بھاگوت جی! ہندو حالت جنگ میں نہیں بلکہ مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے.

سہیل انجم

1,267

ہندوستان پر حکمراں جماعت بی جے پی کی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے اس بار اپنے سابقہ بیانات سے الگ بیان دیا ہے۔ انھوں نے اب ان لوگوں کی خوش فہمی دور کر دی ہے جو گزشتہ ایک عرصے کے دوران دیئے گئے ان کے بیانوں کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کرنے لگے تھے کہ آر ایس ایس نظریاتی طور پر تبدیل ہو رہی ہے۔ انھوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ آر ایس ایس آج بھی اپنے متنازع نظریات پر قائم ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے بلکہ یقین ہے کہ وہ آئندہ بھی اس پر قائم رہے گی۔

انھوں نے آر ایس ایس کے انگریزی اور ہندی ترجمانوں آرگنائزر اور پانچ جنیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کچھ ایسی باتیں کہی ہیں جن سے ان کی سابقہ باتوں کی تردید ہوتی ہے۔ انھوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے بانی کیشو رام بلی رام ہیڈگیوار اور اس کے نظریہ ساز گرو گولوالکر کے اس نظریے پر قائم ہیں کہ ہندوستان ہندوؤں کا ملک ہے۔ اس میں دیگر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہاں وہ اگر یہاں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں ہندوؤں کا ماتحت بن کر رہنا پڑے گا۔ یعنی بہ الفاظ دیگر انھیں دوئم درجے کا شہری بن کر رہنا ہوگا۔

انھوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس ملک میں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اگر اپنے مذہب یعنی مذہب اسلام پر چلنا چاہتے ہیں تو چل سکتے ہیں اور اگر اپنے آبا و اجداد کے مذہب پر یعنی ہندو مذہب پر واپس آنا چاہیں تو آسکتے ہیں۔ گویا وہ مسلمانوں کی گھر واپسی چاہتے ہیں۔ البتہ وہ یہ بات کھلم کھلا نہیں کہہ رہے۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ اس ملک کے ہر باشندے کو ہندو سمجھتے ہیں اسی بات کی جانب اشارہ ہے۔ موہن بھاگوت عام طور پر اپنی بات بہت کم کھل کر رکھتے ہیں۔ ورنہ وہ بہت سی باتیں اشاروں کنایوں میں رکھتے ہیں۔

یہ کہنے کے بعد کہ مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اسی سانس میں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اپنی بالادستی کے خیال کو دل سے نکالنا ہوگا۔ انھیں اس خیال سے باہر آنا ہوگا کہ ہم نے اس ملک پر حکومت کی ہے۔ ہم آگے بھی کریں گے۔ ہمارا راستہ ہی صحیح ہے باقی سب غلط ہیں۔ ہم مختلف ہیں۔ ہم دوسروں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ جو لوگ بھی یہاں رہ رہے ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں یا کمیونسٹ انھیں اس بیانیے کو ترک کرنا ہوگا۔ پھر وہ بہت صاف طور پر کہتے ہیں کہ ”ہندوستان کو ہندواستھان“ ہی رہنا چاہیے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں نے اس ملک پر کئی سو سال تک حکومت کی اور اس پر انھیں فخر بھی ہے۔ لیکن انھوں نے کبھی اس حکومت کو اسلامی حکومت نہیں کہا اور نہ ہی مسلم حکمرانوں نے یہاں اسلامی شریعت نافذ کرنے کی کوشش کی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے یہاں کی تہذیب و ثقافت کو اپنایا اور اس کی وجہ سے ہندوستان کا اسلام وہ اسلام نہیں رہا جو اسے ہونا چاہیے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت نے یہاں کے اسلام کو حقیقی اسلام سے الگ بنا دیا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم حکمرانوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ہندوستان ”مسلمستان یا اسلامستان“ ہے۔ بلکہ انھوں نے اسے ہندوستان ہی بنائے رکھا۔ اس کے لیے انھوں نے ہندوؤں کے ساتھ رواداری کا مظاہرہ کیا۔ بلکہ بعض معاملات میں مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا۔ کیا تاریخ سے اس حقیقت کو مٹایا جا سکتا ہے کہ اکبر نے اصل اسلام سے ہٹ کر اپنا گڑھا ہوا مذہب یعنی ”دین الہٰی“ نافذ کیا۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے کبھی نہیں کہا کہ ہم مختلف ہیں لہٰذا دوسروں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ مسلم حکمرانوں نے ہندو رعایہ کو اپنا مذہب بدلنے کے لیے مجبور نہیں کیا۔ اگر انھوں نے ایسا کیا ہوتا تو آج ہندوستان میں واقعی مسلمان ہی اکثریت میں ہوتے۔ مسلمانوں نے نہ تو آزادی کے پہلے یہ کہا کہ ہم سب سے اچھے ہیں، ہمارا مذہب سب سے اچھا ہے اور نہ ہی آزادی کے بعد کہا۔ انھوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ ہم دوسروں سے مختلف ہیں اس لیے دوسروں کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ انھوں نے تو آئین ہند کو تسلیم کیا جس کا کہنا ہے کہ ریاست کی نظر میں تمام مذاہب برابر ہیں۔ حکومت تمام مذہبوں کا یکساں احترام کرتی ہے۔

موہن بھاگوت ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں مگر دوسری طرف انھیں ڈرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادھر کچھ برسوں سے ہندوستان اور دنیا کے دیگر ملکوں میں ہندوؤں میں جارحیت آئی ہے۔ وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ہندو ایک ہزار سال سے حالتِ جنگ میں ہے۔ ان کے مطابق ہندوؤں کی یہ جنگ بیرونی حملہ آوروں سے ہے۔ بیرونی اثرات سے ہے۔ بیرونی سازشوں سے ہے۔ اگر وہ مسلم حکمرانوں کو بیرونی حملہ آور مانتے ہیں، جیسا کہ مانتے ہی ہیں، تو اب تو اس ملک میں ان کی حکومت ہے ہی نہیں۔ بیرونی اثرات سے ان کی کیا مراد ہے اس کی وضاحت انھوں نے نہیں کی۔ انھوں نے بیرونی سازشوں کی بھی وضاحت نہیں کی۔

اگر واقعی ہندوستان کے خلاف بیرونی سازشیں رچی جا رہی ہیں اور ہندو حالت جنگ میں ہیں تو پھر مرکزی حکومت کیا کر رہی ہے۔ کم از کم 2014 کے بعد سے بیرونی سازشوں کا قلع قمع کر دیا جانا چاہیے تھا۔ ایک طرف موجودہ حکومت کہتی ہے کہ ہندوستان وشو گرو بن رہا ہے اور پوری دنیا اس کی جانب دیکھ رہی ہے اور دوسری طرف موہن بھاگوت بیرونی سازشوں کی بات کرتے ہیں۔ کیا حکومت اور بھاگوت کے بیانات میں تضاد نہیں ہے۔ سچ بات تو یہ ہے کہ 2014 کے بعد سے ہندوستانی ثقافت کو ہندو ثقافت میں رنگنے کی کوشش ہو رہی ہے جس میں حکومت پوری طرح کامیاب ہے۔

یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہندو کیسے حالت جنگ میں ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے مسلمان ہی حالت جنگ میں ہیں اور یہ جنگ 2014 کے بعد سے اور تیز ہو گئی ہے۔ کیا 75 برسوں میں ہونے والے 75 ہزار سے زائد فرقہ وارانہ فسادات، جنھیں فرقہ وارانہ کہنے کے بجائے مسلم مخالف کہا جانا چاہیے، مسلمانوں کے خلاف جنگ کی شکل نہیں ہے۔ کیا مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنا ان کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ کیا سرکاری ملازمتوں میں انھیں آبادی کے تناسب میں جگہ نہ دینا ان کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ کیا ان کی زبان اور ان کی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کی کوشش ان کے خلاف جنگ نہیں ہے؟

یہاں یہ کہنے کی بھی ضرورت ہے کہ مسلمان اس جنگ میں شامل نہیں ہیں۔ ان کے خلاف تو یکطرفہ جنگ لڑی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کے پاس تو اس جنگ میں شرکت کے لیے ضروری ساز و سامان ہی نہیں ہیں۔ وہ یہ سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں کہ وہ یہ جنگ کیسے لڑیں۔ بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ انھیں اس کا علم ہی نہیں ہے کہ ان کے خلاف جنگ لڑی جا رہی ہے۔ موہن بھاگوت کہتے ہیں کہ اس جنگ کی وجہ سے ہندوؤں میں جارحیت آگئی ہے۔ گویا وہ یہ بات کہہ کر ہندوؤں کی جارحیت کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو جنگ میں الجھایا گیا ہے اس کے باوجود ان کے اندر جارحیت نہیں آئی ہے۔ ہاں وہ کبھی کبھار ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت ضرور کرتے ہیں۔ 2014 کے بعد تو انھیں جوکہ ملکی سطح پر پندرہ فیصد ہیں پچاسی فیصد ہندوؤں کے دشمن کے طور پر کھڑا کیا گیا ہے اور ہندوؤں سے کہا جا رہا ہے کہ تمھیں ان لوگوں سے خطرہ ہے۔ لیکن کیا واقعی پندرہ فیصد آبادی پچاسی فیصد آبادی کے لیے کوئی خطرہ بن سکتی ہے۔ ایسا اس لیے کہا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو جو خطرات درپیش ہیں انھیں چھپایا جائے۔ گویا موہن بھاگوت نے بہت سوچ سمجھ کر یہ بیان دیا ہے۔ اس کے بڑے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ ہندوؤں کے ایک طبقے میں جو شدت پسندی آئی ہے اس بیان کے بعد وہ اور شدید ہوگی اور اس طبقے میں جو جارحیت ہے اس میں اور اضافہ ہوگا۔