Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

بھیونڈی میں 18 جنوری کو سی اے اے این آر سی و این پی آر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی تیاری

IMG_20190630_195052.JPG

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی شہر میں کل جماعتی تنظیم کے مشترکہ پلیٹ فارم سمبدھان بچاؤ سنگھرس سمیتی کے زیراہتمام 18 جنوری کو شہر کے پرسورام ٹاورے اسٹیڈیم میں سی اے اے اور این آر سی و این پی آر جیسے ملک مخالفت قانون کے خلاف ہونے والے زبردست احتجاجی مظاہرے کے سلسلے میں آج صنوبر ٹریننگ سینٹرمیں پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ۔

جس میں قانون بچاؤ سنگھرس سمیتی کے اڈہاک کمیٹی کے رکن ایڈوکیٹ کرن چنے وجئے کاملے نے اخباری نمائندوں سے خطاب کیا ۔ پروگرام کی سرپرستی محمد فاضل انصاری مولانا اوصاف احمد فلاحی نے پروگرام کی کامیابی کے لئے پریس کو سب سے اہم ذریعہ بتایا ۔ اس پروگرام بیداری لئے ایک ٹائٹل دیا گیا ہے چلو دھوبی تالاب ابھی نہیں تو کبھی نہیں جاگو اور جگاو ۔

اس عظیم الشان پروگرام میں لاکھوں کا مجمع ہوسکتا ہے کیونکہ ترتیب دئے گئے حالیہ قانون کی مخالفت میں جہاں پورے ملک میں احتجاج ہورہا ہے اور کمزور واقلیت پریشان ہے وہیں اس موضوع پر بےباکی سے گفگتو کرنے والے شعلہ بیان مقررین تشریف لارہے ہیں ۔ بطور خاص کیبنٹ منتری جتیندر آوہاڑ ۔یوگیندر یادو ۔جسٹسں کولسے پاٹل ۔عمر خالد دہلی ۔مجتبی فاروق اورنگ آباد ۔شبیر احمد انصاری صدر آل انڈیا مسلم او بی سی مسلم آرگنائزیشن اور محترمہ بنت حوا وغیرہ پروگرام میں یہ مطالبے ہونگے سی اے اے نہیں امن چاہئے ۔این پی آر نہیں روزگار چاہئے ۔این آر سی نہیں حقوق چاہئے ۔ پورے بھارت میں پرامن احتجاج اس ملک مخالفت قانون کے لئے ہورہا ہے ریاست مہاراشٹر کے وزیر اعلی نے مہاراشٹر میں اسے نافذ نہیں کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ہم اس بیان کا استقبال کرتےہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ کیرلا کی طرح اسمبلی میں اسے رد کرنے کی تجویز لا کر اسے یقینی بنایا جائے کہ مہاراشٹر میں این آر سی نہیں ہوگا اور کوئی ڈیٹینشن کیمپ نہیں ہوگا ۔

اس موقع پر ایڈوکیٹ کرن چنے نے کہا کہ یہ قانون بھارت کے آئین کے خلاف ہے کیونکہ اس قانون میں سبھی کو شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے مگر مسلمانوں کو نظرانداز کیا گیا ہے جو دستور ہند کی دفعہ 14اور دیگر متعدد دفعات کے خلاف ہے ۔ کرن چنے نے مزید کہا کہ ہم بی جے پی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ نے جنگ آزادی کیا کیا حصہ رہا ہے جو خود کبھی ملک وفادار نہیں تھے وہ آج پورے ملک سے وفاداری کا ثبوت مانگتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت آر ایس ایس کے نظریہ پر کام کررہی ہے جس میں کمزور اور اقلیتوں کو دو نمبر کا شہری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ ملک کے نیشنل جھنڈے کو نہیں مانتے اور جن گن من قومی ترانے کو نہیں مانتے آج وہی اصلی ملکی بننے کی بات کررہےہیں ہم اس قانون کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی کے سلسلے میں 18 جنوری کو اسٹیڈیم میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا جارہا ہے جو پوری بھیونڈیاور ہر ذات دھرم کی طرف سے ہے
مولانا اوصاف احمد فلاحی نے کہا کہ حکومت دستور کے خلاف کام کررہی ہے اور یہ دستور بنا نہیں رہی ہے بلکہ ملک کے دستور کو ختم کررہی ہے اور انھوں نے کہا کہ اس وقت دستور ہی ہے جو کمزوروں اور اقلیتوں کو یکساں حقوق دیتی ہے ۔ مفتی محمد حذیفہ قاسمی نے کہا کہ سرکاری سطح پر یہ غلط بات پھیلائی جارہی ہے کہ اس قانون سے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا یہ کہہ کر یہ بات کہنا چاہ رہے ہیں کہ صرف مسلمان ہی اس قانون کی مخالفت کررہا ہے تاکہ غیر مسلموں کو اپنے حق میں ہموار کیا جارہا ہے ۔مگر ایسا اگر ہوا تو پورے ملک کا نقصان ہوگا ۔

مردم شماری ہمیشہ جیسی ہوتی تھی وہی ہونی چاہئے ہمیں اس سے اختلاف نہیں مگر باپ دادا کی پیدائش سرٹیفیکٹ کہاں سے لایا جائے ۔ کرن چنے نے مزید کہا کہ اس قانون سے بڑے پیمانے پر ہندو متاثرہونگے اور کمزور ہندووں کو دوبارہ غلام اور نوکر بنانے کی سازش کی جارہی ہے اس لئے یہ قانون لایا جارہا ہے ۔ ڈاکٹر نے کہا کسی ملک میں دھرم کے نام پر کوئی قانون نہیں بنایا گیا اگر کسی کو شہریت دینے کی بات تھی تو پہلے بھی شہریتدی جاتی رہی ہے مگر ذات اور مذہب کی بنیاد پر کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا گیا اور آج صاف طور مذہبی منافرت سے پر یہ قانون بنایا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ خود بھارت سرکار پاکستان نواز ہے آخر تجارتی اور سفارتی تعلقات کیوںقائم ہے اس قانون میں ہٹ دھرمی بھی ہے اور جلد بازی بھی ہے ۔ عبد العزیز اشرفی نے کہا سمبدھان بچاؤ سنگھرس سمیتی کے لوگ مبارک باد کے مستحق ہیں ہم خانقاہی لوگ سب سمیتی کے ساتھ ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اسے واپس لیا جائے ۔وجئے کاملے نے کہا کہ حکومت پہلے ملک میں روزگاری کے مواقع پیدا کرے دوسرے ضروری کام کی طرف توجہ دے ۔ مولانا امتیاز فلاحی نے کہا حکومت دھرم کے نام پر ملک کو بانٹنے کا کام بند کرو مہسکے صاحب نے کہا سرکار جھوٹ بول کر آئی ہے لوگوں کو کہا اکاونٹ میں 15 لاکھ آئیں گے وہ غلط ۔کالا دھن لانے کی بات ۔اور اب انڈیا سے ہی بھگارہے ہیں لیکن پورے ملک کی عوام اب حکومت کو خود ہی مرکز سے بھگادے گی ۔

مجلس اتحاد المسلمین کے صدر شاداب عثمانی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پریس تو خود ہی جمہوریت کا ایک ستون ہے اس ستون کو مضبوط ہونا ہے تب ہی جمہوریت باقی رہے گا اور جب ہی قانون کی بالادستی قائم رہ سکے گی انھوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ یہ پروگرام باقاعدہ پرمیشن کے ساتھ ہورہا ہے اور اس پروگرام میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں اس کے لئے سو سے زائد کارنر میٹنگ بھی ہوچکی ہیں اور مزید جاری ہیں اسٹوڈنٹس بھی بڑی تعداد میں شریک ہونے والے ہیں ۔