سیکر، 23 جنوری (یو این آئی) راجستھان کے سیکر ضلع میں ایک سرکاری ٹیچر نے بیٹے کی موت کے بعد اپنی بہو کو تعلیم دلا کر نہ صرف اسے قابل بنایا بلکہ بیٹی کی طرح اس کی دوبارہ شادی کرکے معاشرے میں ایک مثال قائم کی ہے۔ضلع کے رام گڑھ شیخاوتی کے دھندھن گاؤں کی سرکاری ٹیچر کملا دیوی کے بیٹے شبھم بنگاروا کی شادی مئی 2016 میں تاجسر کی سنیتا سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ستمبر میں شبھم ایم بی بی ایس کرنے کرغزستان چلا گیا ۔

جہاں شادی کے چھ ماہ بعد اچانک بین اسٹروک سے اس کی موت ہوگئی۔بہو سنیتا کو اکیلا پن نہ محسوس اس لئے سرکاری ٹیچر نے پہلے اسے بیٹی بنا کر رکھا اور پھر اس کی مرضی کے مطابق پڑھایا۔ سنیتا نے بھی اپنی محنت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سال 2021 میں پہلی ہی کوشش میں سرکاری لیکچرر کی نوکری حاصل کر لی۔ سماج کے لوگوں نے استاد کملا اور ان کے شوہر کے اس کام کو سراہا۔ساس بنی ماں کملا یہیں نہیں رکی۔ انہوں نے اپنے خاندان کو متحد کیا اور سنیتا کی دوسری شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

جس پر بہو سنیتا نے انکار کر دیا لیکن جب پورے خاندان نے اسے بیٹی سمجھ کر اپنے جذبات کا اظہار کیا تو سنیتا نے رضامندی ظاہر کی۔ اس کے بعد لڑکے کی تلاش شروع ہوئی جو چندر پورہ کے مکیش ماولیہ کی شکل میں پوری ہوئی۔ مکیش اور سنیتا کی شادی کی بات ہوئی تو لڑکے والوں نے بھی خوشی خوشی اسے قبول کر لیا۔ دونوں کی شادی دھوم دھام سے ہوئی۔ سنیتا کی ساس کملا اور سسر اوم پرکاش نے کنیا دان کیا۔ مکیش بھوپال میں سی اے جی کے آڈیٹر ہیں اور سنیتا چورو ضلع کے سردارشہر میں نیناسر سمیریا میں تاریخ کی لیکچرر ہیں۔