مفتی یاسر ندیم الواجدی نے اپنی ایک پوسٹ میں Bip app کا تذکرہ کیا مگر غالباً انھوں نے اس ایپ کی ترمس اینڈ کنڈیشن نہیں بڑھی یا پڑھ کر گول کر گئے اور دلیل یہ دی کہ انٹرنیٹ پر کچھ بھی محفوظ نہیں تو جب سب چور ہیں تو کیوں نہ Bip کو بھی چوری کا موقع دیا جائے۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ واٹساپ اور بپ کے ترمس اینڈ کنڈیشن میں کوئی زیادہ فرق نہیں بلکہ بپ کی شرائط واٹساپ سے زیادہ خطرناک ہیں۔ واٹساپ صرف فیسبک کو انفارمیشن شیئر کرے گا جو خود واٹساپ کی مالک ہے مگر بپ ایپ ہر اس تھرڈ پارٹی کو آپکی کی انفارمیشن شیئر کر دے گا جو اسے پیسہ دے گا۔ اس ایپ کے شرائط میں صاف لکھا ہوا ہے کہ تھرڈ پارٹی کو ڈیٹا شیئر کیا جائے گا اور فی الحال مائیکروسافٹ اور گوگل پہلے سے تھرڈ پارٹی کے طور پر بپ سے اشتراک بنائیے ہوئے ہیں۔

مختصر یہ کہ آپکا کا انفارمیشن پوری طرح سیل میں لگا ہوا ہے اور جو چاہے اسے خرید سکتا ہے اور گوگل و مائیکروسافٹ پہلے سے خریدار ہیں۔ جب بپ ایپ کو اندھا دھند مقبولیت ملی گی تو اور بھی لوگ اس سے اشتراک کر سکتے ہیں۔

غرض بپ کی شرائط واٹساپ سے زیادہ خطرناک ہیں مگر واہ رے امت مسلمہ!! بنا سوچے سمجھے اور بنا تحقیق کسی بھی ایپ کو پروموٹ کرنے میں لگ گئے، ایسی اندھی تقلید تو کہیں بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔

سگنل اور ٹیلیگرام آج بھی محفوظ ہیں اور یہ کسی بھی کمپنی کے ساتھ آپکا انفارمیشن شیئر نہیں کرتے۔ آگے کی بات بعد میں جب یہ اپنی پالیسی بدلیں گے تو واٹساپ کی طرح انھیں بھی یوزر کو بتانا پڑے گا تب دیکھا جائے گا اور یہ دونوں کے کوڈ انٹرنیٹ پر موجود ہیں اسلئے ان میں شفافیت بھی زیادہ ہے۔

مجھےBip app سے کوئی دشمنی نہیں مگر جس مقصد کے لیے واٹساپ کے متبادل طور پر اسکا نام پیش کیا جارہا ہے یعنی ڈیٹا پراویسی (data privacy and sharing ) تو بپ ایپ اسپر فٹ نہیں بیٹھتا۔

اگر کوئی اس ایپ کی شرائط سے متفق ہو اور وہ ترک بھائیوں کے ایپ کو استعمال کر کے پروموٹ کرنا چاہتا ہو تو کو حرج نہیں۔

ظہیر مومن سافٹویئر انجینئر

BiP Urdu News Groups