بھیونڈی ( ایس اے ):- بھیونڈی کرائم برانچ نے کوویڈ کی بوگس آرٹی پی سی آر رپورٹ دینے والے گروہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے پیتھالوجی لیب کے مالک سمیت چار افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ جو صرف پانچ سو روپئے لے کر بنا کسی سویپ ٹیسٹنگ کے بوگس رپورٹ بنا کر دیتے تھے جن کے پاس سے پولیس نے 64 کورونا کی بوگس رپورٹ بھی برآمد کی ہے ۔ گرفتار ملزمین کو کورٹ نے 30  اپریل تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا ہے اس معاملے کے انکشاف ہونے سے سنسنی پھیل گئی ہے

بھیونڈی کرائم برانچ کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی کہ غیبی نگر واقع محفوظ پیتھالوجی لیب سے جعلی منفی رپورٹ ان کے لیٹر پیڈ پر پانچ سو روپئے میں دی جارہی تھی جس کے بعد کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر اشوک ہونمانے ایک بوگس گاہک بنا کر لیب میں بھیجا جس کے بعد کرائم برانچ پولیس سمیت کارپوریشن کے میڈیکل آفیسر اور گورنمنٹ پنچ کے ہمراہ لیب پر چھاپہ مار کر تین افراد کو گرفتار کرلیا ۔ ساتھ ہی محفوظ کلینیکل لیبارٹری کی تلاشی لینے پڑ کوویڈ مہا ماری کے بغیر کوئی سویپ لئے آر ٹی پی سی آر جانچ کی گئی الگ الگ 64 افراد کی رپورٹ ملی ۔ جس میں 59 افراد کی رپورٹ منفی ہے اور 5 افراد کی رپورٹ مثبت بتائی گئی ہے ۔

اس کے بعد پولیس نے لیب ٹیکنیشین انعام الحق عرف ربانی اور آفتاب عالم مجیب اللہ خان کو حراست میں لے کر جب سختی سے پوچھ تاچھ کی تب انھوں نے لیب کے موبائیل لیپ ٹاپ ، پین ڈرائی ، کمپیوٹر اور پرنٹر کے ذریعے بنائی گئی 64 افراد کے کوویڈ کی آر ٹی پی سی آر جانچ کی جعلی رپورٹ دینا قبول کیا ۔ معلوم ہو کہ دوسری ریاستوں کے لئے ہوئی جہاز یا ریل کے ذریعے سفر کرنے والے لوگوں سمیت مختلف اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اور مزدوروں کو کوڈ وبا کی آر ٹی پی سی آر تحقیقات رپورٹ منفی ہونا ضروری کردیا گیا ہے ۔ اس لئے ضرورت مندوں کو مذکورہ ٹیسٹ کی رپورٹ دینے کے لئے کم سے کم 500 روپئے کے ساتھ تائرروکیر نامی پیتھالوجی کے لیٹر ہیڈ پر بوگس ٹیسٹ رپورٹ تیار کیا جاتا تھا اور اس طرح اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو کوویڈ جانچ کی جھوٹی رپورٹ دی گئی ہے ۔ یہ ساری رپورٹ محفوظ کلینک لیبارٹری کے مالک محفوظ عالم مجیب اللہ خان کے کہنے پر دی جاتی تھی ۔

پولیس کی تفتیش کے دوران پڑگھا کے سائی دھام کمپاؤنڈ میں واقع مختلف کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین اور مزدوروں کے معائنہ کے لئے 589 سویب ، 430 آدھار کارڈز زیروکس اور 569 آئی سی ایم آر کے درخواست فارم ملیں ہے ۔ جس میں متعدد کمپنیوں میں کام کرنے والے لوگوں کو بوگس ٹیسٹ رپورٹ دینے کا انکشاف ہوا ہے ۔ اس تناظر میں شانتی نگر پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 420 ، 465 ، 468 ، 471 ، 269 ، 270 اور 34 سمیت وبائی امراض کی روک تھام ایکٹ 1897 کے سیکشن 2 ، 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے انعام الحق عرف ربانی ، آفتاب عالم مجیب اللہ خان اور محمد شارق محمد صابر شیخ نامی تین ملزمین کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں سے عدالت نے انھیں 30 اپریل تک پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ اس کے بعد جمعرات کی دوپہر پولیس نے پیتھولوجی لیب کے مفرور مالک محفوظ عالم مجیب اللہ خان کو بھی گرفتار کرلیا۔ اس کام کو انجام دینے میں بھیونڈی کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر اشوک ہونمانے کی قیادت میں اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر مہندر جادھو ، پولیس سب انسپکٹر شرد برکڈے ، اسسٹنٹ پولیس سب انسپکٹر لطیف منصوری ، پولیس حولدار رویندر پاٹل ، سدھاکر چودھری ، پروین جادھو ، ارون پاٹل ، نیتا پاٹل ، میگنا کمبھار ، پولیس نائک سچن جادھو ، پرمود دھڈ وے ، راجندر سمبری ، انیل پاٹل ، بھاویش گھرت ، رنگناتھ پاٹل ، وسنت گیورے اور رویندر سانکھے وغیرہ تفتیشی ٹیم کے پولیس افسران اور ملازمین شامل تھے ۔