بھارت: حکومت نے متنازعہ ڈیٹا پرائیویسی بل واپس لے لیا

495

متنازعہ ڈیٹا پرائیویسی بل میں کئی انتہائی سخت ضابطے شامل کیے گئے تھے، جس کے تحت نجی کمپنیوں کو اپنے صارفین اور یوزرس کے بارے میں تفصیلی معلومات بھارت سرکار کو دینی پڑتی۔ اسے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نکیل کسنے کے اقدامات کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔ فیس بک اور گوگل جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس بل کی مسلسل مخالفت کررہی تھیں۔

مرکزی حکومت کی طرف سے جاری ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایک پارلیمانی پینل نے مذکورہ بل کا جائزہ لیا جس کے بعد اسے واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ نوٹس کے مطابق پینل نے بل میں کئی ترامیم کی سفارش کی ہے، جس کے بعد ایک نئے اور جامع قانون کی ضرورت کے مدنظر اسے واپس لے لیا گیا اور اب حکومت ایک نیا بل پیش کرے گی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بھارتی وزیر اشونی ویشنو نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ حکومت نے نئے بل کے مسودے پر کام شروع کردیا ہے۔” یہ بڑی حد تک تیار بھی ہوچکا ہے اور اسے جلد ہی عام کر دیا جائے گا۔”ویشنو کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ سن 2023 کے پارلیمان کے بجٹ اجلاس سے قبل ہی یہ بل تیار ہوجائے تاکہ اس اجلاس کے دوران اسے منظور کرانے کے بعد قانون کو نافذ کیا جائے۔ بجٹ اجلاس بالعموم فروری کی آخری تاریخ کو شروع ہو کر اپریل کے پہلے ہفتے تک چلتا ہے۔

پرائیویسی بل کی کیا ضرورت ہے؟

مودی حکومت کا کہنا ہے کہ پرائیویسی بل کا مقصد بھارتی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔ اس بل کا ایک مقصد ایک ایسے ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام بھی ہے جو ڈیٹا کی حفاظت کرے۔ تاہم بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اس بل کے دفعات کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ ان کمپنیوں کا کہنا تھا کہ ڈیٹا اسٹوریج کے سلسلے میں ان پر کافی بوجھ ڈالا جارہا ہے۔
بھارت کی ٹیکنالوجی پالیسی پر قریبی نگاہ رکھنے والے دہلی کے ایک مشیر پرشانتو رائے کہتے ہیں کہ "یہ اچھی بات ہے کہ حکومت اب ازسر نو بل تیار کرے گی۔ بھارت میں اب بھی پرائیویسی کے متعلق کوئی قانون سازی نظر نہیں آرہی ہے۔ اس کی وجہ سے سے ڈیٹا سے متعلق ضابطوں کو الگ الگ شعبوں کے ضابطوں پر منحصر بنایا جارہا ہے۔ البتہ یہ کام ایک مشترکہ پرائیویسی پالیسی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔”

سابقہ بل کے حوالے سے ایک بڑی شکایت یہ تھی کہ مختلف فریقین کے ساتھ خاطر خواہ صلاح مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بھارتی وزیر ویشنو کا کہنا تھا”یہ عمل بہت طویل نہیں ہوگا کیونکہ پارلیمانی پینل نے اپنے جائزے کے دوران انڈسٹری کی رائے معلوم کی تھی۔”

ڈیٹا کے غلط استعمال کے حوالے سے فکرمندی

حکومت کا کہنا ہے کہ لوگو ں کی پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے لیے اس قانون کی ضرورت ہے۔ حکومت نے کہا کہ بھارت میں حساس نجی معلومات کے غلط استعمال کے حوالے سے فکرمندی کافی بڑھ گئی ہے۔
فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل سمیت دیگر کمپنیاں ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے حکومت کی طرف سے پیش کردہ مختلف ضابطوں پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں اور یہ معاملہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں اکثر کشیدگی کا سبب بھی بنتا رہا ہے۔
سن 2019 میں اس بل کو پیش کرنے کے بعد مرکزی حکومت نے "غیر نجی ڈیٹا” کو ریگولیٹ کرنے کے لیے نئی تجاویز پیش کی تھیں۔ یہ ڈیٹا وہ اطلاعات ہیں جن کے تجزیے کا استعمال نجی کمپنیاں اپنا کاروبار بڑھانے کے لیے کرتی ہیں۔ پارلیمانی پینل نے مشورہ دیا تھا کہ ان ضابطوں کو بھی پرائیویسی بل میں شامل کیا جانا چاہئے۔

اختلافات کی وجوہات

مذکورہ بل میں سرکاری ایجنسیوں کو”بھارت کی خود مختاری کے مفاد میں "ضابطوں سے مستشنیٰ رکھا گیا تھا۔ ڈیجیٹل حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ سرکاری ایجنسیوں کو لامحدود اختیارات اور طاقت دیتا ہے، جس کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔انٹرنیٹ فریڈم فاونڈیشن کے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر اپار گپتا کہتے ہیں،”کئی بڑی اور اہم فکرمندیاں تھیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نیا بل بہتر ہوتا ہے یا نہیں۔”