بڑھتی مہنگائی سے آر بی آئی گورنر فکرمند، کیا آئندہ بھی رہے گا بے قابو؟

ممبئی: 22۔ جون۔(ایجنسیز)ہندوستان میں مہنگائی دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اب آر بی آئی گورنر شکتی کانت داس نے بھی فکرمندی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے آگاہ کیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں میں تیزی کے باوجود مہنگائی کی لگاتار اونچی شرح معیشت کے لیے فکر کا باعث ہے۔ آر بی آئی گورنر کے اس بیان سے ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی مہنگائی پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا، یعنی عوام کی پریشانی ہنوز کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے اس مہینے کے شروع میں پالیسی پر مبنی شرح میں 0.50 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔ اس موقع پر آر بی آئی گورنر نے اپنے مذکورہ خدشات کا اظہار کیا۔ بدھ کے روز سنٹرل بینک کے ذریعہ جاری ایم پی سی (مانیٹری پالیسی کمیٹی) کی میٹنگ کی تفصیل سے یہ جانکاری ملی ہے۔ شکتی کانت داس کی صدارت والی چھ رکنی ایم پی سی نے 8 جون کو مانیٹری پالیسی تجزیہ پیش کیا تھا۔ اس میں لگاتار دوسری بار اہم پالیسی پر مبنی شرح ریپو میں اضافہ کیا گیا تھا۔بہرحال، تین روزہ میٹنگ کی جو تفصیلات پیش کی گئی ہیں،

اس کے مطابق گورنر نے کہا ہے کہ مہنگائی کی اونچی شرح فکر کا باعث بنی ہوئی ہے، لیکن معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی کہا کہ مہنگائی سے اثردار طریقے سے نمٹنے کے لیے یہ وقت پالیسی پر مبنی شرح میں مزید ایک اضافہ کے لیے مناسب ہے۔ اس لیے میں ریپو ریٹ میں 0.50 فیصد اضافہ کے حق میں ووٹنگ کروں گا۔ یہ ابھرتی مہنگائی کے حالات کے لیے اور سپلائی مسائل سے متعلق اثرات کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔