بچھڑے ہوئے خاندان کا ایسا ملاپ آپ نے کبھی دیکھا یا سنا نہیں ہوگا۔درحقیقت یہ کسی فلم کی کہانی جیسا واقعہ ہے جو چین میں اس وقت آیا جب اغوا کے 33 سال بعد ایک شخص اپنی بچھڑی ہوئی ماں سے ملنے میں کامیاب ہوگیا۔

لی جیانگ وائی کی عمر 4 سال تھی جب اسے چین کے صوبے یوننان میں واقع گھر سے ایک پڑوسی اغوا کرکے ایک ہزار میل دور لے گیا۔اس بچے کو ایک خاندان کو فروخت کیا گیا جس نے اس کی پرورش کی مگر وہ اپنے اغوا کو کبھی نہیں بھولا۔بڑے ہونے پر اکثر وہ اپنے آبائی گاؤں کا نقشہ اپنی یادداشت کی مدد سے تیار کرتا رہتا تھا۔

دسمبر 2021 کے وسط میں 37 سالہ لی نے ایک خاکے کو انٹرنیٹ پر پوشٹ کیا جو اس کے خیال میں اس کے گاؤں کا تھا اور لوگوں سے شناخت کے لیے مدد طلب کی۔

اس کا خیال تھا کہ تلاش میں کئی برس لگ سکتے ہیں مگر اسے فوری طور پر ایسی تفصیلات موصول ہوئیں جس سے وہ گاؤں کو شناخت کرنے اور پولیس کی مدد سے ماں تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا
چینی میڈیا کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں بچھڑے ہوئے ماں اور بیٹے کے ملاپ کو دکھایا گیا۔

ماں سے ملاقات پر جذبات ہوکر لی فرش پر گرگیا جبکہ ماں نے رونا شروع کردیا۔

اس موقع پر ماں نے کہا ‘آخرکار میں نے اپنے بچے کو ڈھونڈ لیا’۔

لی نے بعد میں اپنی ماں اور دیگر رشتے داروں کے ساتھ کھانا کھایا اور وہ نقشہ دکھایا۔

لی کی گمشدگی کے بعد اس کی ماں اسی صوبے میں منتقل ہوگئی تھی جہاں اس کا بیٹا موجود تھا اور ان کے گھروں میں 60 میل کا فاصلہ تھا۔

لی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آبائی علاقے میں جاکر والد کو خراج عقیدت پیش کرے گا جن کا انتقال ہوچکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ نقشے کو آن لائن کرنے کا خیال اس لیے آیا کیونکہ حالیہ عرصے میں برسوں سے بچھڑے بچوں اور والدین کے دوبارہ ملنے کے واقعات سامنے آئے۔