نئی دہلی : بینکوں کو خانگیانے کے خلاف دو روزہ ہڑتال کا آج آغاز ہوا جس کے سبب ملک بھر میں بینک سرویس بری طرح متاثر ہوئی کیونکہ بینک ملازمین، عہدیداروں اور منیجرس عوامی شعبہ کے بینکوں کو خانگیانے کے مجوزہ مرکزی منصوبے کے خلاف یونائیٹیڈ فورم آف بینکس یونین(یو ایف بی یو)کی اپیل پر دوروزہ ہڑتال پرچلے گئے ہیں۔یو ایف بی یو،9بینک ٹریڈ یونینوں جیسے اے آئی بی ای اے ، اے آئی بی او سی، این سی بی ای، اے آئی بی او اے ، بی ای ایف آئی،آئی این بی ای ایف،آئی این بی او سی، این او بی ڈبلیو اور این او بی او پر مشتمل اجتماعی تنظیم ہے ۔مرکزی حکومت کی جانب سے عوامی شعبے کے دو بینکوں کو خانگیانے کے اعلان کے جواب میں یو ایف بی یو نے 15اور16مارچ کو دو دن مسلسل احتجاج کی اپیل کی ہے۔ آل انڈیا ایمپلائز اسوسی ایشن (اے آئی بی ای اے)کے جنرل سکریٹری سی ایچ وینکٹ چلم نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہاکہ 4، 9، 10 مارچ کو ایڈیشنل چیف لیبر کمشنر ایس سی جوشی کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں یو ایف بی یو نے حکومت کی جانب سے اس فیصلہ پر دوبارہ غور کی صورت میں ہڑتال پر نظرثانی کی پیشکش کی۔ وینکٹ چلم نے کہاکہ حکومت یو ایف بی یو کی پیشکش پر رضامند نہیں ہوئی۔اسی لئے ہم ہڑتال کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ وینکٹ چلم نے کہاکہ صبح سے ہی کامیابی کے ساتھ ہڑتال شروع ہوئی ۔ملازمین، عہدیداروں اور منیجرس اس ہڑتال میں بڑے پیمانہ پرجوش وخروش کے ساتھ شریک ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ مختلف ریاستوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بینکنگ سرگرمیاں متاثر اور مفلوج ہوگئیں اور بیشتر برانچس نہیں کھولے گئے ۔چیکس کا کلیرنس بھی نہیں ہوسکا کیونکہ کئی برانچس بند رہے ۔ اوسطاً تقریباً دو کروڑچیکس جن کی مالیت 16,500کروڑ روپئے ہے ،کلیرنہیں کئے جاسکے ۔یونین کے سرکردہ لیڈر نے کہا کہ حکومت کے ٹریثری آپریشنس اور دیگر تمام معمول کی بینکنگ سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ کل منگل کو بھی ہڑتال جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ ہماری ہڑتال ہمارے کسی بھی ملازم کے مطالبہ پر نہیں ہے۔ یہ ہڑتال نجی مفادات حاصلہ کے ہاتھوں میں بینکوںکو جانے سے روکنے کیلئے کی جارہی ہے ۔یہ ہڑتال عوام کو بچانے کیلئے کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم اس ہڑتال کے سلسلہ میں عوام سے تعاون اور تائید کے خواہشمند ہیں تاکہ عوامی شعبہ کے بینکوں کو خانگیانے سے روکا جاسکے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں