Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

بچی کی عصمت دری کی کوشش کرنے والے معمر شخص کو سات سال کی سزا

بریلی، 18 اکتوبر (یو این آئی) اترپردیش میں بریلی کی فاسٹ ٹریک کورٹ نے 75 سالہ ایک معمر کو تین سال کی معصوم کی آبرو ریزی کی کوشش کے الزام میں سات برس کی سزا سنائی۔فاسٹ ٹریک کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج اروند کمار شکلا نے سنیچر کو تھانہ بھمورا کے ایک گاؤں کے اشرف احمد (75) کو معصوم بچی کی عصمت دری کی کوشش کا ملزم قرار دیتے ہوئے سات برس کی قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اشرف احمد پڑوسی کی بچی کو دلار کرنے کے بہانے اپنے گھر کی چھت پر لے گیا اورعصمت دری کی کوشش کرتے ہوئے وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

بریلی، 18 اکتوبر (یو این آئی) اترپردیش میں بریلی کی فاسٹ ٹریک کورٹ نے 75 سالہ ایک معمر کو تین سال کی معصوم کی آبرو ریزی کی کوشش کے الزام میں سات برس کی سزا سنائی۔فاسٹ ٹریک کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج اروند کمار شکلا نے سنیچر کو تھانہ بھمورا کے ایک گاؤں کے اشرف احمد (75) کو معصوم بچی کی عصمت دری کی کوشش کا ملزم قرار دیتے ہوئے سات برس کی قید اور 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ اشرف احمد پڑوسی کی بچی کو دلار کرنے کے بہانے اپنے گھر کی چھت پر لے گیا اورعصمت دری کی کوشش کرتے ہوئے وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔


سرکاری وکیل سریش بابو ساہو نے بتایا کہ معصوم کے باپ نے اشفاق کے خلاف تھانے میں رپورٹ درج کرائی جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی تین سالہ بیٹی پڑوسی میں رہنے والے اشرف کی دکان پر جایا کرتی تھی۔ اشرف اکثر اسے گود میں اتھاکر پیار کرتا تھا لیکن اس کی حرکت کچھ ایسی تھی کہ معصوم کے باپ نے اس بزرگ سے اپنی بیٹی کو بیٹی کو لاڈ دلار کرنے سے منع کررکھا تھا۔اس کے باوجود یکم اکتوبر 2010 کو معولسم کے باپ سے نظر بچارکر اشفاق اسے بندر دکھانے کے بہانے چھت پر لے گیا اور کچھ دیر بیٹی کا باپ بھی لوگوں کے ساتھ چھت پر پہنچ گیا۔ انہوں نے 65 سالہ بزرگ کو عصمت دری کی کوشش کرتے ہوئے پکڑلیا۔ عدالت میں 10 سال تک چلی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے سرکاری وکیل نے 11 گواہوں کو پیش کیا۔ ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر عدالت نے اس واقعہ کو سماج کو چونکانے والا قرار دیا۔

انہوں نے 65 سالہ بزرگ کو عصمت دری کی کوشش کرتے ہوئے پکڑلیا۔ عدالت میں 10 سال تک چلی سماعت کے دوران استغاثہ کی جانب سے سرکاری وکیل نے 11 گواہوں کو پیش کیا۔ ثبوتوں اور گواہوں کی بنیاد پر عدالت نے اس واقعہ کو سماج کو چونکانے والا قرار دیا۔