مصنفہ: صدف فاطمہ

دنیا کا سیاسی منظرنامہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے خواہ وہ ایشیا ہو یا یورپ۔ سری لنکا اور پاکستان کے سیاسی ماحول میں جو ہنگامہ خیزی ہے وہ تو نظر آ رہی ہے لیکن کچھ ممالک میں بظاہر چھوٹے واقعات بڑے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
بھارت کے سیاسی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلی کو ہم محسوس کر رہے ہیں لیکن اگر ان تبدیلیوں کے بارے میں اظہار خیال کیا جائے تو وہ بظاہر معمولی واقعات اور غیر اہم حادثات کا ایک مجموعہ دکھائی دیتی ہیں۔مثال کے طور پر اگر کسی پیکٹ پر اردو یا عربی لکھی ہوئی ہے اور کوئی نیوز چینل اسے ایک مسئلے طور پر پیش کرے اور اسے وطن مخالف قرار دے تو کیا اس کو اہم گردانا جائے گا؟ ہم اسے سیاسی منظر نامے پر رونما ہونے والا ایک عام واقعہ قرار دے کر پانچ منٹ کی ڈسکشن کے بعد ہی ختم کر دیں گے، ہم تو گوشت فروشوں کی دکانوں پر توڑ پھوڑ اور زبردستی ان کے شٹر گرائے جانے پر بھی خاص برہمی کا ظاہر نہیں کرتے یا حد یہ اظہار کی یہ شکل بیان بازی سے آگے نہیں بڑھتی۔ تازہ ترین واقعہ جو چند دن قبل ہی وقوع پذیر ہوا جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ جے این یو (جواہر لعل نہرو یونیورسٹی) میں رام نومی جیسے موقع پر کینٹین میں نان ویج کیوں دستیاب ہے؟ اس ‘کیوں‘ کی تلاش میں اینٹ پتھر لاٹھی ڈنڈے سب کا استعمال کیا گیا۔ یہ چند مثالیں ہیں، جو پوری شدت کے ساتھ ہماری یادداشت کا حصہ ہیں۔

اگر ان واقعات کو اور ان جیسے نا جانے کتنے ہی لاتعداد واقعات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ اس طرح کے واقعات مسلسل کیوں ہو رہے ہیں؟ آج سے تقریباً 20 برس قبل میں نے جو بھارت دیکھا تھا وہ اس طرح تو ہر گز نہ تھا۔ سورج طلوع ہوتے ہی مائیک پر ہنومان چالیسا اور دیگر بھجن گائے جاتے تھے اور اس کے باوجود گاؤں میں رہنے والے لوگوں کے لیے یہ مسئلہ نہیں تھا حتیٰ کہ رمضان کے دنوں میں سحری سے لے کر فجر کی اذان تک جاری رہنے والی حمد و ثنا سے بھی سونے والوں کی نیند میں کوئی خلل نہیں پڑتا تھا، تو پھر آج آذان، نماز لباس اور کھانا، یہ اتنے اہم اور سنگین مسائل کیسے بن گئے؟ ہر باشعور شخص کے لیے بھلے یہ چند مٹھی بھر لوگ ہی ہوں لیکن در حقیقت یہ مٹھی بھر لوگ نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ایک لائحہ عمل کے تحت کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف چند واقعات نہیں ہیں، جو ہمیں نظر آ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا پروپیگنڈا ہے، جسے ایک سیاسی جماعت ہر ممکن انداز میں پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس جماعت کی کوشش میں جس نے دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دیا ہے، وہ ہے فلمی صنعت اور سوشل میڈیا۔ اس بات کو ممکن بنانے کے لیے کشمیری فائلز جیسی پروپیگنڈا فلم کو منظر عام پر لایا جا سکے یقیناً ماحول کو اس طرح تراشا گیا ہو گا۔ یہ صورت حال ایک دن میں تو ہر گز نہیں پیدا کی جا سکتی تھی۔آپ سمجھیے کہ ہم ایسی قوم ہیں، جن کے لیے فلم کے ڈائیلاگ، اس کی کہانی اور کردار ہماری زندگی میں بھر پور عمل دخل رکھتے ہیں۔ فلمی کرداروں کی نقل سے لے کر ان کی پرستش تک ہم پیچھے نہیں ہیں۔ ایسے میں سینما ایک پروپیگنڈا کے تحت ہندوؤں کے تحفظ، رام ہنومان اور شیو جی جیسے کرداروں کو ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہیرو کی حیثیت دلوانے پر مصر ہیں۔ اگرچہ اس میں کوئی برائی نہیں کہ یہ ہندوؤں کے لیے قابل احترام دیوتا ہیں لیکن اس پروپگینڈے کے پیچھے جو بدنیتی ہے، وہ ہمارے ذہنوں اور سادہ دل لوگوں کی زندگی کو جس طرح متاثر کر رہا ہے، وہ قابل تشویش ہے۔

انٹرٹیمنٹ کے نام پر چلائی جانے والی ان تحریکوں نے سادہ دل عوام کے ذہن کو بدل دیا ہے تا کہ وہ حقیقی اور زمینی مسائل کی جانب نگاہ ہی نا اٹھا سکیں۔ہم اس کی الگ الگ انداز میں تاویل پیش کر سکتے ہیں مثلاً یہ کہ خاص ذہنیت یا مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والےبے روزگاروں کو پیسے دے کر، کچھ لوگ اس طرح کے کام کرواتے ہیں۔ لیکن حالات کا باریک بینی سے مطالعہ کرنے، اپنے گردو پیش پر نظر دوڑانے سے اندازہ ہو گا کہ یہ چند اشخاص نہیں ہیں بلکہ ہمارے ساتھ زندگی گزارنے والے وہ لوگ ہیں، جن کی فکر و نظر زہر آلودہ ہو گئی ہے۔ یہ زہر صرف سیاست دانوں کی تقاریر اور بیانات میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ عام لوگوں کے رویوں میں چیختا ہوا محسوس ہوتا ہے۔اس کی مثالیں ہر دن آپ اپنے پڑوس، اپنے محلے اور اپنے شہر میں دیکھیں گے اور ان واقعات پر سوائے کف افسوس ملنے اور بدلتے ہوئے حالات کا رونا رونے کے آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔