Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

بھیونڈی میں کرونا کی دستک ، جماعت سے آیا شخص کورونا سے متاثر

IMG_20190630_195052.JPG

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- مزدورو اکثریتی شہر بھیونڈی میں بھی کورونا وائرس نے بالآخر دستک دے ہی دی۔ یہاں کے ایک 65 سالہ شخص میں کورونا مثبت پائے جانے سے خوف و ہراس پھیل گیا ہے جسے علاج کے لئے تھانہ ڈسٹرکٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ جس کے بعد کورونا مریض کے گھر کے دیگر 5 افراد کو کورنٹائن سینٹر بھیج دیا گیا ہے۔ جس میں دو خواتین ، ایک مرد کے ساتھ ایک نابالغ بچے کی شمولیت ہے۔ احتیاط کے طور پر انتظامیہ نے متاثرہ مریض کے گھر کے ساتھ ساتھ ایک کلومیٹر کے احاطے کو سیل کر دیا ہیں۔

ذرائع کے مطابق 65 سالہ کورونا سے متاثرہ شخص 14 مارچ کو ممبرا کی جماعت میں گیا تھا۔ لیکن اسی درمیان لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد وہ وہی پھنس گیا اور مسجد میں رہنے لگا۔ جس کے بعد وہ 2 اپریل کو بھیونڈی اپنے گھر واپس آیا۔ جس کے بعد مقامی لوگوں کی شکایت اور انتظامیہ نے اسے ہوم کورنٹائن کیا تھا۔ لیکن 9 اپریل کو اچانک اس کی طبیعت خراب ہونے پر اہل خانہ نے اسے اندرا گاندھی میموریل اسپتال لے گئے۔

جہاں پر ڈاکٹروں نے ابتدائی علاج کے بعد اسے رانجنولی ناکہ پر واقع ٹاٹا امنترا کورنٹائن سینٹر بھیج دیا گیا تھا۔ کورنٹائن سینٹر میں ڈاکٹروں نے اس کے خون کا نمونہ لے کر جانچ کے لئے اسے ممبئی کے کستوربا اسپتال میں بھیج دیا تھا۔ سنیچر کے روز کستوربا سے ملی تحقیقاتی رپورٹ میں اس میں کورونا مثبت پایا گیا ہے۔ جس کے بعد مریض کو تھانہ ضلع اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔

جب کہ مریض کے اہل خانہ کے دوسرے کورنٹائن ممبروں کے خون کے نمونے بھی جانچ کے لئے بھیج دیا گیا ہیں۔ ادھر بھیونڈی میں پہلا کورونا سے متاثرہ مریض ملنے سے انتظامیہ کی نیندیں اڑ گئی ہے۔ کارپوریشن ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جیونت دھلے نے بتایا کہ کارپوریشن اور پولیس انتظامیہ اس کا بات کا پتہ لگانے میں جٹ گئی ہے کہ ممبرا کی جماعت میں شامل ہونے بھیونڈی سے کتنے لوگ گئے تھے ؟ یہ لوگ ممبرا کی کس مسجد میں قیام پذیر تھے ؟ کب آئے ؟ اور کتنے لوگوں سے رابطہ کئے ؟ اور وہ فی الحال کہاں رہ رہے ہیں ؟

بتادیں کے بھیونڈی میں ابھی تک کورونا کا ایک بھی مریض نہیں تھا۔ لیکن اب ایک مریض کے ملنے سے کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں یہاں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے۔ جسے لے کر شہریوں میں زبردست خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔