انفیکشن کو روکنے کے لیے پہلا لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تھا، اسی وقت تقریباً اس طرح کے ٹریڈ اکاؤنٹس بہت فعال ہو گئے۔

وہ بتاتی ہیں: ‘پہلے تو وہ بی جے پی کے حامی لگتے تھے۔ ہماری طرح وہ بھی اسلام، فسادات اور دہشت گردی کے خلاف بولتے تھے، لیکن جب مجھ جیسی دائیں بازو کی ہندو خواتین نے ان کے قدامپ پرست نظریے پر سوال اٹھانا شروع کیے تو انھوں نے ہمیں نشانہ بنانا شروع کر دیا۔’انھیں شراب پینے والی، مغربی لباس پہننے والی جدید تعلیم یافتہ خواتین برداشت نہیں ہیں۔ ہم ان کے لیے کامل ہندو نہیں ہیں کیونکہ ہم دلتوں اور مسلمانوں کے خلاف تشدد کا پرچار نہیں کرتے۔’مونا کے مطابق ٹریڈ والے وزیر اعظم مودی کو بھی پسند نہیں کرتے، انھیں ہندو راشٹر بنانے کے لیے کارگر نہیں سمجھتے اور انھیں ‘مولانا مودی’ کہتے ہیں۔دائیں بازو کے نظریے پر مضامین لکھنے والے کالم نگار ابھیشیک بنرجی بھی خود کو ‘رائتہ’ والا کہتے ہیں اور دائیں بازو کے ان مختلف دھڑوں کا موازنہ بائیں بازو کے مختلف دھڑوں سے کرتے ہیں۔

بی بی سی سے بات چیت میں انھوں نے کہا کہ دائیں بازو کی یہ تقسیم کافی عرصے سے موجود ہے لیکن اب یہ بحث میں آرہی ہیں کیونکہ دائیاں بازو اقتدار میں ہے، وہ سیاست پر حاوی ہے اور یہ دائیں بازو کے درمیان عام لوگوں میں مقبول ہو رہا ہے۔’ٹریڈس’ اور ‘رائتہ’ کے علاوہ انٹرنیٹ کی دنیا میں ‘یونینسٹ’ اور ‘بلیک پیلرز’ جیسے نظریات بھی ہیں۔اس دنیا سے وابستہ ایک شخص کے مطابق جو لوگ خود کو یونینسٹ کہتے ہیں وہ دلتوں کو اچھوت اور ناپاک سمجھتے ہیں اور انھیں اس دنیا سے ختم کرنے کی بات کرتے ہیں۔اور ‘بلیک پیلرز’ وہ لوگ ہیں جو یہ مان چکے ہیں کہ انڈیا کبھی بھی ہندو راشٹر نہیں بنے گا اور اس مسئلے کی جڑ سیکولر جمہوریت ہے۔جب سے میڈیا نے ٹریڈس اور رائتہ پر لکھنا شروع کیا اور اس سے پہلے پولیس نے بلی بائی اور سلی ڈیل موبائل ایپ بنانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا، تب سے ان دھڑوں سے جڑے بہت سے لوگوں کے لہجے بدل گئے، یا وہ اپنے اکاؤنٹس بند کرکے روپوش ہو گئے۔

مستقبل کا راستہ:سلی-بلی معاملے میں چھر افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے لیکن پھر بھی ٹویٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب، ریڈٹ اور ٹیلی گرام جیسی ایپس پر نفرت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ممبئی پولیس کی ڈی سی پی سائبر کرائم رشمی کرندیکر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور جلد ہی نتیجہ سامنے آئے گا۔پولیس کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے ضروری تعاون کی کمی ہے۔ممبئی پولیس کے سپیشل آئی جی برجیش سنگھ بتاتے ہیں: ‘جب ہم معلومات کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لکھتے ہیں، تو جواب آتا ہے کہ وہ صرف امریکی قانون کی پیروی کریں گے، اور معلومات تبھی دیں گے جب وہ فیصلہ کریں گے کہ جرم ہوا ہے یا نہیں۔سلی ڈیلز اور بلی بائی موبائل ایپس کے معاملے میں ہونے والی گرفتاریوں کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ایپس کو ٹریک کرنا آسان ہوتا ہے۔برجیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ‘ایپ سٹور سے ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ ایپ کس نے بنائی ہے اور اس کے بعد مزید تفتیش بھی آسانی سے ہو جاتی ہے، لیکن جب ایک نظریہ کے لوگ سوشل میڈیا پر کسی گروپ میں کام کرتے ہیں تو ان کی معلومات اسی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوتی ہیں۔ پلیٹ فارم اگر چاہے تو ہمیں اپنی ڈیوائس، ماڈل نمبر، آپریٹنگ سسٹم، لوکیشن، ان کے تیار کردہ دوسرے اکاؤنٹ، اگر وہ وی پی این یا ٹور استعمال کر رہے ہیں یا بوٹ جیسا برتاؤ کر رہے ہیں، یہ سب بتا سکتے ہیں لیکن وہ نہیں بتاتے۔برجیش سنگھ کے مطابق، قانون کے نظام میں لاکھوں اکاؤنٹس کی نگرانی اور ان کا پتا لگانے کے لیے کافی سہولیات موجود نہیں ہیں، اس لیے پولیس صرف اس وقت کارروائی کر پاتی ہے جب ان کے پاس کوئی شکایت آتی ہے۔بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں، کئی ہینڈلز نے ‘ٹریڈ’ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے دیگر مقبول ‘ٹریڈس’ جیسے ہینڈلز کے خلاف کریک ڈاؤن نہ کرنے، ان کی نفرت انگیز مواد کی مذمت نہ کرنے اور خاموشی سے اسے قبول کرنے کو ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

لیکن کالم نگار ابھیشیک بنرجی اس بات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں: ‘میں نے تشدد کی حمایت کرنے یا تجارت کو فروغ دینے والا کوئی بڑا ہینڈل نہیں دیکھا، اور کون کس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے یہ صرف ایک خیال ہے۔ یہ الزام درست نہیں ہے۔’
ابھیشیک کے مطابق ان گروپس کو ختم نہیں کیا جا سکتا، انھیں صرف کنٹرول یا قانون کے ذریعے ہی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔یوٹیوبر رتیش جھا خود کو اس کا شکار بتاتے ہیں اور جو پاکستانی لڑکیوں کی تصاویر کی لائیو سٹریمنگ کے بعد ہونے والی شدید تنقید کے بعد بالکل تنہا رہ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں نے خود کو ان سے دور کر لیا ہے اور وہ میڈیا کمپنی میں اپنی ملازمت بھی گنوا بیٹھے ہیں۔وہ کہتے ہیں: ‘میں اب سمجھ گیا ہوں کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس سے نہ تو معصوم لوگوں کو فائدہ ہوا ہے اور نہ ہی مجھے کوئی فائدہ ہوا۔ صرف ان لوگوں کو فائدہ ہوا ہے جو اس ماحول کے تحت اپنا خفیہ ایجنڈا چلا رہے ہیں۔ ہم تو صرف اس ببل میں استعمال ہو رہے ہیں۔