نئی دہلی، 15 مارچ (یو این آئی) پٹیالہ ہاؤس عدالت نے پیر کے روز بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے معاملے میں ملوث دہشت گرد تنظیم انڈین مجاہدین (آئی ایم) کے رکن عارض خان کو سزائے موت سنائی بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر میں قصوروار ملزم کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس عدالت نے آج سزائے موت سنائی۔ عدالت نے اس کیس کو ‘نادر ترین واقعہ’ قرار دیتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا ۔ عدالت نے 8 مارچ کو ملزم قصوروار ٹھہرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ انکاؤنٹر کے وقت عارض خان موقع پر موجود تھا اور پولس کی گرفت سے فرار ہوگیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اس نے فرار ہونے سے پہلے پولس اہلکاروں پر فائرنگ کی تھی۔ عدالت نے کہا کہ بٹلہ ہاؤس مڈبھیڑ میں پولس ٹیم کے چیف انسپکٹر موہن چندر شرما پر بھی عارض خان نے فائرنگ کردی تھی جس کی وجہ سے اس کی موت ہوگئی تھی۔

دہلی پولس نے عدالت سے عارض خان کو سزائے موت سنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ دہلی پولس کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر پبلک پراسکیوٹر اے ٹی انصاری نے کہا تھا کہ قانون پر عمل کرانے والے افسر پر گولی چلا کر، اسے قتل کیا گیا ہے، جو اپنی ڈیوٹی پر تھے۔ اس لئے اس معاملے میں سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔عدالت نے کہا کہ عارض خان کو آئی پی سی کی دفعات 186، 333، 353، 302، 307، 174 اے اور 34 کے تحت قصوروار پایا گیاہے۔ اسے اسلحہ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت بھی قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

مڈبھیڑ کے بعد تقریبا ایک دہائی تک مفرور رہنے کے بعد اسے فروری 2018 میں دہلی پولس کی خصوصی سیل نے گرفتار کیا تھا۔ ایڈیشنل سیشن جج سندیپ یادو نے کہا کہ استغاثہ نے کافی ثبوت پیش کیے جس پر شبہ نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے کہا کہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ عارض خان اور اس کے ساتھی مڈبھیر میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرنے میں ملوث تھے۔واضح رہے کہ 13 ستمبر 2008 کو دہلی کے قرول باغ، کناٹ پلیس، انڈیا گیٹ اور گریٹر کیلاش میں سیریل بم دھماکے ہوئے تھے جس میں 26 افراد ہلاک اور 133 زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولس کو تفتیش میں پتہ چلا تھا کہ یہ بم دھماکے آئی ایم گروپ نے کیے تھے۔ اس سے قبل 26 جولائی 2008 کو گجرات میں ایک دھماکہ ہوا تھا۔ گجرات پولس نے تحقیقات کرکے اپنی اطلاعات انٹیلی جنس ایجنسیوں کے علاوہ تمام ریاستوں کی پولس کے ساتھ شیئر کی تھیں۔ دہلی پولس کو بھی معلومات شیئر کی گئیں۔ اسی بنیاد پر بٹلہ ہاؤس میں سرچ آپریشن انجام دیا گیا تھا۔ پولس کے مطابق آئی ایم کے 5 دہشت گرد بٹلہ ہاؤس کے ایک مکان میں موجود تھے۔

انکاؤنٹر کے بعد 21 ستمبر 2008 کو پولیس نے کہا کہ اس نے انڈین مجاہدین کے تین دہشت گردوں اور بٹلہ ہاؤس کے مکان نمبر ایل- 18 کے کیئر ٹیکر کو گرفتار کیا ہے۔ دہلی میں دھماکوں کے الزام میں پولس نے کل 14 افراد کو گرفتار کیا تھا۔ یہ گرفتاریاں دہلی اور اتر پردیش سے کی گئی تھیں۔ عارض خان اس واقعے کے بعد 10 سال تک مفرور رہا اور اسے 14 فروری 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سیئر لیڈر دگ وجے سنگھ نے انکاونٹر کو فرضی قرار دیا تھا۔ جبکہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے مڈبھیڑ میں جاں بحق ہونے والے پولس افسر کو شہید قرار دے کر انہیں پس از مرگ انعام سے نوازا تھا۔دوسری جانب، بی جے پی نے ہمیشہ کہا کہ انکاؤنٹر درست تھا اور اس میں مارے گئے تمام دہشت گرد تھے۔ عدالت سے عارض خان کو سزا سنائے جانے کے بعد بی جے نے پی پریس کانفرنس کرکے دگ وجے سنگھ اور سلمان خورشید جیسے لیڈروں سے جواب مانگا۔ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے بھی کہا تھا کہ اگر بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر صحیح نکلا تو وہ سیاست چھوڑ دیں گی، اب جب عارض خان قصوروار ثابت ہوچکا ہے، تو ممتا بنرجی کیا کریں گی؟