’بھجن گانے سے کوئی ہندو نہیں ہو جاتا اور نعت سننے سے کوئی مسلمان نہیں ہو جاتا‘ –

668

‘ہم جو ‘نعت’ یا ‘بھجن’ گاتے ہیں تو ایسا نہیں کہ اگر کوئی ہندو ‘نعت’ سن لے تو وہ مسلمان ہو جائے یا اگر مسلمان ‘بھجن’ سن لے تو وہ ہندو ہو جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ میں نے بھجن گا لیا تو میں ہندو بن گئی۔’یہ انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے ضلع مظفر نگر کی رہائشی گلوکارہ فرمانی ناز کا کہنا ہے۔وہ ان دنوں ایک بھجن ‘ہر ہر شمبھو’ گانے کی وجہ سے ایک تنازعے کا شکار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا گیا ہے تاہم وہ خود اس فتوے کی تردید کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ‘فتوی تو بالکل بھی نہیں ہے اور نہ ہی کسی مولانا یا عالم نے ایسا کہا ہے کہ اس پر فتوی جاری کرو۔ میں جس گاؤں میں رہتی ہوں وہ مسلمانوں کا گاؤں ہے اور اگر کوئی فرمانی ناز کے بارے میں پوچھتا ہے تو گاؤں والے فخر سے کہتے ہیں کہ ہاں فرمانی ہمارے گاؤں سے ہے، جبکہ وہ جانتے ہیں کہ میں گیت کے ساتھ ساتھ بھجن بھی گاتی ہوں۔’

فرمانی ناز کے متعلق ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ ہندو مذہب اختیار کرنے جا رہی ہیں۔

اس بارے میں وہ کہتی ہیں کہ ‘میں نے دیکھا کہ کسی نے میرے نام سے جعلی آئی ڈی بنا کر ٹویٹ کیا کہ میں ہندو مذہب اختیار کر رہی ہوں، اور میرے آباؤ اجداد بھی ہندو تھے، ایسا کچھ نہیں ہے، ایسے لوگوں کے خلاف شکایت ہونی چاہیے۔ اور قانون میں ایسے لوگوں کے لیے سختی ہونی چاہیے۔’

وہ مزید کہتی ہیں ‘میں مذہب کیوں بدلوں گی، تمام مذاہب اچھے ہیں، میں ایک فنکار ہوں، میں اپنے بھجن اور گیت سب کو سناتی ہوں، مجھے سننے والے مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں۔ وہ مجھے اس لیے نہیں سنتے کہ میں مسلمان ہوں اور بھجن گاتی ہوں۔ انھیں میری آواز اچھی لگتی ہے، اسی لیے وہ سنتے ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں، گاؤں سے اٹھ کر یہاں تک آئے ہیں۔’

،تصویر کا ذریعہ FARMANI NAAZ/BBC

شادی اور مالی تنگی

فرمانی ناز کہتی ہیں کہ سنہ 2018 میں ان کی شادی ہوئی لیکن شادی کے دو تین ماہ بعد ہی شوہر نے دوسری عورت سے تعلقات بنا لیے۔ اس شادی سے ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کی عمر ابھی صرف تین سال ہے۔

فرمانی رُندھی آواز میں کہتی ہیں کہ جب ان کا بیٹا پیدا ہوا تو اس کے ناک اور منہ کا ایک ہی راستہ تھا اور وہ جو کھاتا وہ ناک میں واپس آ جاتا۔ ‘جب بیٹا پیدا ہوا تو مجھے طعنے دیے گئے کہ یہ کیسا بچہ پیدا کیا ہے، جسے اتنی بیماریاں ہیں۔‘

‘اس کے بعد بیٹے کے علاج کے لیے وہ میرے گھر سے پیسے لانے کے لیے کہنے لگے۔ وہ مجھے پیسوں کے لیے زیادہ پریشان کرنے لگے جس کی وجہ سے میں ڈپریشن میں چلی گئی۔ جون 2019 میں میں وہاں سے واپس اپنے گھر آ گئی۔ میں نے انتظار کیا کہ شاید وہ آئیں لیکن وہ نہیں آئے۔’

فرمانی کا الزام ہے کہ ان کے شوہر نے بغیر طلاق کے دوسری شادی کر لی۔

وہ کہتی ہیں ‘میرے ماموں بھی غریب تھے، میرے والدین کی حالت ایسی نہیں تھی کہ وہ میرا اور میرے بچے کا خرچہ اٹھا سکتے، ایسی حالت میں ایک ماں کیا کرتی؟’

فرمانی ناز کے خاندان میں ان کے بھائی فرمان بھی گلوکار ہیں۔ فرمانی کے ساتھ ساتھ ان کے بھائی کو بھی ویڈیو میں گاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فرمانی کہتی ہیں کہ گانے کی ابتدا بھائی کے ساتھ گانے سے شروع ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہ

FARMANI NAAZ/BBC

فرمانی گلوکارہکیسے بنیں؟

فرمانی ناز بتاتی ہیں کہ انھوں نے سنہ 2019 میں گانا شروع کیا اور تب سے وہ بھجن، فلمی گانے، نعتیں گاتی رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ‘میری آواز بچپن سے اچھی تھی، سکول ماسٹر مجھ سے اور میرے بھائی سے حب الوطنی کے گیت اور نظمیں سنتے تھے۔ انہیں ہماری آواز اتنی پسند آئی کہ ماسٹر جی نے ہمارے والدین سے کہا کہ بچوں کی آواز اچھی ہے، توجہ دیں۔ لیکن گاؤں میں کوئی دھیان نہیں دیتا، آٹھویں کے بعد میں میں نے پڑھائی چھوڑ دی۔‘

‘میکے آنے کے بعد سے میں اپنے بیٹے کے علاج کے بارے میں فکرمند رہتی تھی۔ ایک دن راہل کمار نامی یوٹیوبر نے مجھے گاتے ہوئے سنا اور میری ویڈیو بنا کر اپنے یوٹیوب چینل پر ڈال دی، وہ ویڈیو وائرل ہوگئی۔ وہ گانا فلم ہیر رانجھا کا تھا۔ ‘ملو نہ تم تو ہم گھبرائے، ملو تو آنکھ چرائیں۔۔۔ ہمیں کیا ہو گیا ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

فرمانی بتاتی ہیں کہ فلم انڈسٹری کے معروف گلوکار کمار سانو نے بھی وہ ویڈیو سنی اور ریاض کے لیے ایک ہارمونیم تحفے کے طور پر بھیج دی۔

وہ بتاتی ہیں کہ پھر گانے کا سلسلہ چل پڑا، اور ان کی ٹیم نے مل کر ایک سٹوڈیو بنایا، اور وہ نظمیں، گیت، بھجن وغیرہ گانے لگیں۔

فرمانی نے موسیقی کی کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں لی ہے، لیکن انھوں نے ‘انڈین آئیڈل’ سیزن 12 میں شرکت کی تھی۔

وہ کہتی ہیں ‘میں ‘انڈین آئیڈل’ میں کئی راؤنڈ آگے تک پہنچی۔ مجھے گولڈن ٹکٹ بھی ملا۔ لیکن پھر میرے بیٹے کی طبیعت بہت خراب ہوگئی اور مجھے واپس آنا پڑا۔’

،تصویر کا ذریعہ

FARMANI NAAZ/BBC

فرمانی ناز کے آج کئی یوٹیوب چینلز ہیں۔ وہ کہتی ہیں ‘اب میں یوٹیوب سے کماتی ہوں۔ میرے خاندان میں میرے والدین سمیت پانچ افراد ہیں۔ ان سب کی ذمہ داری مجھ پر ہے۔ اب زندگی پہلے سے بہت بہتر ہے، میں اچھا کھاتی ہوں، اچھا پہنتی ہوں۔’

فرمانی کا کہنا ہے کہ فن کو مذہب کے حوالے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے کہا کہ فن کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ‘ایسا نہیں ہے کہ جب میں نے بھجن گائے تو میں ہندو بن گئی۔ جو لوگ میرے گیت سنتے ہیں ان میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں۔ گھر ہو ہوں تو نماز بھی پڑھتی ہوں، قرآن بھی پڑھتی ہوں، روزے بھی رکھتی ہوں۔‘

‘میں صرف اتنا کہوں گی کہ ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہیئیں۔ ہم سب ہندوستانی ہیں۔ سب کو مل جل کر رہنا چاہیے۔ اتحاد کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ایسی نظموں یا بھجن گانے پر تنازع کھڑا کرنا ٹھیک نہیں ہے۔’

فرمانی آخر میں کہتی ہیں کہ وہ فلمی گانوں کے ساتھ ساتھ بھجن اور غزلیں بھی گاتی رہیں گی۔

وہ کہتی ہیں کہ ‘محرم اور جنم اشٹمی کے لیے ہم قوالی اور بھجن دونوں بنا رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ لوگوں کو یہ پسند آئے گا۔’

بشریٰ شیخ

نمائندہ بی بی سی، دہلی