BiP Urdu News Groups

کچھ احباب نے بیپ نامی چَیٹ ایپلیکیشن کو اسلامک ایپ کے نام پر ایسا متعارف کرایا کہ بے شمار لوگ بالخصوص اہل مدارس نے دھڑادھڑ اسے ڈاؤنلوڈ کرنا شروع کردیا: گویا نماز جمعہ کی طرح آفر چل رہا ہو کہ جو شخص پہلے ڈاؤن لوڈ کرے گا اسے اونٹ صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملے گا، بعد میں آنے والوں کا ثواب ”انڈے” کے برابر ہی رہ جائے گا۔ کچھ بھولے بھالے لوگ تو ترکی اور اسلام کے نام پر اس کو ایسی اہمیت دینے لگے گویا اس ایپ کے مالکان اپنی کمائی کا نصف حصہ انڈیا کی مسجدوں کے اماموں کے بینک کھاتے میں ڈالتے ہوں۔ کچھ احباب نے اس ایپ کے فضائل میں مضامین لکھ دیے؛ حالانکہ اس ایپ کے بارے میں جتنا کچھ سننے یا پڑھنے کو ملا ویسی کوئی خاص بات اس میں نظر نہیں آتی۔آئیے اس ایپ کے بارے میں کچھ ضروری باتیں جان لیتے ہیں۔

(1) پرائیویسی پالیسی (رازداری) واٹس جیسے کثیرالاستعمال ایپ کو اگر صرف پرائیویسی پالیسی کے لیے چھوڑا جارہا ہے، تو اس بیپ نامی ایپ کی پالیسی آپ کی پرائیویسی کے لیے مزید خطرناک ہے،
ایپ کے ذریعے دی گئی پالیسی تفصیلات کے کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں:

# (”پالیسی”) بتاتی ہے کہ ہم کس طرح معلومات (”ذاتی ڈیٹا”) اکٹھا کرتے، استعمال کرتے اور بانٹتے ہیں جو آپ کی شناخت کو مخصوص یا قابل شناخت بناتا ہے (”آپ”، ”آپ کا یا صارف کا ہے”)۔ اگر آپ کو اس پالیسی کے بارے میں کوئی درخواست یا شکایت ہے تو، براہ کرم ہم سے ڈیٹا پروٹیکشن آفیسر کے توسط سے رابطہ کریں”

# ہم آپ سے بالواسطہ طور پر ذاتی ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، اسی طرح تیسری پارٹی سے حاصل کردہ معلومات بھی۔
آپ کو مندرجہ ذیل حصوں میں کون سے مقاصد کے لئے کون سا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے اس کے بارے میں تفصیلی معلومات مل سکتی ہیں۔
کون سا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے؟
ہم جن ذاتی اعداد و شمار کو جمع کرتے ہیں ان کے زمرے کے نیچے مزید تفصیل سے بیان کرتے ہیں:
شناخت اور رابطے سے متعلق معلومات: اکاؤنٹ کو محفوظ رکھنے کے لئے فون نمبر، صارف نام (عرفیت)، اوتار، جی ایس ایم آپریٹر اور پاس ورڈ استعمال کیا جاتا ہے۔

استعمال کی معلومات: تکنیکی آلات کے ذریعہ آپ کے آلے سے جمع کردہ تکنیکی اعداد و شمار، بھیجے گئے پیغامات کی قسم (اس کے مواد کے بارے میں کوئی معلومات اکٹھا کیے بغیر) (ٹیکسٹ میسج، ویڈیو، وغیرہ)، استعمال شدہ فعال وقت، خدمات کی قسم، ایپلیکیشن انٹرفیس سے متعلق استعمال کی عادات، درخواست میں آخری لاگ ان کی تاریخ غلطیوں اور غلطیوں کے بارے میں معلومات جو ایپلی کیشن کے استعمال کے دوران واقع ہوئی ہیں۔

ذاتی نوعیت کی معلومات اور سروے: عرفیت، پروفائل فوٹو، حیثیت سے متعلق معلومات، مسدود کردہ نمبر۔ درخواست کے ذریعہ کئے گئے سروے کے نتائج سے متعلق ڈیٹا۔

مقام کی معلومات: اگر صارف مقام سے متعلقہ افعال استعمال کرتے ہیں تو، ترتیبات پر انحصار کرتے ہوئے ان کے آلے کے (قریب) مقام پر ڈیٹا۔

ڈیوائس کی معلومات: ڈیوائس ماڈل، ڈیوائس آپریٹنگ سسٹم، فون کی ترجیحی زبان، آپریٹر استعمال کرنے والے صارفین کے بارے میں معلومات، ملکی معلومات۔

استعمال کی اطلاع: مواصلات کی قسم (بی آئی پی کالز، فوری پیغامات وغیرہ) کے بارے میں ڈیٹا، مواصلات کی مدت، تاریخ اور فریقین، لوگوں نے رابطہ کیا۔ بی آئی پی درخواست کے ذریعہ آپ کے مواصلات کے مواد سے متعلق کوئی ڈیٹا اکٹھا نہیں کرتا ہے۔
بیک اپ کی معلومات: اگر صارف درخواست کرتے ہیں تو، مواصلت کے اعداد و شمار کو بی آئی پی کے ذریعے بیک اپ کیا جاسکتا ہے۔

ایڈریس بک کی معلومات: صارف کے آلے پر موجود فون نمبرز، اور رابطہ کی فہرست۔
آپ کے ذاتی ڈیٹا کو کس مقصد کے لئے پروسس کیا جاتا ہے؟

آپ کے ذاتی ڈیٹا پر عملدرآمد بائی پی کے ذریعہ ذیل میں بیان کردہ مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔
شناخت کی معلومات: اس معلومات کا اطلاق صارف کی رجسٹریشن، غلطی / ناکامی کی اطلاعات، کنٹرول، ترقی اور آپریشنل سرگرمیوں کی وصولی، کاروباری ترقی، خدمت کے معیار کی پیمائش، مواصلات، داخلی تشخیص، فروغ، سروس تجزیہ، شکایت انتظامیہ، کسٹمر سروے عمل کے مقاصد کے لئے کیا جاتا ہے۔
ڈیٹا کا استعمال اور پسندیدہ: یہ ذاتی ڈیٹا کاروباری ترقی، براہ راست یا بالواسطہ مارکیٹنگ (درخواست میں صارفین کی مہمات، صارفین کو مشورے، خدمات اور افعال، اشتہارات کی پیش کش)، پروفائلنگ (عملی طور پر آپ کی ترجیحات، صارفین کے مقام، آپریٹر، استعمال کی مدت، کے مطابق اشتہارات کی پیش کش کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ قیام اور افعال کی مدت کے مطابق درجہ بندی)، آڈٹ اور کنٹرول، رسک مینجمنٹ، داخلی تشخیص، پیمائش اور خدمات کے معیار میں بہتری، مواصلات، شکایت کے انتظام کے عمل پر عمل درآمد، عمل درآمد اور آپریشنل سرگرمیوں کی ترقی وغیرہ”
واضح رہے کہ پچاس فیصد ایپلیکیشنز اسی طرح سے آپ کے ڈیٹا کا حصول کرتی ہیں۔
تاہم بیپ کے اصول رازداری کو پڑھ کر اتنا تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ایپ جب چاہے ہماری معلومات کسی تھرڈ پارٹی کو دے سکتا ہے یا فروخت کرسکتا ہے۔

(2) دوسری بات یہ کہ بیپ ایپ مکمل مفت نہیں ہے، جی ہاں! اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کرنا اور اس کا استعمال تو فری ہے؛ لیکن اس کے اندر کی مزید سہولیات کے حصول اور استعمال کے لیے آپ کو 10 روپے سے لے کر چھبیس سو روپے تک دینے پڑ سکتے ہیں۔
(3) تیسری بات یہ کہ اس ایپ کا حجم بہت زیادہ ہے: ”35” ایم بی۔ یعنی دیگر دو چیَٹ ایپلیکیشن کے برابر۔
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ کونسا ایپ استعمال کریں اور کونسا نہیں، تو اس بارے میں مشورہ یہ ہے کہ صرف کسی کے کہنے یا ترغیب دینے پر کسی ایپ کا استعمال مت کیجیے؛ بلکہ خود پسند کیجیے کہ آپ کے لیے کونسا ایپ زیادہ بہتر ہے، ہر نئے ایپ کے استعمال سے پہلے گوگل پر اس کی مکمل پرائیویسی پالیسی کو پڑھ لیجیے، زبان الگ ہو تو گوگل ٹرانسلیٹ کا سہارا لے کر اس کا ترجمہ دیکھیے۔

یوں تو آپ کی پرائیویسی اسی روز سے خطرے میں آجاتی ہے جس روز آپ ملٹی میڈیا موبائل کا استعمال شروع کرتے ہیں؛ لیکن گھبرانے کی بات نہیں ہے، کوئی بھی ایپلیکیشن یا ویب سائٹ غیرقانونی طریقے پر آپ کی پرائیویسی کا غلط استعمال نہیں کرسکتی، ورنہ اس پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔ تاہم آپ ملٹی میڈیا موبائل کے صارف ہیں تو خود ہوشیار رہیں، غیرقانونی بات چیت، غیر قانونی مواد کی اشاعت، انجان دیش کے انجان لڑکوں یا لڑکیوں سے گفتگو اور موبائل کیمرے کے سامنے برہنہ ہونے یا موبائل پر برہنہ تصاویر یا ویڈیوز دیکھنے سے ہمیشہ گریز کریں تاکہ آپ کی پرائیویسی کا غلط استعمال نہ ہوسکے۔ اسی طرح خواہ مخواہ قسم قسم کے ایپ کو اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ اور انسٹال نہ کریں، خاص کر ویڈیو چَیٹ کے ان ایپس سے دور رہیں جن میں دیش ودیش کی لڑکیوں سے لائیو چیٹ کا لالچ دے کر آپ کو بلیک میل بھی کیا جاسکتا ہے۔
میری پسند: میرے حساب سے ٹیلی گرام سب سے بہتر چَیٹ ایپلیکیشن ہے؛ لیکن میں ضرورتاً واٹس ایپ کا بھی استعمال کرتا ہوں، اس کے علاوہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ پر بھی موجود ہوں کہ ہر جگہ سے اپنی بات کو دور دور تک پہنچانے کا موقع ملتا ہے۔

از: آفتاب اظہر صدیقی ۔کشن گنج، بہار