بہار کے ضلع بانکا میں ایک زوردار بم دھماکہ کے سبب جہاں مدرسہ کی ایک عمارت منہدم ہو گئی، وہیں ایک مولوی کی موت کی خبر بھی سامنے آ رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ جہاں پر بم دھماکہ ہوا وہاں قریب میں ہی ایک مسجد واقع ہے، لیکن اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ مدرسہ کی عمارت کا نصف حصہ پوری طرح ملبے میں تبدیل ہو جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور اس کی کئی تصویریں بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔

ہندی نیوز پورٹل ’دینک جاگرن‘ پر شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ میں کم و بیش نصف درجن افراد زخمی ہوئے ہیں اور ایک امام کی موت واقع ہو گئی ہے۔ پولس کے ذریعہ لاش کو برآمد کیے جانے کی بات بھی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ شائع خبر کے مطابق بم دھماکہ کے بعد زخمی ہوئے سبھی لوگوں کا علاج قریب کے ہی کسی علاقہ میں کرایا جا رہا تھا، لیکن اس تعلق سے کوئی مصدقہ جانکاری حاصل نہیں ہو سکی ہے۔ علاج کے دوران ہی مولوی کی موت ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ رینیا جوگڈیہہ پنچایت کے چاندنی ندی سے ملحق نوٹولیا واقع نوری مسجد اسلام پور احاطہ کے قریب بم دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ وہاں موجود مدرسہ منہدم ہو گیا۔ اچھی بات یہ رہی کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے مدرسہ بند تھا اور گیٹ میں بھی تالا لگا ہوا تھا، ورنہ اس دھماکہ میں مدرسہ کے طلبا کو بھی کافی نقصان پہنچتا۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ قریبی گھروں کے لوگ گھر خالی کر کے کسی دوسری جگہ چلے گئے ہیں۔