نئی دہلی: ہندوستان میں 12 سے 18 سال کے بچوں کے لئے زائڈس کیڈیلا کی کورونا ویکسین ستمبر سے دستیاب ہونے کی امید ہے۔ ویکسین امور پر تشکیل شدہ ایکسپرٹ کمیٹی کے سربراہ نے یہ عندیہ دیا ہے۔ کورونا کی تیسری لہر میں بچوں پر زیادہ اثر ہونے کے خدشات کے درمیان اس خبر کو راحت والی خبر قرار دیا جا رہا ہے۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، نیشنل گروپ آن ویکسین کے سربراہ ڈاکٹر این کے ارورا نے کہا کہ زائڈس کیڈیلا کی بچوں پر کی گئی آزمائش کے نتائج ستمبر سے قبل دستیاب ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ زائڈس کی ویکسین کو ایمرجنسی استعمال کے تحت کچھ ہفتوں کے اندر ہری جھنڈی دکھائی جا سکتی ہے۔

ہندوستان میں بھارت بائیوٹیک کی ’کوویکسین‘ بھی جلد دستیاب کرائی جا سکتی ہے۔ کوویکسین کا تیسرے مرحلہ کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے اور ستمبر کے آخر تک اس کے پورا ہونے کی امید ہے۔ ایسے حالات میں اکتوبر سے دسمبر یا جنوری فروری کے وسط میں 2 سے 18 سال کے بچوں کی ٹیکہ کاری کا آغاز کیا جا سکتا ہے، تاہم زائڈس کیڈیلا کے آزمائش کے اعدادوشمار پہلے ہی دستیاب ہو جائیں گے۔

ارورا نے کہا کہ ملک میں اسکولوں کو کھلنے سمیت کئی دیگر اہم امور پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے اور امید ہے کہ ستمبر کے اواخر تک ہم اس ویکسین کا استعمال شروع کر دیں گے۔ اگرچہ، بچوں کے امراض سے متعقل انجمن سمیت کئی گروپ یہ کہہ چکے ہیں کہ تیسرے لہر کا بچوں پر اثر ہونے کا امکان غلب بھی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ بچوں کی قوت مدافعت بہتر ہوتی ہے۔ تاہم حکومت کوئی بھی کوتاہی برتنا نہیں چاہتی۔

قبل ازیں، نو تقرر وزیر صحت منسکھ منڈاویا نے صحافیوں سے کہا تھا کہ حکومت ایک نظام صحت سے متعلق پیکیج فراہم کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت ملک کے 736 اضلاع میں بچوں کے علاج کے حوالہ سے مراکز قائم کئے جائیں گے۔ اس کے تحت بچوں کے لئے تقریباً 4 ہزار آئی سی یو بیڈ بھی تیار کئے جائیں گے اور یہ پیکیج 9 مہینے کے اندر جاری کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ دہلی اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کی حکومتیں بھی کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر بچوں کے علاج کے حوالہ سے خصوصی انتظامات کرنے میں مصروف ہیں۔