بھارتی فوجی جوان نے پاکستانی خاتون ایجنٹ کو بھیجے خفیہ دستاویزات، سی آئی ڈی نےگرفتار کیا

1,086

کولکتہ:27۔ جولائی ـ(ایجنسیز)مغربی بنگال باشندہ ہندوستانی فوج کے ایک 24 سالہ جوان شانتیمے رانا کو ایک خاتون ایجنٹ کے ذریعہ ہنی ٹریپ میں پھنسائے جانے کے بعد خفیہ ویڈیو اور دستاویزات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ سی آئی ڈی انٹلیجنس ٹیم نے ملزم کو گرفتار کیا اور تصدیق کی ہے کہ فوج کے اسٹریٹجک اہمیت کے دستاویز اس کے ذریعہ سوشل میڈیا کے ذریعہ سے پاکستان کی ایک خاتون ایجنٹ کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں۔سی آئی ڈی انٹلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل امیش مشرا نے کہا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ راجستھان میں کی جا رہی جاسوسی سرگرمیوں پر آپریشن سرحد کے تحت سی آئی ڈی انٹلیجنس کے ذریعہ لگاتار نظر رکھی جا رہی ہے۔

اس سرویلانس کے دوران پتہ چلا کہ فوج کا جوان شانتیمے رانا سوشل میڈیا کے ذریعہ لگاتار پاکستانی خفیہ افسران کے رابطے میں تھا۔انٹلیجنس-جئے پور کی ٹیم نے جب جوان کی سرگرمیوں پر نظر رکھی تو اسے ’ہنی ٹریپ‘ اور پیسے کے لالچ میں پاکستان کی خاتون ایجنٹ کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعہ فوج کی اسٹریٹجک اہمیت والی جانکاری شیئر کرتے ہوئے پایا گیا۔ 25 جولائی کو شانتیمے رانا کو حراست میں لے لیا گیا۔ امیش مشرا نے بتایا کہ ملزم جوان سے مختلف خفیہ ایجنسیوں نے جئے پور واقع مشترکہ جانچ مرکز میں پوچھ تاچھ کی۔ پوچھ تاچھ کے دوران اس نے کہا کہ وہ 2018 سے ہندوستانی فوج میں ہے اور طویل مدت سے واٹس ایپ چیٹ اور واٹس ایپ آڈیو-ویڈیو کالنگ کے ذریعہ خاتون پاک ایجنٹ کے رابطے میں تھا۔سی آئی ڈی انٹلیجنس ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ جوان کو ہنی ٹریپ میں پھنسانے والی گرنور کور عرف انکیتا نے خود کو اتر پردیش کے شاہجہاں پور کی رہنے والی بتایا اور کہا کہ وہ وہاں ملٹری انجینئرنگ سروس میں کام کرتی تھی۔

ایک دیگر لڑکی نے نشا کے طور پر اپنا تعارف پیش کیا اور کہا کہ وہ ملٹری نرسنگ سروس میں کام کرتی ہے۔ اس نے جوان کو پھسلا کر فوج سے جڑے خفیہ دستاویز اور جنگی ٹریننگ کی ویڈیو مانگی اور بدلے میں موٹی رقم دینے کا وعدہ کیا۔ملزم جوان نے اپنی ریجمنٹ کے خفیہ دستاویز اور ویڈیوز پاکستانی خاتون ایجنٹوں کو سوشل میڈیا کے ذریعہ سے بھیجے۔ اس کے بدلے میں ایک پاکستانی خاتون ایجنٹ نے اس کے بینک اکاؤنٹ میں پیسے بھیجے۔ ڈی جی مشرا نے بتایا کہ ملزم سے پوچھ تاچھ اور موبائل فون کے تکنیکی جائزہ میں باتوں کی تصدیق کے بعد ملزم کے خلاف سرکاری رازداری ایکٹ 1923 کے تحت معاملہ درج کر گرفتار کر لیا گیا ہے۔