"بیوی کی بہن – سالی

2,700

بقلم: محمد سالک شفیق ہالائ

ایک بات یاد رکھیں کہ ایک غیرت مند، باشعور، عزت دار اور باحیا مرد ہمیشہ اپنی بیوی کی بہنوں (سالیوں) سے تعلقات میں اجتناب کرے گا۔ اسی طرح ایک غیرت مند، عزت دار شرم و حیا والی لڑکی ہمیشہ اپنے بہنوئ سے پردہ کرے گی۔ لیکن میں بڑے افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اب نہ ہی مردوں میں وہ شرم رہی اور نہ ہی عورتوں میں حیا رہی۔

سالیوں اور بہنوئ کی خوب محفلیں جمی ہوئ ہیں، کچہریاں چل رہی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ قہقہے لگاۓ جارہے ہیں، گپے لگاۓ جارہے ہیں، ہنسی میں لوٹ پوٹ ہوا جارہا ہے، ہرقسم کا بےہودہ مزاق اپس میں چل رہا ہے، کسی کا دوپٹہ کہاں معلوم نہیں، کسی کی نظریں کہاں کوئ خبر نہیں۔ بہنوئ اور سالی کے نام پر یہ ساری بے حیائ، بے شرمی بے غیرتی ہمارے گھروں میں عام ہیں۔

درحقیقت اس بات پر زیادہ دکھ ہوتا ہے کہ خود والدین ان حرکتوں کا برا نہیں مانتے۔ اپنی دیگر بیٹیوں اور داماد کی اس بے حیائ والی محفل پر مکمل آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں۔ اور پھر جو اسکے نتائج نکلتے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یقین جانیں ایسی تباہیاں ہیں کہ لکھنے سے گریز کر رہا ہوں کہ سمجھدار واسطے اشارہ کافی ہے۔

آپ لوگوں کی غفلت میں یہ سالی بہنوئ ہنسی مزاق ان دونوں کے میلان کی کس حد تک جاسکتا ہے اسکی کئ مثالیں معاشرے میں موجود ہیں۔ مطلب خود اپنے ہاتھوں سے اپنے داماد کو گناہ کی طرف دعوت دینے والی بات ہے۔ مہربانی کرکے کچھ ہوش کریں۔

بیوی کے ماں باپ سے گذارش ہے خدارا اپنے گھروں کی عزتوں کی حفاظت کیجیۓ۔ والدین تو اپنی اولاد کو برایئوں سے روکتے ہیں لیکن آپ کیسے والدین ہیں کہ آپکا داماد آپ کے گھر آکر آپ ہی کی دیگر بیٹیوں کے سامنے گھومتا پھرتا انسے کچہریاں کرتا ہے ہنس ہنس کر باتیں کرتا ہے اور آپ بُت بنے دیکھتے رہتے ہیں۔ کہ نہیں سالی اور جیجا ہیں ان میں تو ہنسی مزاق چلتا ہے۔ یقین جانیں یہ بڑی نادانی والے کام ہیں۔ مجھے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ سالک شفیق آپ عورت کو قید کرنے کی بات کرتے ہیں۔ پتھر کے زمانے کی بات کرتے ہیں۔ واللہ ہم تو عورت کو اسکا وہ مقام سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جو اسلام نے اسے دیا لیکن بیچاری نیا زمانے، نئ سوچ، نیا کلچر کی آڑ میں آکر اپنی حرمت کھو بیٹھتی ہے۔

خواتین سے کہوں گا اللہ کے واسطے اس حقیقت کو سمجھو کہ آپکا "بہنوئ” آپکے لیۓ غیر محرم ہے۔ اسلام نے اس سے آپکا پردہ رکھا ہے۔ اسکے سامنے آنا اور ہنسی مزاق کرنا واللہ میری بہنوں یہ اچھی مسلمان عورتوں والے کام نہیں ہیں۔ پردے میں اللہ نے عزت رکھی ہے۔ بےپردگی میں صرف ذلت و رسوائ کے سوا کچھ نہیں۔ بہنوئ، بہن، چاچے مامے تاۓ، خالو، پھوپھے ناراض ہوتے ہیں تو ہونے دیں لیکن کسی بھی غیر محرم کے سامنے اپنی عزت شرم و حیا کو ضایع نہ ہونے دیں۔ واللہ میری سمجھ سے باہر ہے کہ ضمیر کیوں نہیں جھنجھوڑتا کہ سامنے کھڑا شخص میری بہن کا شوہر ہی صحیح لیکن غیر محرم ہے اور میرے دینِ اسلام کا تقاضہ ہے کہ میں اپنے بہنوئ سے پردہ کروں۔

شادی شدہ بہنوں سے کہوں گا کہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنی بہنوں اور شوہر کے درمیان ہر قسم کی غیرضروری بات چیت بیٹھنا بٹھانا ہنسی مزاق بند کروایئں۔ اس چیز میں لاپرواہی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ کیوں کہ جس چیز سے اسلام ہمیں روک دے گویا وہ ہمارے لیے فائدہ مند ہے۔ اسلامی احکامات کو پس پشت ڈال کر اپنے دل کی مانے چلنے والوں نے ہمیشہ نقصان اٹھایا ہے۔ اپکو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ آپ کے پیچھے سے کیا کیا گُل کِھل رہے ہیں۔ ایسے درجنوں مسائل سے میرا انباکس بھرا پڑا ہے اور بہت سے لوگوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے سالی سے موبائل پر لگے رہتے ہیں اور انکی بیویوں کو کان و کان خبر نہیں ہوتی۔

یہ باتیں کرنا چھوڑ دیں کہ بہنوئ کہے میں اپنی سالی کو بہن مانتا ہوں، سالی کہے میں بھائ مانتی ہوں۔ خدا کی قسم یہ خود کو مطمئن اور سامنے والے کو بیوقوف بنانے والی باتیں ہیں۔

اگر کوئ سالی جوان اور خوبصورت ہے ایسے میں شوہر کہے کہ میں اپنی سالی کو بہن مانتا ہوں اور میرا اس پر دل خراب نہیں ہوتا تو وہی کل رات والی بات دوہراؤں گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یا پھر وہ انسان نہیں ہے بلکہ فرشتہ ہے، یا پھر یہ درمیانی مخلوق ہے۔ کیوں کہ شہوت مرد کے اندر فطری طور پر شامل ہوتی ہے۔ ایسا ہو نہیں سکتا کہ مرد کے سامنے جوان سالی آجاۓ اور اسکے دل میں شیطانی خیالات نہ آیئں، شیطانی خیالات صرف محرم رشتوں کے لیے نہیں آتے۔ باقی کوئ بھی غیر محرم خاتون بشرط جوان ہو سامنے آجاۓ تو شیطانی خیالات ضرور آیئں گے۔ اسی لیے تو مردوں نظریں نیچی رکھنے کا حکم ملا۔ اسی لیے تو عورتوں کو پردے کا حکم ملا۔ دراصل رشتہ داری اور عزت نے ہاتھ باندھ رکھے ہوتے ہیں ورنہ نجانے کیسا غضب ہوجاۓ اور کچھ گھروں میں تو غضب ہوچکے ہیں۔

بہرحال بات لمبی ہوگئ۔ آخر میں مختصر بات کہوں گا کہ اپنی بیوی کی بہنوں سے ہرقسم کی غیرضروری باتیں اور میل میلاپ سے اجتناب کیجیۓ۔ اسی میں ایک مرد کا وقار اور عزت ہے۔ سالیوں کے آگے پیچھے گھومنا، ان سے ہنسی مزاق وغیرہ یہ سب چھچھورے لوگوں کے کام ہیں۔

خواتین بھی اس حوالے سے زمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ اپنے سروں پر حیا کا تاج سجایئں۔ اپنے بہنوئ سمیت تمام غیر محرموں سے پردہ کریں۔ یہی ایک اچھی باحیا نیک مسلمان عورت کی پہچان ہے۔رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔