بینکنگ سیکٹر میں کھلبلی، آر بی آئی نے 9 کوآپریٹو بینکوں کے خلاف اٹھایا سخت قدم، لاکھوں روپے کا جرمانہ عائد

305

ممبئی:کوآپریٹو بینکوں کے ذریعہ اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر آر بی آئی لگاتار سخت اقدام کر رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر آر بی آئی نے اصولوں کو نظر انداز کیے جانے کی پاداش میں 9 کوآپریٹو بینکوں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے اپنی ویب سائٹ پر جو جانکاری مہیا کی ہے اس کے مطابق الگ الگ بینکنگ اصولوں کی خلاف ورزی معاملے میں ان کوآپریٹو بینکوں پر تقریباً 12 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

آر بی آئی کی ویب سائٹ پر موجود جانکاری کے مطابق جن بینکوں پر پینالٹی لگائی گئی ہے ان میں برہامپور کوآپریٹو ستی بینک، عثمان آباد عوامی کوآپریٹو بینک، سنترام پور اَربن کوآپریٹو بینک لمیٹڈ، ضلع کوآپریٹو سنٹرل بینک، جمشیدپور سٹی کوآپریٹو بینک، رینوکا پبلک کوآپریٹو بینک، کرشنا مرکنٹائل کوآپریٹو بینک لمیٹڈ کے علاوہ کیندرپاڑا اَربن کوآپریٹو بینک لمیٹڈ، نوانگر کوآپریٹو بینک لمیٹڈ کے نام شامل ہیں۔

مذکورہ بالا کوآپریٹو بینکوں پر 25 ہزار روپے سے لے کر 3 لاکھ روپے تک کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ آر بی آئی کے ذریعہ جاری پریس ریلیز کے مطابق برہامپور کوآپریٹو سٹی بینک (اڈیشہ) پر 3.10 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے، جب کہ مہاراشٹر کے عثمان آباد عوامی کوآپریٹو بینک پر 2.5 لاکھ روپے، گجرات کے سنترام پور اَربن کوآپریٹو بینک پر 2 لاکھ کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔ بینکنگ ایکٹس کو نظر انداز کرنے کے سبب مدھیہ پردیش کے ضلع کوآپریٹو بینک پر 1 لاکھ روپے اور جھارکھنڈ کے جمشیدپور شہری کوآپریٹو بینک پر بھی 1 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ چھتیس گڑھ کے رینوکا کوآپریٹو بینک پر بھی ایک لاکھ جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں مدھیہ پردیش کے کرشنا مرکنٹائل کوآپریٹو بینک اور اڈیشہ کے کیندرپاڑا اَربن کوآپریٹو بینک پر 50-50 ہزار روپے، جبکہ گجرات کے نوانگر کوآپریٹو بینک پر 25 ہزار روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔

آر بی آئی کا کہنا ہے کہ بینک کے ذریعہ ریگولیٹری پر عمل کرنے میں ہوئی خامیوں کے سبب ان پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ حالانکہ آر بی آئی نے واضح کر دیا ہے کہ بینکوں پر عائد کردہ اس جرمانے سے گاہکوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

یعنی آر بی آئی کی اس کارروائی سے ان بینکوں کے اکاؤنٹ ہولڈرس کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ بینکوں اور گاہکوں کے درمیان جاری لین دین پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔