بیٹی کی قبر پرباپ کے رقص کی ویڈیو وائرل، کہانی کیا ہے؟

1,285

ایران میں سوشل میڈیا پرجہاں ان دنوں حکومت مخالف مظاہروں کی ویڈیوز نشر کی جا رہی ہیں وہیں ایک ایسی ویڈیو بھی وائرل ہوئی ہے جس میں ایک شخص کو اپنی فوت ہونے والی بیٹی کی قبرپر رقص کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو کے حوالے سے مضاد معلومات سامنے آئی ہیں۔ بعض لوگ اس واقعے کو ایران میں جاری حکومت مخالف احتجاج سے جوڑ رہے ہیں۔

یہ افسانہ تراشا گیا ہے کہ لڑکی کے والد نے اس کی زندگی میں اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی شادی میں ڈانس کرے گا مگربیٹی شادی سے قبل ہی فوت ہو گئی تھی چنانچہ والد نے اس کی قبر پراپنا وعدہ ایفا کیا۔

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، خاص طور پر جب کچھ لوگوں نے اسے مہسا امینی کے قتل کے بعد حکومت کے خلاف جاری حالیہ مظاہروں سے جوڑا تو اسے بہت زیاہ شیئر کیا گیا۔

اس ویڈیوکو ہزاروں افراد نے لائیک اور شیئر کیا۔ خاص طور پر اس میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ دکھایا گیا تھا جب غم زدہ باپ جواں سال بیٹی کی قبر پر رقص کررہا ہے۔

مگریہ تو ایک ٹی وی سیریز کی ویڈیو ہے
مگراس ویڈیو کو ایران میں جاری احتجاج کے ساتھ جوڑنا غلط ہے۔ یہ ویڈیو کئی برس پرانی ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق ایران میں ہونے والے مظاہروں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ منظر ایک آذربائیجانی ٹی وی سیریز "Ata Ocaği” کے ایپیسوڈ 78 کا ہے۔ یہ واقعہ 8 جنوری 2018 کو یوٹیوب پر آذربائیجان کے قومی ٹیلی ویژن چینل Xezer TV کے ذریعےنشرکیا گیا تھا-

رقص کا کلپ ایپی سوڈ کے 18ویں منٹ میں قبرستان میں شوٹ کیا گیا تھا۔

اس کلپ میں میں اداکاری کا کردار قربان اسماعیلوف نے ادا کیا ہے، جس کا نام یوٹیوب ویڈیو پر کمنٹری میں بتایا گیا ہے اور اس کے فیس بک پیج پر پروگرام میں اس نےاپنے کام کے بارے میں پوسٹ کیا ہے۔

مہسا امینی کا قتل
قابل ذکر ہے کہ مہسا امینی ایک بائیس سالہ نوجوان لڑکی تھی جسے ایران کی مذہبی پولیس ’گشت ارشاد‘ نے 13 ستمبرکو حجاب کے حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کےبعد اسے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں امینی 16 ستمبر کوپولیس کی حراست میں انتقال کرگئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ایران بھرمیں حکومت کے خلاف شدید احتجاج جاری ہے۔