بیلگاوی میں مندر کے اوپر بنی ہے شاہی مسجد: پٹیل

بیلگاوی، 29 مئی (یو این آئی) کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے ابھے پٹیل نے پورے ملک میں جاری مندر مسجد تنازعہ کے درمیان اتوار کو یہاں شہر میں بنی شاہی مسجد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسےہندو مندر کے مقام پر بنایا گیا ہے اوراس جگہ کا سروے کیا جائے۔مسٹر پٹیل نے کہا کہ وہ مسجد گئے تھے، جہاں انہوں نے دیکھا کہ اس کے دروازے اور ستون مندروں سے مشابہ ہیں۔بی جے پی ایم ایل اے نے کہا، ’’میں نے اس سلسلے میں معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔

میں ضلعی انتظامیہ سے گزارش کرتا ہوں کہ اس جگہ کا سروے کرایا جائے۔ سروے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا، "وہ اسے ہندو تنظیموں کے نوٹس میں بھی لائیں گے اور مزید کارروائی کے لیے ضلعی انتظامیہ سے بات کریں گے۔”اس ہفتے کے شروع میں، کیرالہ کے پجاریوں نے یہ پتہ لگانے کی لئے ‘تمبولا پرشن’ کی رسم ادا کی کہ کیا منگلورو میں ملالی مسجد کے مقام پر کوئی مندر موجود ہے۔ پجاریوں کو ملالی کے رامنجنیہ بھجن مندر میں ‘تمبولاپرشن’ منعقد کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ رسم کے بعد، مشہور نجومی گوپال کرشن پانیکر نے کہا کہ متنازعہ جگہ پر ‘ساندھیہ’ (ایک دیوتا کا مسکن) تھا۔ایک اور واقعہ میں، ہندو جنجاگرتی سمیتی (ایچ جے ایس) نے الزام لگایا کہ بنگلور میں ایک ہندو مندر کے اوپرٹیپو پیلس بنایا گیا ہے۔ایچ جے ایس کے ترجمان موہن گوڑا نے کہا، ”ٹیپو محل کبھی سنسکرت ویدشالا تھا۔ ٹیپو نے کوٹے وینکٹرمن سوامی مندر پر قبضہ کر لیا تھا۔یہ معاملہ وارانسی میں گیانواپی مسجد تنازعہ کے درمیان سامنے آیا ہے۔