’بھارت پٹرولیم‘ کو غیر ملکی کمپنی کے ہاتھوں فروخت کرنے کا راستہ صاف !

1

مودی حکومت لگاتار پبلک سیکٹر کمپنیوں کو غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں بیچنے کے لیے راستہ ہموار کر رہی ہے اور اب مرکزی حکومت نے تیل و گیس سیکٹر کی پی ایس یو (پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز) میں آٹومیٹک روٹ سے 100 فیصد ایف ڈی آئی (فورن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ) کی اجازت دے دی ہے۔

اس فیصلہ کے بعد بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) جیسی پبلک سیکٹر کمپنی کو کسی غیر ملکی کمپنی کو بھی فروخت کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل سے بی پی سی ایل کی نجکاری کا راستہ بھی مزید آسان ہوتا نظر آ رہا ہے۔اس تعلق سے ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مودی حکومت نے جمعرات (29 جولائی) کو تیل اور گیس پی ایس یو میں 100 فیصد سرمایہ کاری کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پی ایس یو میں 100 فیصد ’ڈِس انویسٹمنٹ‘ کی اجازت دی جائے گی، جن میں اسٹریٹجک ڈس انویسٹمنٹ کے لیے اِن پرنسپل ایپروول مل گیا ہو۔

اس حکم سے ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کمپنی بی پی سی ایل کی نجکاری کا راستہ آسان ہو گیا ہے۔ حکومت اس کمپنی میں اپنی پوری 52.58 فیصد حصہ داری فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔مودی حکومت کے ذریعہ تیل و گیس سیکٹر کی پی ایس یو میں آٹومیٹک روٹ سے 100 فیصد ایف ڈی آئی کی اجازت دیے جانے کے بعد ایک بار پھر ان اپوزیشن پارٹیوں کو اعتراض کرنے کا موقع مل گیا ہے جو پبلک سیکٹر کمپنیوں کو غیر ملکی ہاتھوں میں فروخت کرنے کے خلاف ہیں۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ آٹومیٹک روٹ سے اجازت دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے کسی خاص طرح کی چھان بین نہیں کی جائے گی۔ اس تعلق سے مرکزی کابینہ نے گزشتہ ہفتہ ہی منظوری دے دی تھی۔ بی پی سی ایل کے لیے تین کمپنیوں نے بولی بھی لگائی ہے جن میں سے دو کمپنیاں غیر ملکی ہیں۔ ہندوستان سے صرف ویدانتا نے بولی لگائی ہے۔