بھوپال۔بی جے پی کے سابق اراکین اسمبلی سریندر ناتھ کے بشمول 17افراد کو مدھیہ پردیش کے بھوپال میں مبینہ طور پریوم ویلن ٹائن کے موقع جوڑوں پر حملے اور جائیداد کیساتھ توڑ پھوڑ کے معاملے میں گرفتار کرلیاگیاہے۔

رپورٹس کے بموجب ایک گروپ اپنے سروں پر بھگوا رنگ کا توال لپیٹے ہوئے جنک یارڈ کیفی کہے جانے والے حقا سنٹر میں توڑ پھوڑ مچائی اور ’جئے شری رام“ کے نعرے لگائے۔

انڈین ایکسپرس میں شائع رپورٹس میں ان لوگوں کی شناخت کے متعلق ذکر کیا گیاہے کہ وہ بھارتیہ جنتا یوا مورچہ کے لوگ تھے۔

رپورٹ میں اسبات کا بھی ذکر کیاگیاہے کہ کیفی کے منیجر نے پولیس میں جو شکایت کی ہے اس میں کہا کہ یہ گروپ کیفی میں داخل ہوا‘ گاہکوں کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسٹاف کے ساتھ غلط برتاؤکیاہے۔

بیان میں کہاگیاہے کہ ”ان لوگوں نے ہم پر لوجہاد کو بڑھاوا دینے کا الزام لگایا’تم لوگ لوجہاد کوفروغ دے رہے ہو۔ یہ محض شروعات ہے۔ اگر تم لوگ کیفی میں دوبارہ دیکھائی دئے تو ہم نے تمہیں جان سے ماردیں گے“

ایک اور واقعہ میں دو لوگوں میں جس میں تین خواتین پر بھی شامل تھے پر مشتمل ایک گروپ کاؤ بوائے ریسٹرو بار میں توڑ پھوڑ مچائی ہے۔

انڈین ایکسپریس کی خبر ہے”میرے ورکرس نے ریسٹورنٹ کے اندر مداخلت کی کوشش کی اور اسی مشق کے دوران کچھ معمولی چوٹیں ہمیں بھی لگی ہں ی۔ وہ اندر کے فرنیچر کو توڑ دیااور فرار ہوگئے“۔

اس سے قبل بھی سنگھ نے ایک مارچ نکالاتھا اور اس کو حقا مراکز”لوجہاد کو زندہ رکپنے کے میدان بنارہے ہیں“قراردیاتھا۔ دائیں بازو کے کارکنان وقت رہتے اور بارہا جوڑوں پر حملہ کرنے اور انہیں ہراساں کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اور بالخصوص یہ کام وہ ویلن ٹائن ڈے کے روز کرتے ہیں


اپنی رائے یہاں لکھیں