بھیونڈی:قربانی کے 22جانوروں کا قاتل مسلم نوجوان گرفتار آپسی دشمنی کا شاخسانہ

ممبئی۔ ٢١ مئ (یو این آئ) ممبئ سے قریب گنجان مسلم آبادی والے شہر بھیونڑی میں قربانی کے لئے پرورش کئے جانے والے ٢٢جانوروں کی نسیں شریانیں کاٹ کر انھیں قتل کرنے کے الزم میں پولیس نے آج ایک مسلم نوجوان کو گرفتار کیا ہے اور قتل کا مقصد آپسی دشمنی بتلائ گئ ہے جبکہ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہیکہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور شہر میں امن کو قائم رکھے۔موصلہ اطلاعات کے مطابق بھیونڈی شہر گذشتہ دنوں تھانے ضلع کے بھیونڈی شہرمیں کھاڑی پار پل کے قریب بندر محلہ میں سیم مومن اور ارحم مومن نامی دونوں جوان ایک طبیلے میں مویشی پالن کا کاروبار کرتے تھے۔

گزشتہ ہفتے معمول کے مطابق ارحم مومن جب صبح اپنے طبیلے پہنچے تو انھوں نے ایک دردناک منظر دیکھااور طبیلے میں پرورش پارہی بھینسوں اور پاڑوں کی کسی نے نسیں کاٹ دی تھی ۔ جس کے سبب کئی ایک بھینس موقعہ واردات پر ہی ہلاک ہوگئی تھی بقیہ شدید زخمی حالات میں تھی جودو دنوں کے اندر زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئی ۔ معاملے کی شکایت مقامی نظام پورہ پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی۔ جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ اطراف میں کوئی سی سی ٹی کیمرہ موجود نہیں تھا اور نہ ہی طبیلے میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تھے ۔

اپنے نوعیت کے ایک عجیب وغریب واردات میں اہلیان بھیونڈی کو خوف ودہشت کے ماحول میں مبتلا کردیا تھا اور طرح طرح کی افواہیں گشت کررہی تھی اور یہ عام خیال تھا کہ کہی شرپسند عناصر نے عیدالالضحیٰ کے قبل شہر کے ماحول کو خراب کرنے کی نیت سے تو یہ واردات نہیں انجام دی ہو۔اس تعلق سے مقامی ڈپٹی پولیس کمشنر یوگیش چوہان سے جب رابطہ قائم کیا گیا تو انھوں نے بتلایا کہ ہم نے ہر پہلو سے ا س معاملے کی تفتیش کا آغاز کیا تھا مخبروں کا جال بھی بچھلایا تھالیکن کوئی کامیابی نہیں ملی بلآخر جب چند مشکوک افراد کے موبائل فون کی تفصیلات حاصل کی گئی تو یہ پتہ چلا کہ آپسی دشمنی کےسبب محض پانچ ہزار روپیہ کو لیکرملزم فاضل رفیق قریشی نے اپنے ایک ساتھی کہ ہمراہ نصب شب تین بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیان طبیلے میں داخل ہوکر جانوروں کو بے ہوشی کا انجیکشن لگا کر تیزدھاروالے ہتھیار سے ان کے پیروں کی نسیں کاٹ دی جو ان کے موت کا سبب بنی۔آج ملزم کو مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جس میں اسے تین دنوں کی پولیس تحویل میں دینے کا حکم صادر کیا گیا ۔اس تعلق سے مومن برادران کے وکیل سفیان مومن نے بتلایا کہ پولیس نے جن دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اس میں زیادہ تر کی نوعیت قابل ضمانت تھی لہذا انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ اس گھنائونے جرم کا ارتکاب کرنے والے ملزم پر ناقابل ضمانت دفعات کا اطلاق کیا جائے جسے عدالت نے منظور کرلیااور ملزم کو پولیس تحویل میں بھیج دیا۔

اس تعلق سے سابق میونسپل کائونسلر اور بھیونڈی شہر کانگریس کی نائب صدر رخسانہ قریشی نے بتلایا کہ اس سانحہ کے بعد اہلیان بھیونڈی تشویش میں مبتلا تھے اور طرح طرح کی افواہیں گشت کررہی تھی لہذا انھوں نے شہر کی مختلف گلیوں کا دورہ کرکے امن قائم رکھنے کی اپیل کی تھی جس کہ مثبت نتائج سامنے آئے اور ملزم کی پولیس کی اننتھک محنتوں سے گرفتار ی عمل میں آئی۔