بی بی سی ڈاکومنٹری، جامعہ ملیہ کے 4 طلبا گرفتار

394

نئی دہلی: 26/ جنوری(ایجنسیز)طلبا تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) سے جڑے جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے 4 طلبا کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ کلاسس معطل کردی گئیں۔چہارشنبہ کی شام شعبہ ماس کمیونیکیشن (انورجمال قدوائی ماس کمیونیکیشن ریسرچ سنٹر) میں وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق بی بی سی کی متنازعہ ڈاکو منٹری دکھانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

اسی دوران یونیورسٹی گیٹ پر انسداد ِ فساد پولیس ٹیمیں تعینات کردی گئیں۔ یونیورسٹی نے منگل کے دن کہا تھا کہ انتظامیہ کیمپس میں غیرمجاز اجتماع کی اجازت نہیں دے گی۔ ڈاکومنٹری کی اسکریننگ کا اعلان ایس ایف آئی نے کیا تھا۔منگل کی شام جواہر لال نہرو یونیورسٹی(جے این یو) کیمپس کی صورتِ حال بڑی ڈرامائی تھی۔ طلبا نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق بی بی سی کی متنازعہ ڈاکومنٹری دیکھنے کے دوران ان پر پتھروں سے حملہ کیا گیا تاہم ڈپٹی کمشنر پولیس (ڈی سی پی ساؤتھ ویسٹ) سی منوج نے سنگباری کی خبروں کی تردید کی

۔واقعہ کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ ہمیں اب تک ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔ ہمیں کوئی شکایت ملتی ہے تو ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔اسی دوران جے این یو اسٹوڈنٹس یونین دفتر کی انٹرنیٹ سروس اور الکٹریسٹی سپلائی منگل کے دن تقریباً 3 گھنٹوں کے لئے کاٹ دی گئی کیونکہ بعض طلبا بی بی سی ڈاکومنٹری دکھانا چاہتے تھے۔جے این یو اڈمنسٹریشن نے قبل ازیں طلبا سے کہا تھا کہ وہ ڈاکومنٹری ”انڈیا: دی مودی کوئسچن“کی اسکریننگ منسوخ کردیں ورنہ طلبا کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔