• 425
    Shares

’میں پبلک پراپرٹی ہوں لیکن میرا خاندان پبلک پراپرٹی نہیں ہے‘

سیالکوٹ: کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب مٹی کے برتنوں میں کھانا پکاتے اور کچے صحن میں مختلف پکوان پکاتے اور دیکھنے والے کو ان کی ترکیبیں سکھاتے مبشر صدیق اپنے مداحوں کی توجہ اور محبت کا شکریہ ادا کرتے نظر آتے تھے۔ لیکن اب اپنے یوٹیوب چینل پر تیس سیکنڈ کے مختصر سے کلپ میں وہ لوگوں سے التجا کرتے نظر آئے کے ’خدا کا واسطہ ہے مجھ سے ملنے مت آئیں۔‘ضلع سیالکوٹ کے چھوٹے سے گاؤں کنگڑا سے تعلق رکھنے والے ولاگر مبشر صدیق نے یوٹیوب پر ’ولیج فوڈ سیکریٹس‘ کے نام سے ایک چینل شروع کیا جس پر وہ دیہاتی پکوانوں کی تراکیب بتاتے تھے۔ سادہ سے کچے صحن اور کچن میں یا کھیتوں میں کھانے بناتے مبشر کے فالوور دیکھتے دیکھتے بڑھنے لگے۔ کچھ ہی عرصے میں وہ اتنے مقبول ہو گئے کہ اس سے چینل سے انھیں ماہانہ اچھی آمدنی بھی ہونے لگی۔مبشر کی مقبولیت کے بعد ان کے بارے میں بی بی سی اردو سمیت کئی خبر رساں اداروں میں چرچے بھی ہوئے۔ لیکن اب وہ اپنی مداحوں سے ہاتھ جوڑ کر ان سے نہ ملنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

مبشر صدیق ہیں کون؟
مبشر کے گاؤں کی جانب جانے والی سڑک بھی چھوٹی ہے اور گاؤں میں انٹرنیٹ بھی باقاعدگی سے دستیاب نہیں تھا اور انھیں اپنی ویڈیو گاؤں سے ایک اور جگہ جا کر آپ لوڈ کرنی پڑتی تھیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’میری تعلیم میٹرک ہے، اور وہ بھی میں نے تھرڈ ڈویژن میں کی ہوئی ہے۔ اور میں ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے بالکل ایک چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا ہوں۔ ‘مبشر اُس وقت تک اپنی شہرت اور کامیابی سے لطف اندوز ہوتے رہے جب تک ان کے مداح ان کے گاؤں کو دیکھنے اور ان سے ملنے ان کے گاؤں تک نہیں پہنچ گئے۔پہلی بار مبشر نومبر 2019 میں اپنے مداحوں سے درخواست کرتے نظر آئے کہ ان کے گاؤں میں آ کر ویڈیو نہ بنائیں۔ ان کا موقف تھا کہ لوگ ان کے گاؤں میں آ کر خواتین کی ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتے ہیں اور چونکہ لوگ خود کو مبشر کا مہمان قرار دیتے ہیں اس لیے انہیں پورے گاؤں سے معافی مانگنی پڑی۔

اس وقت پانچ منٹ سے زیادہ طویل ویڈیو میں انھوں نے گاؤں والوں کی جانب سے تنبیہ کی تھی اگر کسی کو ویڈیو بناتے دیکھا گیا تو اسے پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔لیکن اب پھر سے ایسا کیا ہو گیا کہ انھیں لوگ کو واشگاف الفاظ میں کہنا پڑا کہ ’جو لوگ ہمارے گاؤں ہم سے ملنے آتے ہیں میں ہاتھ جوڑ کر ان سے معافی مانگتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اللہ کے واسطے ہم سے ملنے نہ آئیں۔ اور اگر یہ بات آپ کو بری لگی ہے تو پھر بھی اللہ کے واسطے ہمیں معاف کر دیں۔‘وہ اس تیس سیکنڈ کی ویڈیو میں یہی جملے دہراتے نظر آئے۔تو آخر ایسا کیا ہوا کہ انھیں یہ التجا کرنی پڑے؟

خاندان کی خواتین کی خفیہ ویڈیوز بنانے کا الزام:مبشر صدیق کا کہنا ہے کہ کچھ خواتین یو ٹیوبر ان سے ملنے ان کے گھر گئیں جب وہ گھر پر نہیں تھے، تو وہ ان کے گھر کی خواتین کی ویڈیو خفیہ کیمروں سے بنا کر لے گئیں اور انہیں عام کر دیا۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا ’میں کسی کا نام نہیں لینا چاہتا۔ اگرچہ ان خاتون یو ٹیوبروں نے یہ ویڈیو میری درخواست پر اب ہٹا دی ہیں لیکن مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے میں نے یہ معذرت کی تھی۔‘مبشر صدیق کا کہنا تھا کہ ان ویڈیوز میں ان کی والدہ، بہن اور بھانجی کی بلا اجازت عکس بندی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا ’میں نے ان کو ای میل لکھی تھی کیونکہ ان کا نمبر میرے پاس نہیں تھا۔ میں نے ان سے ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کو کہا۔ اگرچہ انھوں نے ڈیلیٹ تو کر دی لیکن پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب دوسرے لوگ یہ ویڈیو ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہ مبشر کی فیملی ہے، پھر انٹرنیٹ سے کوئی چیز ہٹانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چونکہ یہ ویڈیو ابھی ایک ہی چینل پر تھی اور زیادہ ویو بھی نہیں تھے اس لیے وقت پر ہی ڈیلیٹ کروا دی۔‘’نجی زندگی پر بات کریں ویڈیو نہ بنائیں‘:مبشر صدیق کے بعد اب ان کے بھائی بھی یوٹیوب چینل پر اپنی زندگی کی کامیابیاں اور واقعات شیئر کرتے نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں مبشر کے نئے گھر کی سیر کروائی گئی اور ان کی بیٹی کی پیدائش پر اس سے ملاقات بھی کروائی گئی۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ خود بھی اپنی ذاتی زندگی لوگوں سے شیئر کرتے ہیں تو اس میں اعتراض کس بات پر ہے؟مبشر صدیقی کا کہنا تھا ’آپ کبھی بھی ہماری کسی ویڈیو میں خاندان کے افراد کو نہیں دیکھیں گے۔ میری ذاتی زندگی کے بارے میں اگر کوئی مجھ سے بات کرتا ہے تو وہ مسئلہ نہیں ہے لیکن اگر میرے خاندان کو آن کیمرہ لائیں گے تو وہ مسئلہ ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ان سے ملنے مرد اور خواتین دونوں آتے ہیں تاہم خواتین آتی ہیں تو انہیں گھر میں لے جایا جاتا ہے لیکن خفیہ طور پر ویڈیو بنانا اخلاقی طور پر بھی مناسب نہیں۔ میری جگہ کوئی بھی ہو گا وہ اس کی اجازت نہیں گا۔‘ان کا کہنا تھا اگرچہ ان کے گھر کی خواتین سے گفتگو معمول کی ہی تھی لیکن انھیں بلا اجازت کیمرے پر لانا ٹھیک نہیں تھا۔مبشر صدیق کا کہنا تھا کہ ’ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ مشھور ہونے کے بعد کی زندگی کیسی ہوتی ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا ’میں تسلیم کرتا ہوں کے میں پبلک پراپرٹی ہوں لیکن میرا خاندان پبلک پراپرٹی نہیں ہے۔‘
’سوشل میڈیا پر اپنی معلومات سوچ سمجھ کر ڈالیں‘:سوشل میڈیا کی ترقی اور پھیلاؤ سے جہاں سیلیبریٹی اور مداحوں میں فاصلے کم ہوئے ہیں وہیں یہی کم فاصلے مسائل کی وجہ بھی بن رہے ہیں جیسے کہ مبشر صدیق کے معاملے میں دیکھنے کو ملا۔انٹرٹینمنٹ کی خبروں سے وابستہ صحافی آمنہ حیدر کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی آمد کے بعد یہ سیلیبریٹی ٹی وی، فلم کے علاوہ ہر جگہ ہیں اور اب ان کے لیے مداحوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ‘’کچھ لوگ اپنی ذاتی زندگی کو عام نہیں کرتے، لیکن کچھ سیبریٹی خاص کر یوٹیوبروں کے لیے یہ تو شہرت کے مضمرات میں سے ہے۔ ان میں اور اداکاروں میں صرف پلیٹ فارم کا فرق ہے۔ شاید دس بارہ سال کے تجربے کے بعد وہ سمجھ جائیں کہ کیسے ذاتی زندگی کو شہرت سے الگ رکھنا ہے لیکن ایک یوٹیوبر کی شہرت کی عمر شاید دس سال تک نہ ہو۔ ‘آمنہ حیدر کا کہنا تھا کہ شائقین کا بھی یہی عالم ہے ’لوگوں کو اپنی حدود کا نہیں پتا، کیا زبان استعمال کرنی ہے اور یہ احساس نہیں کہ ان کی بات کا کسی پر کیا اثر پڑے گا۔‘’میرا تو مشورہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اپنی معلومات سوچ سمجھ کر ڈالیں، اگرچہ سائبر کرائم قانون ہیں، انھیں تحفظ بھی ملنا چاہیے لیکن اگر کوئی گھر کا پتا اور ساری معلومات آن لائن کر دیں گے تو اس کے اثرات تو ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’پوری دنیا میں مداحوں کو کنٹرول نہیں کیا جا سکتا البتہ آپ خود کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔‘
سوشل میڈیا رد عمل:مبشر کی اس مختصر ویڈیو پر جس میں انھوں نے لوگوں سے ملنے نہ آنے کی درخواست کی، بیشتر لوگ ان کی تائید کرتے نظر آئے اور ان کا کہنا تھا کہ کسی کی بھی نجی زندگی کا احترام کیا جانا چاہیے۔ایک صارف محمد فاضلی عزیز کا کہنا تھا ’ان کی مشکلات میں سمجھ سکتا ہو کیونکہ میرا تعلق بھی ایک پسماندہ گاؤں سے جہاں پر طرح طرح کے لوگ رہتے ہے اور باتیں بناتے ہیں۔‘فہد شنواری کا کہنا تھا ’بالکل صحیح. وہ صرف ’وہ ایک یو ٹیوبر ہیں اور آپ کو ان کے مواد کو دیکھنا اور اس سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ ان کے خاندان کو پریشان کرنا برا ہے جیسے ان کے دروازے پر دستک دے کر بن بلائے مہمان بن جانا۔‘کچھ لوگوں کو اعتراض تھا کہ مبشر کی جانب سے اپنے مداحوں کو دعوت دینا مسئلہ کی وجہ بنا۔ ایک صارف عمران آفریدی کا اعتراض تھا کہ ’آپ کو پہلے ہی ہر کسی کو اپنے گاؤں آنے کے لیے نہیں کہنا چاہیے تھا، اور یہ کہ آپ گیسٹ روم ٹائپ سیٹ اپ بنا رہے تھے۔ اس کے علاوہ آپ ، آپ کے بھائی زین اور مدثر ہر ذاتی تفصیلات، بچے اور گھر کے کونے وغیرہ پوری دنیا کو دکھاتے ہیں۔‘تاہم ایک صارف نے مشورہ دیا کہ ’آپ کو ہر مہینے ملاقات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ میں آپ کے درد کو محسوس کرسکتا ہوں لیکن آپ کے مداح ہیں انھیں سنبھالیں۔ یہ آپ کی زندگی کا حصہ ہیں۔ جب آپ عوامی چہرہ ہوں تو شہرت کے مشکلات بھی آتی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ ہر دوسرے مہینے معافی مانگتے ہوئے اپنی تو ہین نہ کریں۔‘(بہ شکریہ بی بی سی اردو)

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔