بیدر : دسہرہ کے موقع پر ہجوم نے تاریخی محمود گاوان مسجد و مدرسہ میں داخل ہوکر پوجا کی : ویڈیو دیکھیں

3,325

بنگلورو: دسہرہ کے جلوس میں شریک ایک ہجوم مبینہ طور پر کرناٹک کے بیدر ضلع میں تاریخی محمود گاواں مسجد و مدرسہ میں گھس گیا۔ انہوں نے نعرے لگائے اور عمارت کے ایک کونے میں پوجا بھی کی۔ پولیس نے نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ مسلم تنظیموں نے کل تک کوئی گرفتاری نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کا وعدہ کیا ہے۔

1460 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا، بیدر میں واقع محمود گاون مدرسہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت آتا ہے۔ ورثے کا ڈھانچہ بھی قومی اہمیت کی یادگاروں کی فہرست میں شامل ہے۔ پولیس نے بتایا کہ بدھ کی شام ہجوم نے مدرسے کا تالا توڑ دیا۔

انہوں نے پوجا کرنے کے لیے ایک کونے میں جانے سے پہلے مدرسے کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر "جے شری رام” اور "ہندو دھرم جئے” کے نعرے لگائے۔ آن لائن گردش کرنے والی جگہ سے ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ سیڑھیوں پر ایک بہت بڑا ہجوم کھڑا ہے اور عمارت کے اندر جانے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقامی پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

بیدر کی کئی مسلم تنظیموں نے واقعے کی مذمت کی ہے اور قصورواروں کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملزمان کو گرفتار نہ کیا گیا تو نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاج کیا جائے گا۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے اس واقعے پر ریاست کی حکمران جماعت بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اس طرح کے واقعات کو "مسلمانوں کو نیچا دکھانے” کو فروغ دے رہی ہے۔

ناقدین نے بی جے پی پر ریاست کے کچھ حصوں کو فرقہ وارانہ تجربات کے لیے مرکز میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ الزامات حجاب پر جھگڑے کے بعد شروع ہوئے، اور ہندو گروپوں نے مندر کے میلوں میں مسلمان تاجروں پر پابندی لگانے پر اصرار کرتے ہوئے اس میں اضافہ کیا۔

اگست میں گنیش چترتھی ہبلی کے عیدگاہ گراؤنڈ میں منائی گئی۔

مدرسہ محمود گاواں بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بیدر میں واقع ایک قدیم جامعہ ہے۔ اس کی تعمیر بہمنی سلطنت کے دور میں کی گئی۔ اس کی بنیاد بہمنی سلطنت کے وزیر اعظم محمود گوان نے رکھی۔ محمود گاوان نہایت ہی لائق اور زیرک وزیر اعظم تھے اور علم و فراست کو عام کرنے کے لیے سلطان کی اجازت سے اس کی تعمیر 15 ویں صدی عیسوی میں کروائی۔ یہ مدرسہ بھارتی حکومت کی جانب سے نشان دہی کردہ ہے۔ اس کی نگہداشت بھارت کا محکمہ آثار قدیمہ کرتا ہے۔[1][2] محمود ایک تاجر تھے، ایران کے شہر گیلان سے ہندوستان آئے تھے۔ قسمت نے ایران کے اس تاجر کو بہمنی سلطنت کا وزیرِ اعظم بنادیا تھا۔ انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے اس کی تعمیر کروائی۔ یہ ایک اقامتی مدرسہ تھا۔ خراسان کے نمونے پر اس مدرسہ کی تعمیر کروائی گئی۔