’بھارت جوڑو یاترا سے آئندہ انتخابات کا رخ بدلنے کا امکان روشن

334

ممبئی/ ناندیڑ:(ایجنسیز) کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں جاری بھارت جوڑو یاترا نے 7 نومبر کی دیر شب مہاراشٹر میں قدم رکھا جہاں اس کا گرمجوشی سے استقبال ہوا۔ حامیوں کے ایک بڑے گروپ کے ساتھ راہل گاندھی گزشتہ دو مہینے سے شہروں، قصبوں، گاؤں، بستیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر تیزی سے آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری، چرمراتی معیشت، خواتین کے خلاف جرم، بحران زدہ کھیت وغیرہ عوامی ایشوز پر لوگوں کی توجہ مرکوز کرنے کے لیے مارچ کر رہے ہیں۔

کامیڈین دَرشن مونڈکر کا کہنا ہے کہ ’’کئی گاؤں یا چھوٹے شہروں میں سبھی عمر کے طبقہ کے لوگ گلیوں، سڑکوں، شاہراہوں یا چھتوں پر راہل گاندھی کا گھنٹوں انتظار کرتے ہیں اور جب وہ انھیں دیکھتے ہیں تو ’راہل، راہل‘ کے نعرے زور و شور سے لگانے لگتے ہیں، مانو کوئی بالی ووڈ سپراسٹار آسمان اترا ہو۔‘‘کانگریس کے ریاستی کارگزار صدر عارف نسیم خان نے کہا کہ راہل گاندھی کے لیے پیار اور تعریف کے سبب بھیڑ بڑی تعداد میں امنڈ پڑتی ہے۔ لوگ ’راہل گاندھی آگے بڑھو، ہم تمھارے ساتھ ہیں‘، یا ’اب کی بار، راہل گاندھی سرکار‘ کے نعروں سے ان کا استقبال کرتے ہیں۔

لوگوں کی یہ محبت راہل گاندھی ہاتھ جوڑ کر اور چہرے پر مسکان کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ریاستی کانگریس سوشل میڈیا کے سربراہ وشال متیموار نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کو آن لائن وسیع رد عمل مل رہا ہے، جس میں فالووَرس، لائک، فارورڈ، کمنٹ، ٹوئٹ کے ساتھ ساتھ لازمی ٹرول بھی بڑھ رہے ہیں۔ متیموار کا کہنا ہے کہ کچھ غلط عناصر کے ذریعہ تیار کردہ سرگرمیوں کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ عوام کی سوچ اب بالکل بدل گئی ہے۔ راہل جی کے ساتھ ’تپسوی‘ جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، جو ملک کی بھلائی کے لیے ایمانداری سے چل رہے ہیں۔

شیوسینا کے قومی ترجمان اور کسان لیڈر کشور تیواری کا کہنا ہے کہ یاوتمال سے 500 خواتین بلڈھانہ جائیں گی، اس کے علاوہ ضلع سے دیگر 100000 لوگ راہل کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بھارت جوڑو یاترا کا حصہ بنیں گے، جس نے واضح طور سے بی جے پی کو ڈرا دیا ہے۔ کشور تیواری نے پیشین گوئی کی کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے ملک ہی نہیں، ریاستوں، عوام اور سیاسی پارٹیوں کو متحد کیا ہے۔ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’مظالم‘ کو ختم کرنے کے لیے جلد ہی یو پی اے کا دور شروع ہوگا۔ عام لوگ انقلاب کے خواہش مند ہیں اور یہ آئے گا۔کرناٹک کی ایک سماجی کارکن کیرتیکا تھارن راہل گاندھی کی یاترا کے لیے کام کر رہی ہیں۔ وہ ان سے ذاتی طور پر مل چکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’میں نے ان میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔ وہ ہر سطح پر سیکھ رہے ہیں، ان کی چاروں طرف سیکورٹی گھیرے کے باوجود عام لوگوں کے لیے ان سے ملنا بہت آسان ہے۔ اکثر وہ بھیڑ سے بات چیت کے لیے چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کو بلاتے ہیں، سبھی کی سنتے ہیں۔ ایک بار جب میں نے ان کو چیخ کر بولا راہل جی… تو وہ مڑے، مسکرائے اور میرے چھوٹے سے گروپ میں شامل ہو گئے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ کرناٹک میں ایک بزرگ خاتون کسان نے راہل کے ہاتھوں میں دھان تھماتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کی دادی (آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی) نے میرے لیے ایک زمین کا انتظام کیا تھا، یہ آپ کو میرا تحفہ ہے۔‘‘ میرے پاس تعریف کے لیے کوئی لفظ نہیں ہے۔ممبئی کے ایک ضعیف کانگریس کارکن ڈاکٹر وی ڈی پاٹل کو لگتا ہے کہ بھارت جوڑو یاترا نہ صرف راہل گاندھی کے لیے، بلکہ پوری 137 سال پرانی پارٹی کے لیے بھی سیکھنے کا ایک بڑا تجربہ رہا ہے، جو اب ’رچارج‘ ہو گئی ہے، اور بے امن سماجی نظام کو ’ری سیٹ‘ کرنے کے لیے اسٹیج تیار کر رہی ہے۔ پاٹل کا کہنا ہے کہ معمولی ٹی شرٹ یا پینٹ پہنے ہوئے ’ولی عہد‘ راہل گاندھی عام بیت الخلاء کا استعمال کرنے سے نہیں جھجکتے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے نظریات کو تھوپنے کی جگہ ’جَن کی بات‘ میں لوگوں کو سننا پسند کرتے ہیں۔