نئی دہلی: جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبداللہ کی شادی شدہ زندگی کا معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ ایسا اس لئے ہوا ہے کیونکہ ان کی اہلیہ پائل عبداللہ کے وکیل نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت کو لے کر رضامندی نہیں ظاہر کی ہے۔ ایسے میں عمر عبداللہ نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے عرضی کے ذریعہ دہلی ہائی کورٹ کے اس سرکلر کو چیلنج دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت کے لئے دونوں فریق کا رضا مند ہونا ضروری ہے۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کو عمر عبداللہ کی عرضی پر سماعت کرنے کے لئے رضامندی ظاہر کی۔ عمر عبداللہ نے دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے اپریل، 2020 کو جاری کئے گئے سرکلر کو چیلنج کیا تھا۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم نے دہلی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔

حالانکہ، سپریم کورٹ نے عمر عبداللہ کی اس عرضی پر جلد سماعت کے لئے منع کردیا اور کہا کہ اس معاملے کو مناسب وقت پر ہی سنا جائے گا۔ شروعات میں عمر عبداللہ کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے کہا کہ شادی کے معاملے میں دوسرا فریق آخری سماعت کے لئے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ جلد سماعت کی رضامندی نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ دوسرا فریق ٹرائل کورٹ کے سامنے کارروائی میں حاضر ہوا ہے۔


بینچ نے وکیل کپل سبل سے کہا کہ کیا ہم کسی کو رضامندی دینے کے لئے مجبور کرسکتے ہیں؟ ساتھ ہی معاملے کی سماعت کے دو ہفتے کے بعد کا وقت دیا گیا ہے۔ گزشتہ سال 3 نومبرکو دہلی ہائی کورٹ نے 26 اپریل، 2020 کے سرکلر کو چیلنج دیتے ہوئے عمر عبداللہ کی عرضی کو مسترد کردیا گیا تھا۔ عمرعبداللہ کی طرف سے دلیل دی گئی تھی کہ سال 2016 کے ٹرائل کورٹ کے حکم کے خلاف اس کی میٹرو مونیئل اپیل فروری 2017 سے اب تک آخری سماعت کے لئے فہرست نہیں ہوسکی ہے۔ کووڈ 19 وبا کے سبب عدالتوں نے شیڈول کے مطابق کام ہونے پر اسے نہیں لیا گیا کیونکہ ان کی اہلیہ پائل عبداللہ نے ورچوئل کارروائی کے لئے رضامندی نہیں دی۔