بیلجیئم کی ایک لیبر کورٹ نے ہیڈ اسکارف پہن کر کام کرنے کی خواہشمند مسلمان خاتون کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اس حوالے سے دستیاب اطلاعات کے مطابق دسمبر 2015 میں یورپین دارالحکومت برسلز میں کام کرنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کمپنی STIB نے ڈرائیور کی آسامی کا اشتہار دیا تھا۔

ملازمت کے لیے ایک ہیڈ اسکارف پہننے والی خاتون نے بھی اپلائی کیا۔ لیکن کمپنی نے اُسے مذہبی علامت قرار دیتے ہوئے خاتون کو ہیڈ اسکارف کے ساتھ قبول کرنے سے انکار کردیا۔اسی خاتون نے جنوری 2016 میں دوبارہ ملازمت کی درخواست دی جسے ایک بار پھر کمپنی کی جانب سے مسترد کردیا گیا۔

بعد ازاں مذکورہ خاتون نے برسلز کی لیبر کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف مقدمہ کردیا۔ لیبر کورٹ کی جانب سے اب اس مقدمے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

کورٹ کے مطابق کمپنی کا یہ فیصلہ امتیازی ہے۔ کیونکہ اسی کمپنی میں کام کرنے والے مسلمان ڈرائیوروں کو اپنی داڑھی بڑھانے کی اجازت ہے لیکن کمپنی ہیڈ اسکارف پہن کر کام کرنے والی ایک مسلمان خاتون کو اجازت نہیں دے رہی۔

عدالت کے فیصلے کے مطابق یہ ایک مرد کے مقابلے میں ایک عورت کو اس کی صنف کی وجہ سے کام سے روکنے کے مترادف بھی ہے۔

لیبر کورٹ کے اس تازہ فیصلے نے سیاسی سطح پر ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ کیونکہ کچھ سیاسی جماعتیں اس فیصلے کو ملکی سیکولر شناخت و قانون سے متصادم قرار دے رہی ہیں۔ جبکہ مسلمان اسے دوسرے شعبوں میں بھی مسلمان خواتین کے ہیڈ اسکارف پہن کر کام کرنے کی اجازت حاصل کرنے کا راستہ خیال کر رہے ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرے گی۔ کمپنی کے سی او کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہمارا اسٹاف عوام کو مطلوب خدمات معیار کے مطابق مہیا کر رہا ہے کہ نہیں۔