بھارت بند LIVE: سی اے اے-این آر سی کے خلاف ’جنتر-منتر‘ پر مظاہرہ ختم


دہلی: جنتر-منتر پر مظاہرہ ختم، لوگوں کی واپسی کا سلسلہ شروع

دہلی کے جنتر-منتر پر شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف دھرنا و مظاہرہ ختم ہو گیا ہے اور لوگوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ جنتر-منتر پر کئی معزز شخصیات نے لوگوں کو شہریت قانون اور این آر سی کے مضر اثرات کے بارے میں بتائے اور کہا کہ وہ لوگ جو ہندوستانی آئین کو بچانے کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں، وہ قابل قدر اور قابل ستائش ہے۔ مقررین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی جنگ جاری رکھیں کیونکہ آخر میں انھیں فتح حاصل ہوگی۔ مقررین نے خصوصی طور پر ان خواتین کو سلام پیش کیا جنھوں نے گھر سے نکل کر مودی حکومت کے سیاہ قانون کے خلاف علم بلند کر رکھا ہے۔

’جب مودی-شاہ پریشان ہوتے ہیں تو وہ پاکستان کو یاد کرتے ہیں‘

جنتر منتر پر لوگوں کی زبردست بھیڑ اس وقت موجود ہے اور مقررین مودی حکومت کے سیاہ قوانین کی سخت الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ جنتر منتر پر خواتین اور نوجوان طبقہ کی شرکت بہت زیادہ ہے اور حقیقی معنوں میں یہی طبقہ مظاہرے کی قیادت کر رہا ہے۔ نوجوان ’کل لڑے تھے گوروں سے، آج لڑیں گے چھوڑوں سے‘ جیسے نعرے لگا رہے ہیں۔

احتجاجی مظاہرہ کے دوران ایک مقرر نے اپنی بات رکھتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ ’’جب ہندو پریشان ہوتا ہے تو وہ بھگوان کو یاد کرتا ہے، جب مسلمان پریشان ہوتا ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتا ہے، لیکن جب مودی اور شاہ پریشان ہوتے ہیں تو وہ پاکستان کو یاد کرتے ہیں۔‘‘

معروف ہستی اشوک بھارتی نے بھی اس موقع پر لوگوں سے خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سی اے اے و این آر سی مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہندوؤں کے لیے مضر ہے۔ ہندوستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہمیں جنگ لڑنی ہوگی۔ میں ان لوگوں کو سلام کرتا ہوں جو فاشسٹ طاقتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  جے این یو حملے کے خلاف پُر امن مارچ پر پولیس کا لاٹھی چارج

پی ایم مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں بھی دکانیں ہیں بند

پی ایم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں بھی بھارت بند کا اثر صاف دیکھنے کو مل رہا ہے۔ وارانسی کے نئی سڑک، دال منڈی، کپڑا مارکیٹ علاقہ میں اس سیاہ قانون کے خلاف دکانوں میں تالا لٹکا ہوا نظر آ رہا ہے۔

دہلی: شاہین باغ کی سینکڑوں خاتون مظاہرین جنتر منتر پہنچیں

سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ملک بھر میں الگ الگ تنظیموں کے ذریعہ بھارت اعلان بند کا اثر مختلف مقامات پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس درمیان دہلی کے جنتر منتر پر لوگوں کی زبردست بھیڑ جمع ہو گئی ہے۔ دہلی کے شاہین باغ میں مظاہرہ کرنے والی سینکڑوں خواتین بھی جنتر منتر پر مظاہرہ کے لیے پہنچ گئی ہیں۔ بھارت بند کے پیش نظر دہلی سمیت ملک کی بیشتر ریاستوں میں حفاظت کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔


گجرات، یو پی، بہار وغیرہ ریاستوں میں نظر آ رہا بند کا اثر، دکانوں پر لٹک رہے تالے

گجرات کے سورت، اتر پردیش کے مئو اور بہار کے بیگو سرائے وغیرہ علاقوں میں بند کا کافی اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دکانوں پر تالے لٹکے ہوئے ہیں اور کئی مقامات پر بند حامی لوگوں سے پرامن انداز میں احتجاج درج کرتے ہوئے کسی بھی طرح کا بزنس نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ کچھ مقامات پر پولس کے ذریعہ بند حامیوں کو حراست میں لیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔


دہلی: جنتر-منتر پر بھارت بند کی حمایت میں جمع ہو رہے لوگ

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف دہلی کے جنتر منتر میں لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہونی شروع ہو گئی ہے۔ لوگ اپنے ہاتھوں میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف لکھے ہوئے بینر لے کر پہنچ رہے ہیں۔ آج بھارت بند کے پیش نظر جنتر منتر میں جمع ہو کر لوگوں نے مودی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

جھارکھنڈ: چترا میں کیسری چوک جام کر رہے بند حامیوں کو پولس نے حراست میں لیا

بہوجن کرانتی مورچہ اور دوسرے اداروں کی جانب سے بلائے گئے بھارت بند کا جھارکھنڈ میں کئی مقامات پر اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ چترا میں وام سیف کے اراکین نے بند کی حمایت میں مقامی کیسری چوک کو جام کر دیا۔ بعد میں صدر تھانہ پولس نے بند حامیوں کو حراست میں لے لیا۔ احتجاجی مظاہروں اور جلوس وغیرہ کو لے کر شہروں میں چوک-چوراہوں پر سیکورٹی کے سخت انتظام کیے گئے ہیں۔ جگہ جگہ پولس تعینات کی گئی ہے۔

شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف ہندوستان کی کئی ریاستوں میں بند کا اثر

بہار، جھارکھنڈ، مہاراشٹر وغیرہ ریاستوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بند کا اثر صبح کے وقت کئی علاقوں میں دیکھنے کو ملا۔ کئی مقامات پر بند حامی مودی حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے اور انھوں نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بند کی حمایت میں سڑکوں پر آئیں اور سی اے اے و این آر سی قانون کو واپس لیے جانے سے متعلق آواز بلند کریں۔

مہاراشٹر: ممبئی کے کنجور مارگ ریلوے اسٹیشن پر ٹرین روکی گئی

بہوجن کرانتی مورچہ کے ذریعہ 29 جنوری کو شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف بھارت بند کے اعلان کا درجنوں سیاسی، سماجی اور دلت تنطیموں کی حمایت ملی ہے اور کئی مقامات پر اس کا وسیع اثر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ممبئی کے کنجور مارگ اسٹیشن پر بہوجن کرانتی مورچہ کے اراکین نے پٹری پر پہنچ گئے ہیں جس کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ جھارکھنڈ اور بہار جیسی ریاستوں میں بھی اس بند کا اثر دیکھنے کو مل رہا ہے اور دہلی کے جنتر منتر پر آج لوگ بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے والے ہیں۔


یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

HAJJ ASIAN

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔