بھوکے بچوں کی چیخیں ناقابل برداشت تھیں:‘ انڈونیشیا آنے والے روہنگیا پناہ گزین

419

ہیتمون نیسا نومبر کے آخر میں بنگلہ دیش کے روہنگیا پناہ گزین کیمپ سے اس امید کے ساتھ لکڑی کی ایک بوسیدہ کشتی پر سوار ہوئی تھیں کہ شاید باہر کی دنیا میں وہ اپنی بیٹیوں کے لیے بہتر مستقبل تلاش کر سکیں گی۔وہ بڑی بیٹی کو خاندان کے افراد کے ساتھ کاکس بازار کیمپ میں چھوڑ کر اپنی پانچ سالہ بیٹی کو ساتھ لیے سفر پر روانہ ہوئیں کیوں کہ انہیں یقین تھا کہ ان کا یہ سفر کامیاب ہو گا اور وہ جلد ہی کسی دوسرے ملک میں دوبارہ مل جائیں گے۔
لیکن کشتی کے انجن تقریباً ایک ہفتے بعد خراب ہو گئے اور وہ دیگر 172 پناہ گزین، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے، ہفتوں تک پانی اور خوراک کے بغیر بحیرہ انڈمان میں بھٹکتے رہے۔

گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جانب سے ریسکیو کے مطالبات کے باوجود کوئی علاقائی ملک ان کی مدد کو نہیں پہنچا۔

بالآخر انہیں ماہی گیروں نے اس وقت بچا لیا جب ان کی کشتی انڈونیشیا کے پانیوں میں داخل ہوئی۔
عرب نیوز کی ایک ٹیم کی کوششوں سے نیسا کا ان کے خاندان سے دوبارہ رابطہ جوڑنے میں مدد ملی جو ہفتوں سے ایک دوسرے کی خیریت سے لاعلم تھے اور حالات کے مزید بگڑنے کا خدشہ تھا۔
انڈونیشیا کے شمالی صوبے آچے کی ایک پناہ گاہ سے ویڈیو کال میں نیسا نے اپنے بھائی اور والدہ کو بتایا کہ ’اللہ تعالی نے ہماری جانیں بچائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم منزل کے تعین کے بغیر خراب کشتی پر بھوکے پیاسے مر رہے تھے۔ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ پانی کی بوتل ہاتھ میں پکڑتی تو چوری ہو جاتی۔ میں صرف بارش کے وقت ہی پانی پی سکتی تھی۔‘

نیسا اور ان کی بیٹی ام سلیمہ ان پناہ گزینوں میں شامل تھیں جو پیر کو آچے کے پیڈی ضلع کے ساحلی گاؤں مورا تیگا پہنچے تھے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے کہا کہ وہ ان سب کی صحت بہت خراب تھی اور بہت سے لوگ پانی کی کمی اور غذائی قلت کا شکار تھے۔نیسا نے اپنی والدہ کو کال کے دوران روتے ہوئے بتایا: ’جو چاول اور دال آپ نے مجھے کھلائی تھی، اسی کھانے کے ساتھ میں نے انڈونیشیا تک کا سفر کیا۔‘

جب بھی کوئی دوسرا جہاز نظر آتا وہ اور کشتی پر سوار دوسرے پناہ گزین مدد کے لیے چیختے لیکن ہفتوں تک ان کی فریاد کسی کے کانوں پر نہیں پڑی۔
نیسا نے بتایا: ’ہم بہت چیخے چلائے اور اپنے ہاتھ ہلائے۔ ایک موقع پر ایسا لگا کہ ہمارے ہاتھ ہمارے جسموں سے گر جائیں گے۔‘نیسا کی رشتہ دار 19 سالہ راحینہ، جو خود بھی کشتی پر سوار تھیں، نے یاد کیا کہ کس طرح وہ کئی دنوں تک بے آسرا کھلے سمندر پر تیرتے رہے۔’بھوک کی وجہ سے بچوں کا رونا ناقابل برداشت تھا۔‘انہوں نے مزید کہا کہ جہاز میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں جب ان کی کشتی ملائیشیا کے پانیوں میں داخل ہوئی تو کوئی مدد نہیں آئی۔
کاکس بازار میں روہنگیا کارکن نیسا کے بھائی محمد رضوان خان کی جانب سے ریسکیو کی اپیل کرنے کے باوجود انڈیا کی سمندری حدود میں بھی کوئی ان کی مدد کے لیے نہیں آیا۔
جیسے ہی ان کی بہتی ہوئی کشتی انڈونیشیا کے پانیوں میں داخل ہوئی مقامی دیہاتیوں نے انہیں دیکھا اور مدد کا بندوبست کیا۔آچے میں قائم انسانی ہمدردی کی تنظیم ’گیوتانوئے فاؤنڈیشن‘ کے کوآرڈینیٹر نصرالدین نے عرب نیوز کو بتایا: ’میں نے یہاں (آچے) کے لوگوں کا مدد کے لیے جذبہ دیکھا ہے جو غیر معمولی ہے۔ اس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔‘

ان کے بقول یہ پہلی بار نہیں تھا جب انڈونیشیا کے ماہی گیر پناہ گزینوں کی مدد کے لیے آگے بڑھے اور انہیں محفوظ مقام پر لے گئے۔نصرالدین نے کہا کہ اس سال مارچ سے تقریباً 600 روہنگیا پناہ گزین آچے پہنچ چکے ہیں۔
نیسا اور ان کی چھوٹی بیٹی کا سفر ختم نہیں ہوا ہے کیونکہ انڈونیشیا 1951 کے پناہ گزین کنونشن کا رکن نہیں ہے یعنی وہ یہاں سیاسی پناہ کا دعوی نہیں کر سکتے۔ تاہم فی الحال وہ محفوظ ہیں اور دوبارہ اپنے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ان کے بھائی رضوان خان نے بتایا کہ ’ہمارا عرب نیوز کی مدد سے اپنی بہن کو دوبارہ رابطہ ممکن ہو سکا اور میں ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘